بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / تحقیقاتی ایجنسیاں مرکز ی حکومت کے دباؤ میں ٹھوس ثبوت کے بغیر اقلیتوں پر کارروائی نہ کریں: پی ایف آئی لیڈروں کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف مجلس اصلاح و تنظیم نے جاری کیا اخباری بیان
علامتی تصویر

تحقیقاتی ایجنسیاں مرکز ی حکومت کے دباؤ میں ٹھوس ثبوت کے بغیر اقلیتوں پر کارروائی نہ کریں: پی ایف آئی لیڈروں کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف مجلس اصلاح و تنظیم نے جاری کیا اخباری بیان

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل : 24 ستمبر، 2022  (این آئی اے ، ای ڈی اور پولیس کے ذریعے ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)  کے دفاتر پر چھاپہ ماری اور لیڈروں کی گرفتاری کے پس منظر میں مجلس اصلاح و تنظیم نے  اخباری  بیان جاری کرتے ہوئے  اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسیوں کو اپنی کٹھ پتلی بنا کر اقلیتوں پر کیے جانے والے حملے قابل مذمت ہیں ۔

تنظیم کے جنرل سیکریٹری عبدالرقیب ایم جے کی جانب سے جاری کردہ اس اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی اور سماجی اداروں پر اس طرح کی چھاپہ ماری اور ان کے اہم لیڈروں کی گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں ۔ یہ مسلمانوں اور کمزور طبقات کے خلاف مرکزی حکومت کی یکطرفہ دشمنی اور زور زبردستی والا سلسلہ ہے جو انتہائی نچلی سطح تک پہنچ گیا ہے ۔ اگر تحقیقاتی ایجنسیوں کی طرف سے کسی بھی طرح کے ٹھوس شواہد کے بغیر ایسی کارروائیاں سامنے آتی ہیں تو  پھر اس سے غلط پیغام جاسکتا ہے اس لئے ایسی کارروائیاں جانبداری اور سیاسی مداخلت سے پوری طرح پاک ہونی چاہیے ۔  کھلے عام  نفرت انگیزی ، اشتعال انگیزی ، تخریب کاری اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث مختلف گروہوں کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے والی ان تحقیقاتی ایجنسیوں کے رویہ پر کئی سوال اٹھتے ہیں ۔

اس اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ حزب مخالف ہو، اقلیتیں ہوں یا پھر سماج کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام ہوں اگر وہ اس طرح کی چھاپہ ماری کے ذریعہ ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں تو مجلس اصلاح و تنظیم ایسی ہر کارروائی کی سختی کے ساتھ مذمت کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کو نظر انداز کرکے مرکز کی بی جے پی حکومت  آئندہ انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے سیاسی مفاد پانے کے ایک ہتھیار کے طور پر اقلیتوں پر ظلم اور جبر کا رویہ اپنا رہی ہے ۔ اس پس  منظر میں اقلیتوں کے اداروں پر چھاپہ ماری ، ان کی تنظیموں پر پابندی لگانے اور ان کے اہم لیڈروں کو گرفتار کرنے جیسی کارروائیاں انجام دیتے ہوئے ہندوتوا لابی کو خوش کرنے پر تل گئی ہے ۔ مگر اس طرح آئندہ اقتدار پر قبضہ باقی رکھنے کا اس کا خواب پورا نہیں ہوگا۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت ہر وقت ہر معاملے میں عدل و انصاف سے کام لے ۔ جرم ثابت ہونے پر ہی اقدام کیا جائے ۔ گرفتار کیے گئے ملزمین کو فوری رہا کیا جائے ۔ اور نفرت کا ماحول ختم کرتے ہوئے عوام کے اندر اعتماد پیدا کیا جائے ۔ فرقہ پرستی اور ناانصافی کے خلاف تمام انصاف پسند عوام متحد ہوں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*