بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / یو پی ایس سی مسئلہ پر راجیہ سبھا میں دوبارہ ہنگامہ

یو پی ایس سی مسئلہ پر راجیہ سبھا میں دوبارہ ہنگامہ

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکلیس نیوز/06اگسٹ،14

نئی دہلی/(ایجنسی) راجیہ سبھا میں آج وقفۂ سوالات اتفاقی بن گیا کیونکہ اپوزیشن ارکان نے یو پی ایس سی مسئلہ پر ایوان کے وسط میں جمع ہوکر ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے صدرنشین ایوان کا اجلاس آدھے گھنٹے تک ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ایوان کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا، صدرنشین نے وقفۂ سوالات کا آغاز کرنا چاہا۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، سی پی آئی ایم، سی پی آئی، ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے ارکان اپنی نشستوں سے اُٹھ کر کھڑے ہوگئے اور یہ مسئلہ اٹھانے لگے۔ شوروغل کے مناظر ایوان میں جاری رہے حالانکہ اپوزیشن ارکان نے اس مسئلہ پر مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سی سیاٹ انداز کا امتحان برخاست کردیا جائے اور مطالبہ کیا کہ ابتدائی امتحان تمام زبانوں میں پرچہ سوالات تیار کرکے لیا جانا چاہئے۔ صدرنشین کی وقفۂ سوالات جاری رکھنے کی بار بار پُرخلوص اپیلوں کے باوجود کوئی اثر مرتب نہیں ہوا، اس پر صدرنشین محمد حامد انصاری واضح طور پر برہم ہوگئے اور انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو راجیہ سبھا کی ایک کمیٹی سے رجوع کریں گے تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ وقفۂ سوالات ضروری ہیں یا اتفاقی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ وقفۂ سوالات نہیں چاہتے تو وہ کمیٹی کا اجلاس طلب کریں گے اور اس سے اس مسئلہ کا فیصلہ کرنے کی خواہش کریں گے۔ انا ڈی ایم کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوکر حکومت سے جواب طلب کرنے لگے کہ یو پی ایس سی کے امتحانی پرچے تمل زبان میں بھی شامل کئے جائیں گے یا نہیں۔ کانگریس نے سی سیاٹ طرز کے امتحانات برخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس سے انگریزی ذریعہ تعلیم کے طلبہ کی مدد ہوتی ہے، جبکہ نقصان ہندوستانی زبانوں کو پہنچتا ہے۔ پارٹی ارکان بی کے ہری پرساد اور جے ڈی سیلم نے جن کا تعلق علی الترتیب کرناٹک اور آندھرا پردیش سے ہے، اس مسئلہ پر ناراضگی ظاہر کی۔ شوروغل جاری رہنے پر حامد انصاری نے اجلاس دوپہر تک کیلئے ملتوی کردیا۔ دریں اثناء خبروں کے بموجب یو پی ایس سی کے متعدد امیدوار آج اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور سی سیاٹ امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایک دن قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ امتحان میں انگریزی کے نشانات میرٹ کا فیصلہ کرتے وقت شامل نہیں کئے جائیں گے۔ امیدواروں نے جو سی سیاٹ فارمیٹ کے خلاف شمالی دہلی کے علاقہ مکرجی نگر میں گزشتہ 26 دن سے احتجاج کررہے تھے، اپنا مقام احتجاج جنتر منتر منتقل کردیا۔ احتجاجیوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ مرکز سی سیاٹ امتحان مکمل طور پر برخاست نہ کردے۔ عام آدمی پارٹی قائد یوگیندر یادو بھی احتجاج کے مقام پر موجود تھے۔ سڑکوں پر احتجاج کے آگے جھکتے ہوئے حکومت نے کل اعلان کیا تھا کہ سی سیاٹ دوّم میں انگریزی کے نشانات شامل نہیں کئے جائیں گے اور اس کے بغیر بھی سیول سرویسیس ابتدائی امتحانات کے گریڈ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ محکمہ ڈی او پی ٹی نے کہا کہ اس سلسلے میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں حکومت کا تبدیل شدہ موقف ظاہر کیا جائے گا۔ –

ایک تبصرہ

  1. there is no politics in towing the line of hindi medium students. passing english language for these students is as much a matter of cram up as probably sanskrit in secondary education. they can pass it but can’t dabble in it. irony is that hindi medium students, in higher studies and professional courses as well, spend most of their time in getting comfortable with english language. this tells on their ingenuity to think out of the box. no wonder our higher education has nothing to show in the name of path breaking achievements. i really wonder what stops translation of scientific and technical literature into hindi and other regional languages. the only probable answer is the prevailing bias in favour of english language, which must end- the sooner it happens the better.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*