بنیادی صفحہ / مضامین / حج کا سفر۔۔۔ شرط اول قدم۔۔۔(۱)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی

حج کا سفر۔۔۔ شرط اول قدم۔۔۔(۱)۔۔۔ مفتی محمد رضا انصاری فرنگی محلی

Print Friendly, PDF & Email
 شرطِ اول قدم
موجودہ صدی ہجری کے ایک شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مراد بادیؒ (متوفی۱۳۱۳ھ) کی مجلس سے متعلق ایک روایت جب کبھی حافظے میں تازہ ہو جاتی ہے تو نفس کا سخت محاسبہ کرنا لازم نظر آتاہے، روایت اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ایک نوجوان جو تحصیل علم سے فارغ ہوچکا تھا وقت کے نقشبندی اور قادری شیخ مولانا شاہ فضل رحمنؒ کی خدمت میں گنج مراد آباد (ضلع اناؤ) حاضر ہوا اور ایک نو وارد طالب کی حیثیت سے شاہ صاحبؒ کی مجلس میں خاموشی سے بیٹھ گیا، بزرگانِ طریقت کے دستور کے مطابق شاہ صاحبؒ نے حضار مجلس کی طرف حسب مراتب توجہ فرماتے ہوئے اس نو وارد نوجوان سے بھی استفسار احوال فرمایا "کیوں آئے ہو اور کیا مقصد ہے؟”
نوجوان نے دست بستہ عرض کیا کہ "تحصیل علم سے فراغت حاصل کر لی ہے اب حج کو جانا چاہتا ہوں۔” نوجوان کے اس جواب میں شاید خود نمائی کا شائبہ محسوس ہوا ہو اور بزرگوں کی خدمت میں اس طرح جسارت کرنے پر کچھ تادیب مقصود ہو یا کوئی اور رمز اس کے اندر پنہا ہو جس کو حقیقت شناس ہی سمجھ پائیں گے، بہر حال شاہ صاحب نے ذرا تیز لہجے میں دریافت فرمایا "جانتا بھی ہے کہ سفر حج کی شرط کیا ہے؟”
نوجوان نے دوبارہ جسارت سے کام لیا اور حضرت کے تیور دیکھ کر خاموش ہوجانے کے بجائے بول اٹھا: "جی ہاں”
شاہ صاحب نے پوچھا "بتا! کیا شرط ہے؟”
نوجوان نے برجستہ اور قدرے والہانہ انداز میں جواب دیا: "شرطِ اول قدم آنست کہ مجنوں باشی۔”
حضرت شاہ فضل رحمنؒ ” شادماں ہوگئے اس کے بعد دیر تک اس نوجوان کی طرف ملتفت رہے اور جب نوجوان رخصت ہوا تو بنفس نفیس کچھ دور اس کی مشایعت فرمائی، اور رخصت کرتے وقت اسے گاڑھے کا ایک تھان بھی عطا فرمایا۔
 یہ نوجوان تھا کون؟ ہمارے زمانے کے اور ہم میں سے بہتوں کے دیکھے، ایک بزرگ مولانا محمد شفیع بجنوریؒ جن کے وصال کو دس بارہ برس ہوئے ہیں، جنہوں نے متعدد بار حج کیا، آخری حج میں عین ایام حج میں مکہ معظمہ میں انتقال کیا اور جنت المعلی (مکہ معظمہ) میں مدفون ہوئے۔
 حضرت شاہ صاحبؒ نے گاڑھے کا تھان جو دیا تھا تو خدا ہی جانے یہ ایک سچے عازم حج کو بالآخر اس پاک سرزمین پر منھ لپیٹ کر حشر تک پڑ رہنے کی اشارتاً تلقین تھی یا مجنوں ہونے کی شرط پر عمل کے دعوے دار کو سچا مان کر اس کے جان سے گزرجانے کے وقت کے لئے پہلے ہی سامان کر دیا، آج کون ہے جو اس پر قطعیت کے ساتھ روشنی ڈالنے کی جرات کر سکتا ہے!
محترم مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے فرمایا کہ ان تک اس واقعہ کی روایت جزوی اختلاف سے پہونچی ہے، یہ اختلاف ضرور قابل ذکر ہے۔
ان کی اطلاع کے مطابق جب شاہ صاحبؒ نے مولانا محمد شفیع بجنوریؒ سے پوچھا کہ جانتے بھی ہوکہ شرائط حج کیا ہیں؟ اور مولانا بجنوری نے جواب میں حافظ کا شعر پڑھا:
دررہِ منزل لیلیٰ کہ خطر ہاست بسے
شرطِ اول قدم آنست کہ مجنوں باشی
توشاہ فضل رحمنؒ نے زور سے ایک چیخ ماری اور ایک کیفیت میں ڈوب گئے جب حالت سکر سے حالت صحو میں آئے (باطنی کیفیت رفع ہوئی اور ظاہری حالت عود کر آئی) تو مولانا شفیع بجنوریؒ سے جلدی جلدی فرمانے لگے:
"یہ سب فضول باتیں ہیں، بس شرائط حج وہی ہیں جو فقہائے کرام نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں۔” (یعنی استطاعت، امن راه، بلوغ، اسلام، حریت وغیرہ) مولانا شاہ فضل رحمنؒ ایک جلیل القدر عالم دین بھی تھے، صاحب درس و تدریس بھی اور اپنے وقت کے نقشبندی اور قادری شیخ طریقت بھی جن کا فیض تربیت دور دور تک پھیلا ہوا تھا، ان کی محفل کا چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی ان کے حلقہ ارادت میں ایک سند کی حیثیت رکھتا تھا، شاہ صاحب کو جس کیفیت کے تحت مذکورہ شعر پر وجد سا طاری ہوا؛ اس کی تہ تک عام نگاہوں کا پہونچنا آساں نہ تھا جس کے نتیجے میں یہ اشتباہ پیدا ہوسکتا تھا کہ شریعت نے جو شرائط حج بتائے ہیں ان کی اتنی وقعت نہیں ہے جتنی اس شرط کی جس پر شاہ صاحبؒ نے اپنے "حال” سے مہر ثبت فرمادی ہے؛ اس طرح شریعت کا پہلو دبتا نظر آتا دیکھ کر شاہ صاحبؒ نے اس اشتباہ کو رفع کرنا اور شرعی احکام کو عام ذہنوں کے لئے مقدم اور اہم بتانا ضروری سمجھا اور اپنے "حال” کی تردید اپنے "قال”سے فرمادی۔
 *(جاری)*

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*