بنیادی صفحہ / مضامین / اخلاق ومروت کے پیکر ،عظیم عالم دین و مربی(2)۔۔۔ عبد المتین منیری۔

اخلاق ومروت کے پیکر ،عظیم عالم دین و مربی(2)۔۔۔ عبد المتین منیری۔

Print Friendly, PDF & Email

اخلاق ومروت کے پیکر ،عظیم عالم دین و مربی ،مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی ؒ (  ۲)

تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

مولانا حفیظ الرحمن اعظمی مرحوم کے والد ماجد مولانا محمد نعمان اعظمی علیہ الرحمۃ کا تعلق اعظم گڑھ کے مردم خیز قصبے مئو سے تھا،  جو اب مئو ناتھ بھنجن کے نام سے مستقل ایک ضلع بن گیا ہے، آپ نے اپنے دور کے مایہ ناز اساتذہ  سے کسب فیض کیا، پہلے آپ نے اپنے وقت کے مشہور عالم دین مولانا عبد اللہ غازیپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دینی علوم حاصل کئے، جس کے بعد آپ شیخ الکل میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ کی چوکھٹ پر  حاضر ہوئے اور آپ سے علم حدیث کی منتہی کتابیں پڑھیں، آپ نے ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سے   دیوان متنبی اور مقامات حریری پڑھی تھی ۔ آپ کے بھائی  مولانا حامد مرحوم بھی میاں صاحب کے شاگرد تھے۔ ۱۹۰۷ ء میں  آپ کو جمعیت اہل حدیث کا  صدر اور مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ کو نائب صدر منتخب کیا گیا۔ فراغت کے بعد آپ نے جامعہ احمدیہ دربھنگہ میں بحیثیت مدرس خدمات انجام دیں۔

۔۱۹۲۸ء میں آپ  نے عمرآباد کا رخ کیا،  بنارس ، کلکتہ  ، دہلی اور مدراس ہوتے ہوئے عمرآباد پہنچتے پہنچتے چار دن لگ گئے تھے، اب بھی عمرآباد کوئی ترقی یافتہ۔۔ قصبہ نہیں ہے، اس زمانے میں تو  یہ بہت ہی پس ماندہ تھا، ماحول اور موسمو ں کی تبدیلی کی وجہ سے عجیب عجیب مشکلات کا آپ کو سامنا کرنا پڑا، جن کھانوں کے بچپن سے عادی تھے ، یہاں نہ دارد، یہاں کے لوگ چاول کے عادی تھے، گیہوں کی شکل سے نا واقف تھے، قحط کے دنوں میں چاول ناپید ہوا، انگریز سرکار نے گیہوں مہیا کیا تو وہ اسے چاول کی طرح ابال کر پکانے لگے، اور گھنٹوں بعد بھی ان کی دال نہیں گلی تو ہانڈی ہی تو ڑ پھوڑدی، کولمبس نے آنکھ بند کرکے امریکہ تلاش کرلیا، مگر  (آپ کے   ) والد صاحب کو گیہوں کا آٹا تلاش کرنے میں ایک مدت بیت گئی، بنگلور کے ایک دکا ن دار مولوی عبد الغفور صاحب نے آپ کی یہ مشکل حل کی اور وہاں سے آنے والوں کے ہاتھوں گیہوں کا آٹا بھیجتے رہنے کا انتظام کیا (میرےاساتذہ۔ ۲۷ ) ۔ ۱۹۵۱ء میں آپ کے والد ماجد اللہ کو پیارے ہوئے۔اپنے دور کے اہل قلم محققین میں سے خاص طور پر آپ کے مولانا غلام رسول مہر ؒ وغیرہ جیسی شخصیات سے  مراسلات کے مراسم رہے۔

مکتب کے بعد مولانا حفیظ الرحمن صاحب نے مولانا  قاری عبید اللہ عمری ؒ سے حفظ قرآن کا آغاز کیا، حفظ قرآن میں آپ کے پایہ کے حفاظ کرام شاذ ونادر پائے جاتے تھے، جامعہ دارالسلام نے آپ کو خاص طور پر حفظ قرآن اور قراء ت کی تربیت کے لئے پانی پت کے قاریوں کی خدمت میں بھیجا تھا، آپ ہی نے عمرآباد میں حفظ قرآن کا شعبہ قائم کیا، جو پختگی حفظ میں اپنے دورکے دوسرے مراکز تحفیظ سے اپنی ایک الگ شناخت رکھتا تھا، آپ بچوں کو جہاں سورتوں کے آغاز سے قرآن یا د کرواتے تھے تو وہیں حفظ کی پختگی کے لئے نیچے سے اوپر کی ترتیب سے بھی ازبر کرواتے تھے، جو کہ بہت ہی دشوار کام تھا، اور بڑی تگ ودو کے بعد ہی  اس میں مہارت حاصل ہوتی تھی، آج کا تو ہمیں علم نہیں ، لیکن قاری  صاحب کے شاگرد حافظ سید شبیر عمری ؒ مرحوم اس روایت کو زندگی بھر سنبھالے ہوئے تھے، حفظ قرآن کے مسابقات میں آپ خاص طور پر ممتحن بناکر مدعو کئے جاتے تھے، اور جب  بیسویں  آیت، انیسویں آیت، اٹھارویں آیت  کی ترتیب سے سوال پوچھتے تو متسابقین کے پسینے چھوٹ جاتے تھے۔

۔۱۹۷۰ء میں جب ہمارا اعلی تعلیم کے لئے مدراس  (چنئی   ) جانا ہوا، تو پہلے پہل یہاں سالانہ کل ہند حفظ قرآن کے مقابلوں کا علم ہوا، ہماری معلومات کی حد تک بنگلو ر میں کمبل پوش درگاہ کے عرس کے موقعہ پر ہونے والا حفظ قرآن کا مقابلہ ان میں  قدیم ترین تھا، اس کے بعد آنیکارعبد الشکور آڈیٹوریم ، نیو کالج چنئی  کے مقابلہ کا نام  تھا، پھر کالیکٹ میں ہمارے بھٹکلی احباب کے قائم کردہ انجمن تحفیظ القرآن کا مقابلہ تیسرا تھا، ۱۹۷۱ء میں نیو کالج میں جو مقابلہ ہواتھا، اس کا منظرابھی تک ذہن میں تازہ ہے، عمرآباد سےنوعمر  حافظ قرآن  سید سعید بن امین عمری نے اس میں اولین پوزیشن حاصل کی تھی، جس طرح ممتحنین نے اس  حافظ قرآن  کو رگیدا تھا، اور کراس سوالات کئے تھے، اور باوجود اس کے اس نے  ایک بھی غلطی کے بغیر درست جوابات دئے تھے، تو شدت جذبات سے کئی ایک حاضرین کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔ اس زمانے میں نیو کالج میں مصری حکومت کی جانب سے ایک پروفیسر عربی زبان سکھانے کے لئے تعیینات تھے، یہ وہ دور تھا جب تلاوت اور حفظ قرآن میں مصری قاریوں او ر حافظوں کا طوطی بولتا تھا،  ازہر شریف میں داخلہ کے لئے حفظ قرآن شرط ہوا کرتی تھی۔ شدت جذبات میں آنسو بہانے والوں میں یہ مصری پروفیسر بھی شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ حفظ  قرآن اور قراءت میں مصر کو عالم اسلام میں امتیازی مقام حاصل ہے، لیکن وہاں بھی حفظ قرآن  پر قدرت کا ایسا مظاہرہ میں نے نہیں دیکھا۔ مرحوم نے مولانا عبید اللہؒ کے پاس نصف قرآن حفظ کیا پھر آپ نے پرنام پیٹ میں ایک اور مایہ ناز استاد مولانا محمود  الحسن معدنی مرحوم کے پاس حفظ قرآن مکمل کیا۔ آپ حفظ قرآن میں قاری عبید اللہ کے اولین شاگرد تھے۔

2022-05-26

 ( جاری )

WA:00971555636151

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*