بنیادی صفحہ / قومی / مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف کانگریس کا ’ہلہ بول‘ جاری، 28 اگست کو دہلی میں عظیم الشان ریلی کی تیاری
علامتی تصویر

مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف کانگریس کا ’ہلہ بول‘ جاری، 28 اگست کو دہلی میں عظیم الشان ریلی کی تیاری

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: کانگریس پارٹی مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف اپنی مہم کو جاری رکھتے ہوئے ‘مہنگائی پر ہلہ بول’ ریلی کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ اس کی اطلاع پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی سی سی کے جنرل سیکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایک بیان جاری کر کے دی۔

جے رام رمیش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ملک کے تمام شہروں میں مہنگائی کے خلاف تقریبات منعقد کی جائیں گی اور اس کے بعد 28 اگست کو دہلی کے رام لیلا میدان پر ’مہنگائی پر ہلہ بول‘ کے نام سے عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں جے رام رمیش نے کہا ’’مودی حکومت کی عوام مخلف پالیسیوں کے خلاف 5 اگست 2022 کو انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے چلائی گئی تحریک نے عوام کے جذبات کی پوری طرح سے عکاسی کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملک گیر جائز احتجاج کو ‘کالے جادو’ کے طور پر بدنام کرنے کی کوشش بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بے روزگاری پر قابو پانے میں بی جے پی حکومت کی مکمل ناکامی سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے احساس کو بے نقاب کرتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا ’’کانگریس پارٹی اس لڑائی کو آنے والے ہفتوں میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف سلسلہ وار احتجاج کی شکل میں آگے لے کر جائے گی۔ کانگریس پارٹی مشاورت کے لیے 17 سے 23 اگست 2022 تک تمام اسمبلی حلقوں کی منڈیوں، خوردہ بازاروں اور دیگر مقامات پر ‘مہنگائی چوپال’ کا انعقاد کرے گی۔ جس کا اختتام 28 اگست 2022 کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان پر ‘مہنگائی پر ہلہ بول’ ریلی کے طور پر ہوگا، جس سے کانگریس کے سینئر رہنما خطاب کریں گے۔ تمام ریاستی کانگریس کمیٹیاں بیک وقت ریاست، ضلع اور بلاک سطح پر ‘مہنگائی پر ہلہ بول – دلی چلو’ پروگرام کا انعقاد کریں گی۔‘‘

جے رام رمیش نے کہا کہ ’’مودی حکومت کی معاشی بدانتظامی کا خمیازہ ہندوستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ دہی، چھاچھ، پیک شدہ کھانے پینے کی چیزوں سمیت ضروری اشیا پر بے تحاشہ ٹیکسوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، جبکہ دوست سرمایہ داروں کو سرکاری املاک کی منتقلی اور بے سمت اگنی پتھ اسکیم کا آغاز روزگار کی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس ان عوام مخالف پالیسیوں کے تئیں لوگوں میں بیداری پھیلانا جاری رکھے گی اور بی جے پی حکومت پر اس کی غلط پالیسیوں کو تبدیل کرنے کے لیے دباؤ بڑھائے گی۔‘‘

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*