بنیادی صفحہ / قومی / اے ایم یو ریسرچ میتھڈولوجی پر سات روزہ ورکشاپ کا آغاز

اے ایم یو ریسرچ میتھڈولوجی پر سات روزہ ورکشاپ کا آغاز

Print Friendly, PDF & Email

اے ایم یو میں رینکنگ پر ریسرچ امور کا بڑا اثر رہا: نائب شیخ الجامعہ
ڈاٹا کے ذریعہ معیاری ریسرچ کی راہ ہموار ہوگی: برگیڈیر سید احمد علی

علی گڑھ22 دسمبر2016: عالمی سطح کے معیار کے مطابق ریسرچ امور انجام دینے کے لیے نئی تکنیک کا استعمال اور مواد کا معروفی انداز میں تحزیہ کرنا ضروری ہے۔ معیاری ریسرچ کے لیے ریسرچ میتھڈولوجی کی معلومات لازمی ہے۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ برگیڈیر سید احمد علی نے ہندستانی ساہتیہ سنسکرتی سنگم علی گڑھ اور اے ایم یو کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے کلب فار شارٹ ایوننگ کورسز کے مشترکہ زیر اہتمام مولانا آزاد لائبریری کے کلچرل ہال میں ریسرچ میتھڈولوجی پر منعقدہ سات روزہ ورکشاپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا۔ انھوں نے کہا کہ ریسرچ کے لیے جدید ذرائع ای میل، گروپ ڈسکشن، ٹیلی فونک ٹاک اور انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ ریسرچ ، ریسرچ مینجمنٹ اور ریسرچ گائڈ کے لیے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں کو ریسرچ میتھڈولوجی سے واقف ہونا چاہئے ۔
اے ایم یو کورٹ ممبر پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ تحقیقی کام اس نوعیت کا ہونا چاہئے کہ وہ سماج کو مثبت پیغام دے سکے۔مہمانِ ذی وقار مولانا آزاد لائبریری کے لائبریرین ڈاکٹر نبی حسن نے کہا کہ ہائی کوالٹی ریسرچ کے معروضی نقطہ نظر اور ژرف نگاہی کی ضرورت ہے اس سے قبل ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ورکشاپ میں عالمی معیار کی ریسرچ کے طریقہ کار کو ماہرین کے ذریعہ پیش کیا جائے گا جو شرکار کے لیے بہت اہم ہوگا۔ تنظیم کے صدر ڈاکٹر جی ایف صابری نے کہا کہ ریسرچ کئی طرح کی ہوتی ہیں لیکن سب سے اہم ریسرچ میتھڈولوجی سے واقف ہونا ہے جس سے ریسرچ کرنے والوں کے مسائل کے حل تلاش کرنے میں آسانی ہوگی۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر شیخ مستان نے کہا کہ سماجی سائنس کے کئی شعبے ایسے ہیں۔جہاں ریسرچ سے حاصل کے گئے نتائج حاشیے پر پڑے افراد کے لیے پالیسی بناسکتے ہیں۔
اس موقع پر نائب شیخ الجامعہ برگینڈیر سید احمد علی نے ڈاکٹر فاطمہ زہرہ کی کتاب ’’ ناری ومرش کے سندربھ میں رانگے راگھوکے ناولوں کا مولنانکن ‘‘، ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی کے افسانوی مجموعہ ’’طلسم‘‘ اور ڈاکٹر تابندہ اقبال کی کتاب ’’گلوبلائزیشن، جینڈر ڈسکریمیشن اینڈویمن ہیلتھ‘‘ کی رسم رونمائی کی گئی۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی اور ڈاکٹر شیرین مسرور نے انجام دیے۔ جبکہ اظہار تشکر ڈاکٹر فاطمہ زہرہ نے کیا۔Audience

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*