بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / میونسپالٹی عمارت پر اردو نام کا تنازعہ: ڈی سی کے فیصلے کے بعد میونسپال میں منعقد ہوئی جنرل باڈی میٹنگ ۔ فیصلے کو چیلنج کرنے کی کہی گئی بات

میونسپالٹی عمارت پر اردو نام کا تنازعہ: ڈی سی کے فیصلے کے بعد میونسپال میں منعقد ہوئی جنرل باڈی میٹنگ ۔ فیصلے کو چیلنج کرنے کی کہی گئی بات

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 30 جون،2022 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  بھٹکل میونسپال پر لگے اردو نام کو ہٹائے جانے کے  ڈپٹی کمشنر کے حکم کے بعد آج  میونسپال کی جنرل باڈی میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں میونسپال صدر سمیت اکثر کونسلروں نے اس فیصلے کی مذمت کی اور اسے اقلیتوں کے خلاف قرار دیا ۔

میونسپال صدر جناب پرویز قاسمجی نے میٹنگ کےبعد  میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج میونسپالٹی کی خصوصی جنرل باڈی میٹنگ بلائی تھی جس میں اکثر کونسلروں نے اس فیصلے کو مائناریٹی مخالف قرار دیا اور اس فیصلے کو اعلیٰ سطح پر چیلنج کرنے کی بات کہی ۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم نے چونکہ  کرناٹکا ایکٹ کے تحت ہی کام کیا ہےاور چونکہ یہ اقلیتی زبان ہے اور یہاں  اس کے بولنے والے  76 فیصد افراد ہیں تو امید ہے کہ ہمیں اس کی اجازت ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون  کے مطابق اگر کسی علاقے میں پندرہ فیصدسے زیادہ  مائناریٹی رہتے ہیں تو ان کے سمجھنے کے لیے سرکاری دفاتر میں ان کی علاقائی زبان کا استعمال کیا جانا درست ہے اور بھٹکل میں اس وقت 76 فیصد مائناریٹی موجود ہے جن کی زبان اردو ہے اس لیے ٹی ایم سی کی عمارت پر اردو نام لگایا جانا کسی طور پر بھی غلط نہیں ہوسکتا ۔

صدر پرویز قاسمجی نے کہا کہ  بھٹکل کی ہائی ٹیک مچھلی مارکیٹ ہو یا پھر میونسپال کے دوسرے شعبے  ہر جگہ اردو نام کی تختیاں لگی ہوئی ہیں  اور اردو کوئی باہر کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ بھی ہندوستان کی ایک بہت ہی اہم اور بڑی زبان ہے ۔

انہوں نے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے  امید ظاہر کی کہ انہیں واپس اردو نام لگانے میں کامیابی ملے گی اور ایک بار پھر میونسپال کی عمارت پر اردو نام لکھا نظر آئے گا۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*