بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / معروف اسلامی اسکالر علامہ یوسف قرضاوی کا ہوا انتقال

معروف اسلامی اسکالر علامہ یوسف قرضاوی کا ہوا انتقال

Print Friendly, PDF & Email

قطر:  26 ستمبر، 2022  (ایجنسی) معروف اسلامی اسکالر علامہ یوسف قرضاوی کا انتقال ہوگیا ہے۔ عالم اسلام کے ممتاز ترین عالم دین، صدر عالمی اتحاد برائے علماء اہل اسلام علامہ یوسف القرضاوی انتقال کرگئے۔ شیخ یوسف قرضاوی 9 ستمبر 1926ء کو مصر میں پیدا ہوئے تھے۔ فی الوقت وہ قطر کی راجدھانی دوحہ میں مقیم تھے۔

مصر کے موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی مخالفت کی وجہ سے محمد مرسی کی معزولی کے بعد شیخ القرضاوی پر مصر واپسی پر پابندی عائد کی گئی۔ مسلم دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول اسلامی تنظیم اخوان المسلمون نے 2011 کے ’عرب بہار‘ میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کی وجہ سے سابق صدر مصر حسنی مبارک کا تختہ پلٹ کرنے میں بڑی مدد ملی، وہیں تجزیہ نگاروں کے مطابق شیخ قرضاوی نے بھی اہم رول ادا کیا تھا۔ انھوں نے اس دوران ظالم و جابر حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور اسلامی نظام حکومت کا مطالبہ کیا تھا۔

’عصر حاضر میں علم و فکر کا قبلہ و کعبہ‘

حیدرآباد کے ایک عالم دین مولانا عمر عابدین نے لکھا کہ ’’امام یوسف القرضاوی اب نہیں رہے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ شیخ قرضاوی کو ہم نے عصر حاضر میں علم و فکر کا قبلہ و کعبہ سمجھا۔  وہ اس دور کے حقیقی معنوں میں مجتہد تھے۔ علم و عمل اور جہاد و شہادت کے آمیزے سے ان کا خمیر تیار ہوا تھا۔  ظاہر ہے ان کا متبادل تو دست یاب نہیں ہوسکتا ہے، ہاں مگر ان کے علم و فکر کے وارث پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، جو انہیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھیں گے‘‘۔

دہلی کے سماجی کارکن ابوالاعلیٰ سبحانی نے فیس بک پر لکھا کہ ’’علامہ قرضاوی اسلام اور اسلامی امت کی عظمت کا نشان تھے۔ علامہ قرضاوی کی زندگی صبر وعزیمت کی زندگی تھی۔ علامہ قرضاوی اخوان المسلمون کی ایسی شخصیت تھے جنہوں نے امام حسن البنا شہید سے لے کر آج تک پوری اخوانی تاریخ میں ایک سرگرم اور ایکٹیو رول نبھایا ہے، اسلامی علوم پر جتنی بھی جدید بحثیں ہیں وہ تمام بحثیں علامہ قرضاوی کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہیں‘‘۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*