بنیادی صفحہ / عالمی / جنوبی بحرِ ہند میں لاپتہ طیارے کی تلاش دوبارہ شروع

جنوبی بحرِ ہند میں لاپتہ طیارے کی تلاش دوبارہ شروع

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکلیس نیوز21مارچ14

جنوبی بحرِ ہند میں ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کے ممکنہ ملبے کی تلاش کی عالمی مہم دوسرے دن دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔تلاش کی اس عالمی مہم میں چار فوجی طیاروں سمیت آسٹریلوی فضائیہ کے دو پی تھری اوریئن طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں۔جمعرات کو آسٹریلوی سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں جنوبی بحرِ ہند میں نظر آنے والے ملبے کا تعلق شاید ملائیشیا کے لاپتہ طیارے سے ہو۔حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم تلاش کے کام میں خلل پیدا کر رہا ہے کہ جس کی وجہ سے رات ہونےپر کام روک دیا گیا تھا۔لاپتہ جہاز کی تلاش آسٹریلوی ساحلی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں تقربیاً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پر کی جا رہے ہیں۔تلاش سمندر میں تقریباً 23000 کلومیٹر کے علاقےمیں کی جائے گی جس میں جلد ہی تجارتی بحری جہاز بھی شامل ہوجائیں گے۔کوالالمپور سے پرواز بھرنے والا یہ جہاز آٹھ مارچ کو لاپتہ ہوا تھا۔ پہلے اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ختم ہوا جس کے بعد یہ ریڈار سے بھی غائب ہو گیا۔جمعرات کو ملائیشیا کے قائم قام وزیرِ ٹرانسپورٹ ہشام الدین حسین نے کہا تھا کہ سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر میں نظر آنے والا ملبہ ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کی طرف ’مصدقہ نشاندہی‘ ہو سکتا ہے۔پرتھ کے جنوب مغرب میں تقربیاً 2500 کلو میٹر کے فاصلے پراس 23000 کلومیٹر کے علاقے کی تلاش میں تجارتی بحری جہاز بھی شامل ہونگے۔اس سے پہلے جمعرات کو اس علاقے میں تلاش کے عمل میں آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ شریک تھے اور حکام مطابق خراب موسم اور اندھیرے کی وجہ سے تلاش کے عمل کو روکنا پڑا تھا۔ملائیشیا کے لاپتہ مسافر طیارے ایم ایچ 370 پر 239 افراد سوار تھے۔ملائیشیا کا کہنا ہے کہ جہاز کا راستہ دانستہ تبدیل کیا گیا تھا اور اب دنیا کے 26 ممالک اس جہاز کی تلاش میں مصروف ہیں اور اسے وسط ایشیا میں قزاقستان سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند تک ڈھونڈا جا رہا ہے۔جمعرات کی صبح آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ملکی پارلیمان کو کہا تھا کہ سٹیلائٹ نے جنوب مغربی بحر ِ ہند میں ملبے کے دو حصوں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر ایم ایچ 370 سے متعلق ہوسکتے ہیں۔

یہ دو ٹکڑے سیٹیلائٹ تصاویر میں دکھائی دیے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑے کا حجم 24 میٹر کے قریب ہے۔یاد رہے کہ اب تک سمندر میں ملنے والے ممکنہ ملبے کے تمام تر امکانات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ادھر ایک برطانوی سیٹیلائٹ کمپنی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دس دن قبل اس بات کے قوی اشارے ملے تھے کہ یہ بوئنگ 777 طیارہ یا تو بحرِ ہند کے جنوبی حصے میں ملے گا یا پھر وسط ایشیا میں اور بحیرۂ جنوبی چین اور آبنائے ملاکا میں اسے تلاش کرنا فضول ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*