بنیادی صفحہ / قومی / تبدیلی مذہب اور دراندازی سے آبادی کا توازن درہم برہم، نئی پالیسی تیار کی جائے، موہن بھاگوت کا حکومت سے مطالبہ

تبدیلی مذہب اور دراندازی سے آبادی کا توازن درہم برہم، نئی پالیسی تیار کی جائے، موہن بھاگوت کا حکومت سے مطالبہ

Print Friendly, PDF & Email

ناگپور: راشٹریہ سوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے آبادی کے عدم توازن پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان نے تاریخ میں آبادی کے بگڑے ہوئے توازن کے سنگین نتائج برداشت کئے ہیں۔ انہوں نے آبادی کے اضافہ پر قدغن لگانے کے لئے ایک وسیع تر پالیسی تیار کرنے کی اپیل کی اور سماج کے تمام طبقات کو اس پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بھاگوت نے کہا کہ تبدیلی مذہب اور دراندازی سے آبادی کا توازن درہم برہم ہو رہا ہے، جو انتہائی تشویش کا باعث ہے۔

ناگپور کے ریشم باغ میدان میں بدھ کے روز روایتی وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس کے رضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ آبادی کے عدم توازن کی وجہ سے دنیا کے کئی دوسرے ممالک بھی ٹوٹ گئے اور ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ مشرقی تیمور، جنوبی سوڈان اور کوسوو اس کی مثال ہیں۔

بھاگوت نے مطالبہ کیا کہ حکومت آبادی پر ایک جامع کنٹرول پالیسی تیار کرے۔ انہوں نے کہا، ’’آبادی کی پالیسی کو سنجیدگی سے غور و فکر کے بعد تیار کیا جانا چاہیے اور اسے سب پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس جامع پالیسی سے کسی کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔” بھاگوت نے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کی بھی پرزور وکالت کی اور کہا کہ مرد اور عورت ہر پہلو اور احترام میں برابر ہیں، ان میں یکساں صلاحیتیں موجود ہیں۔

بھاگوت نے وضاحت کی کہ خواتین کا ‘جگت جننی (کائنات کی ماں)’ کے طور پر احترام کیا جاتا ہے لیکن گھر میں ان کے ساتھ ‘غلاموں’ جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا گھر سے شروع ہونا چاہئے اور انہیں معاشرے میں ان کا مناسب مقام ملنا چاہئے۔

مہمان خصوصی پدم شری سنتوش یادو کی موجودگی میں آر ایس ایس سربراہ بھاگوت خواتین کو بااختیار بنانے پر بات کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ سنتوش یادو ایک مشہور کوہ پیما ہیں جنہیں وجے دشمی کے موقع پر مدعو کیا گیا تھا۔ سنتوش آر ایس ایس کی 97 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون مہمان خصوصی تھیں، جنہیں اس طرح کی تقریب میں مدعو کیا گیا۔

بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان کورونا کی وجہ سے معاشی بحران سے تیزی سے باہر آ رہا ہے اور سری لنکا کے سیاسی بحران اور یوکرین جنگ کے دوران ہندوستان کا کردار قابل ستائش ہے۔ بھاگوت نے کہا ’’ان دو واقعات کی وجہ سے دنیا میں ہمارا سیاسی وزن بڑھ گیا ہے۔‘‘

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*