بنیادی صفحہ / قومی / بلقیس بانو معاملہ: راہل گاندھی کا مودی حکومت پر شدید حملہ کہا- ’پورا ملک آپ کے قول اور فعل میں فرق دیکھ رہا ہے‘

بلقیس بانو معاملہ: راہل گاندھی کا مودی حکومت پر شدید حملہ کہا- ’پورا ملک آپ کے قول اور فعل میں فرق دیکھ رہا ہے‘

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بلقیس بانو معاملہ میں اجتماعی عصمت دری اور قتل عام کے قصورواروں کی رہائی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوت نسواں کی باتیں جھوٹی باتیں کرنے والے ملک کی خواتین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ نیز وزیر اعظم کے قول اور فعل کے فرق کو پورا ملک دیکھ رہا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹوئٹ کیا ’’5 مہینے کی حاملہ خاتون کی عصمت دری اور اس کی 3 سالہ بچی کو قتل کرنے والوں کو ‘آزادی کے امرت مہوتسو’ کے دوران رہا کیا گیا۔ نسوانی طاقت کی بات کرنے والے ملک کی خواتین کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ وزیراعظم صاحب! پورا ملک آپ کے قول و فعل میں فرق دیکھ رہا ہے۔‘‘

اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے گجرات میں بلقیس بانو کے قصورواروں کے استقبال کی ویڈیو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی لوگوں سے خواتین کا احترام کرنے کی اپیل محض ایک قول ہے۔ جبکہ گجرات حکومت کا فیصلہ ‘فعل’ ہے، جو گینگ ریپ کے مجرموں کی باقی سزا معاف کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ‘قول’ کو ‘فعل’ کے ساتھ منسلک کر دیں گے۔

چدمبرم نے کہا، "وزیر اعظم کی لوگوں سے خواتین کا احترام کرنے کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ان کی منتخب شدہ گجرات حکومت گینگ ریپ کے مجرموں کی باقی ماندہ سزا معاف کر دیتی ہے۔‘‘

وہیں، کانگریس پارٹی کی منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں پون کھیڑا نے کہا کہ آزادی کے امرت مہوتسو کے دن گجرات حکومت نے بلقیس بانو کیس کے 11 ملزمان نہیں بلکہ قصورواروں کو جیل سے رہا کر دیا۔ اگر ہم اس کیس اور اس فیصلے کو علیحدہ کر کے نہ دیکھیں تو یہ ایک نمونہ نظر آتا ہے، بی جے پی کی ذہنیت نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کٹھوعہ اور اناؤ، یہ دو سنگ میل ہیں جو سیاست میں موجود لوگوں اور ملک کی تاریخ کو شرمندہ کرتے رہیں گے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ کچھ لوگ اب بھی وزیر اعظم کے منہ سے نکلنے والی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر اعظم نے لال قلعہ کی فصیل سے بڑی بڑی باتیں کیں یعنی خواتین کی حفاظت، خواتین کی عزت، خواتین کی طاقت، اچھے الفاظ استعمال کیے گئے۔ چند گھنٹوں کے بعد گجرات حکومت نے ایک ایسا فیصلہ لیا جو غیر متوقع تھا اور جیسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ عصمت دری کے قصورواروں کو رہا کر دیا گیا۔ پھر آج ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جن کو رہا کیا گیا ہے، ان کی آرتی اتاری جا رہی ہے، ان کا تلک کیا جا رہا ہے۔

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*