بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / بنگلورو میں کورونا کی صورتحال انتہائی سنگین مریضوں کے علاج کے لئے فوجی اسپتال مہیا کرانے کے امکان پر غور کیا جائے۔کرناٹک ہائی کورٹ

بنگلورو میں کورونا کی صورتحال انتہائی سنگین مریضوں کے علاج کے لئے فوجی اسپتال مہیا کرانے کے امکان پر غور کیا جائے۔کرناٹک ہائی کورٹ

Print Friendly, PDF & Email

٭……مرکزی حکومت روزانہ 802ٹن آکسیجن فراہم کرے۔
٭……ریاستی حکومت اور بی بی ایم پی صورتحال سے نپٹنے میں ناکام۔
٭……لاک ڈاؤن کے دوران مریضوں کے رشتہ دار دوا کہاں سے لائیں گے۔
٭……لاک ڈاؤن میں لوگوں کو غذا کی فراہمی پر بھی توجہ ضروری۔

بنگلور۔ 28/اپریل (سالارنیوز) کرناٹک میں کورونا وائرس کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے حکومت کرناٹک کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو کرناٹک ہائی کورٹ نے انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے ان کا سخت نوٹس لیا۔ چیف جسٹس ابھئے سرینواس اوکا اور جسٹس اروند کمار پر مشتمل بنچ نے کرناٹک میں کورونا کی صورتحال کو کافی سنگین قرار دیتے ہوئے بدنظمی کے لئے حکومت کرناٹک اور بروہت بنگلور مہانگر پالیکے کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ کورونا وبا کے بعد اسپتالوں میں بستروں، آکسیجن، وینٹی لیٹر اور دواؤں کی کمی خاص طور پر شہر بنگلور کی خراب صورتحال کے لئے عدالت نے حکومت اور بی بی ایم پی کو خوب لتاڑا ہے۔ کرناٹک میں دو ہفتوں پر مشتمل لاک ڈاؤن شروع ہونے سے چند گھنٹوں پہلے ہوئی سماعت میں چیف جسٹس اے ایس اوکا نے تبصرہ کیا کہ عدالت کے سامنے جو حقائق پیش کئے گئے ہیں انہیں دیکھنے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ لاک ڈاؤن سے قبل بعض شہریان بنگلور کی طرف سے دائر کی گئی مفاد عامہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ریاست بھر میں خاص طور پر شہر بنگلور میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کے لئے بستروں کی کمی، آکسیجن کی فراہمی میں رکاوٹ اور اسپتالوں میں وینٹلی لیٹرس کی قلت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں مرکزی حکومت کو یہ ہدایت جاری کی کہ فوری طور پر کرناٹک کو روزانہ 802میٹرک ٹن آکسیجن کی فراہمی کا انتظام کرے۔ عدالت نے اس معاملے کی سماعت 29/اپریل تک ملتوی کرنے سے پہلے شہر بنگلور سمیت کرناٹک کی صورتحال پر متعدد تبصرے کئے۔ عدالت نے کہاکہ شہر بنگلور میں مریضوں کی تعداد جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کے مقابل حکومت کی طرف سے بستروں کو جو انتظام کیاگیا ہے وہ معمولی ہے۔ منگل کی صبح 11:15/بجے تک کا صورتحال تجزیہ پیش کرتے ہوئے ججوں نے بتایاکہ بنگلور میں صرف 74ہچ ڈی یو اور14/آئی سی یو بستر دستیاب ہیں۔ ریاستی حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ بنگلور سمیت ریاست بھر میں کورونا مریضوں کے علاج کے لئے بستروں کی تعداد بڑھانے کے لئے انتظام کرے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل کو ہدایت دی کہ بنگلوراور ریاست کے فوجی یونٹوں کے کمانڈ اسپتالوں میں شہریوں کے لئے کووڈ بستر مہیا کروانے کا انتظام کرنے کی کمانڈنگ آفسروں کو اطلاع دی جائے۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے اس مرحلے میں عدالت کو بتایاکہ اگلی سماعت تک عدالت کو مطلع کیا جائے گا کہ دفاعی کمانڈ کے تحت آنے والے اسپتالوں میں عام شہریوں کا علاج کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ بنگلور میں روزانہ 1471میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے۔ اس میں سے مرکزی حکومت کو روزانہ 802میٹرک ٹن آکسیجن فراہم کرنے کا انتظام فوراً کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس کے باوجود کرناٹک میں 600/میٹرک ٹن سے زیادہ آکسیجن کی قلت رہے گی۔ اس کا انتظام ریاستی حکومت کو اپنے طور پر کرنا ہوگا۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ ریاستی حکومت اور بی بی ایم پی کو پہلے ہی ہائی کورٹ کی طرف سے 22/اپریل کو ہدایت دی گئی تھی کہ کورونا وائرس سے بچنے کی دوا ریمڈیسیور کی دستیابی کے مطابق ڈاٹا عوامی طور پر شائع کرایا جائے۔ لیکن اس میں یہ دونوں ناکام رہی ہیں۔ کل سے لاک ڈاؤن شروع ہونے جارہا ہے ان حالات میں اگر جن کورونا مریضوں کی حالت سنگین ہے ان کے رشتہ داروں سے اگر کہاجائے گا کہ وہ ریمڈیسیور فراہم کریں تو وہ کہاں جائیں گے۔ ریاستی حکومت کو اس صورتحال سے نپٹنے کے لئے فوراً قدم اٹھانا ہوگا۔ اسپتالوں میں بستروں اور آکسیجن کی قلت کے علاوہ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ لاک ڈاؤن کے سبب جو لوگ متاثر ہوں گے ان کی غذا کے انتظامات پر بھی توجہ دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تمام معاملات آئین کی دفعہ 21/کے تحت حق زندگی کا حصہ ہے۔ ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پرائیویٹ اسپتال اینڈ نرسنگ ہومس اسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر ہچ ایم پرسنا نے عدالت کو بتایاکہ شہر میں جتنی دواؤں کی مانگ ہے اس کے مقابل دستیابی صرف 25/فیصد ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مریضوں کو آکسیجن مہیا کروانے کی جتنی مانگ ہے اس کے مقابل 50/فیصد میسر نہیں ہے۔ حکومت نے صورتحال سے نپٹنے کے لئے صوبائی وار روم بنائی ہے لیکن اس سے بھی کوئی مدد نہیں مل پائی۔ بنگلورمیں روزانہ 300/میٹرک ٹن آکسیجن کی قلت درپیش ہے۔ ریاست کے اڈوکیٹ جنرل پربھو لنگا نوادگی نے عدالت کو یقین دلایا کہ اس کے بعد حکومت متعلقہ فریقوں سے بات کرکے جلد از جلد آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

ریاست میں قیادت کی تبدیلی میں الجھن ہنوز جاری ایڈی یورپا کی حمایت میں مہم کا آغاز۔65/اراکین اسمبلی نے حمایت میں دستخط کئے

بنگلورو۔8/جون (سالارنیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کل یہ ...