بنیادی صفحہ / بھٹکل و اطراف / بھٹکل میں این آئی  اے کی چھاپہ مار کارروائی: پورے شہر میں پولس کا سخت بندوبست:  ممنوعہ تنظیم آئی ایس آئی ایس  کا موڈیول چلانے  کے الزام میں ایک کو کیا گیا گرفتار
علامتی تصویر

بھٹکل میں این آئی  اے کی چھاپہ مار کارروائی: پورے شہر میں پولس کا سخت بندوبست:  ممنوعہ تنظیم آئی ایس آئی ایس  کا موڈیول چلانے  کے الزام میں ایک کو کیا گیا گرفتار

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل: 6 اگست،2021 (بھٹکلیس نیوز بیورو)  قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے آج جمعہ کے روز بھٹکل میں دو مقامات پر چھاپہ مارتے ہوئے ممنوعہ دہشت گرد تنظیم داعش ( آئی ایس آئی ایس) کا موڈیول چلانے اور اس  کے لیڈران کے  ساتھ رابطہ کے الزام میں ایک نوجوان کو گرفتار کر لیاہے  جس کی شناخت جوہر کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ  4 اگست کو کشمیر ، بنگلورو اور مینگلورو میں تین مقامات پر بیک وقت چھاپہ ماری کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران نے کشمیر سے دو بنگلورو سے ایک اور منگلورو سے ایک شخص کو شام کی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس موڈیول چلانے کے الزام میں  گرفتار کیا تھا ۔

این آئی اے ذرائع کے مطابق ایجنسی نے امسال مارچ میں سات معلوم اور بقیہ نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے انڈین پینل کوڈ اور یواے پی اے  کے تحت از خود ایک کیس رجسٹر کیا تھا ۔ اس میں کیرالہ کے محمد امین عرف ابو یحییٰ اور اس کے ساتھیوں کو ٹیلی گرام، ہُوپ اور انسٹاگرام جیسے سوشیل میڈیا چینلوں پر شدت پسندانہ پروپگینڈا، ذہن سازی اور نئے افراد کو اپنی جہادی تنظیم میں شامل کرنے کا ملزم بنایا گیا تھا۔

اس سے پہلے مارچ میں  این آئی اے نے محمد امین، ڈاکٹر رئیس رشید اور مصعب انور کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری اور تلاشی کے بعد ان تینوں کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں آئی ایس آئی ایس کی خلافت کا زوال شروع ہونے کے بعد محمد امین نے مارچ 2020 میں  نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس میں شمولیت کے لئے ہجرت پر ابھارنے اور فنڈ اکٹھا کرنے کے مقصد سے کشمیر کا دورہ کیا تھا اور اس کے لئے اس نے کشمیر کے محمد وقار لون اور اس کے ساتھیوں کا تعاون لیا تھا ۔ سازش کے مطابق وقار لون کو بینک اور ڈیجیٹل ذرائع سے فنڈ بھی ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ اس طرح ہندوستان کے دیگر حصوں کے ساتھ یہ لوگ کشمیر، کرناٹکا اور کیرالہ میں اپنی سرگرمیوں کا جال بچھانے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔

آج کی اس گرفتاری کے تعلق سے پریس ریلیز  جاری  کرتے ہوئے قومی تفتیشی ایجنسی  این آئی اے نے جوہر پر الزام لگایا ہے کہ وہ نقلی آئی ڈیز کے ذریعے ہندوستان میں  ابو حازر  البدری کے فرضی نام کے ساتھ داعش کے مواد کو ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کرنے اور اس کو پھیلانے میں ملوث ہے۔

این آئی اے نے مزید کہا ہے کہ جوہر اس وقت آئی ایس آئی ایس کی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھا جو اس وقت افغان۔ پاک علاقے سے باہر کام کر رہے ہیں  اور انہوں نے ہی اسے ممنوعہ مواد فراہم کرتے ہوئے اس کے پھیلانے کی ہدایات بھی دیں ہیں ۔

اس کے ساتھ ہی این آئی اے نے  دعویٰ کیا ہے  کہ  آج جمعہ کو تلاشی کے دوران بڑی تعداد میں ڈیجیٹل آلات جیسے موبائل فون ، ہارڈ ڈسکس ، ایس ڈی کارڈ وغیرہ ضبط کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ آج بھٹکل میں این آئی اے کی جانب سے دن بھر کی اس  کارروائی کے دوران دو دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ این آئی اے کی ٹیم  اس تعلق سے اپنی تحقیقات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اس چھاپہ مار کارروائی کے  چلتے آج شہر کے مختلف مقامات پر پولس کا سخت بند و بست کیا گیا تھا۔

 

 

 

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*