بنیادی صفحہ / قومی / کورونا انفیکشن اب ’اینڈیمک‘ بننے کی راہ پر گامزن، ویکسین ایکسپرٹ کا اندیشہ

کورونا انفیکشن اب ’اینڈیمک‘ بننے کی راہ پر گامزن، ویکسین ایکسپرٹ کا اندیشہ

Print Friendly, PDF & Email

ہندوستان میں کورونا انفیکشن پر کچھ حد تک تو قابو پا لیا گیا ہے (کیرالہ کو چھوڑ کر)، لیکن اب بھی تیسری لہر کے اندیشہ کو دیکھتے ہوئے لوگوں میں خوف کا عالم ہے۔ اس درمیان ویکسین ایکسپرٹ ڈاکٹر گگن دیپ کانگ نے ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے ’اینڈیمسٹی‘ کی جانب بڑھنے کا اشارہ دیا ہے۔ انھوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ انفیکشن مقامی سطح پر زور پکڑے گا اور ملک بھر میں پھیل کر وبا کی تیسری شکل اختیار کرے گا، لیکن اس لہر کی سنگینی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ’پینڈیمک‘ اور ’اینڈیمک‘ میں فرق ہے جسے جاننے کی ضرورت ہے۔

دراصل پینڈیمک اسٹیج میں وائرس لوگوں پر حاوی رہتا ہے اور ایک بڑی آبادی کو اپنی زد میں لیتا ہے۔ دوسری طرف اینڈیمک اسٹیج میں آبادی وائرس کے ساتھ جینا سیکھ لیتی ہے اور یہ ایپیڈیمک (وبا) سے بہت مختلف ہے۔ پینڈینک کے اینڈیمک اسٹیج میں آنے پر وائرس کا سرکولیشن قابو میں رہتا ہے، لیکن بیماری ختم نہیں ہوتی۔ بیشتر بیماریاں ختم ہونے کی جگہ اینڈیمک اسٹیج میں ہی چلی جاتی ہیں۔

ایک خبر رساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو کے دوران ڈاکٹر گگن دیپ کانگ نے ہندوستان میں کووڈ-19 کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری لہر کے بعد ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی متاثر ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایسے میں کیا ہم اس تہائی میں وہی اعداد و شمار اور وہی پیٹرن پا سکیں گے جو ہم نے دوسری لہر کے دوران دیکھا؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کا امکان کم ہے۔ ہم مقامی سطح پر انفیکشن کو زور پکڑتے دیکھیں گے جو چھوٹا ہونے کے ساتھ ملک بھر میں پھیلے گا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے متنبہ کیا کہ کورونا انفیکشن کی تیسری لہر بننے کا امکان موجود ہے اگر ہم نے تہواروں کے درمیان اپنا رویہ نہیں بدلا۔ لیکن اس کا پیمانہ اتنا نہیں ہونے جا رہا ہے جو پہلے دیکھ چکے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*