بنیادی صفحہ / مضامین / وطن سے دور اہل بھٹکل کی عیدیں (۲) یاد گار ثقافتی وادبی عید ملن پروگرام۔۔۔ عبد المتین منیری

وطن سے دور اہل بھٹکل کی عیدیں (۲) یاد گار ثقافتی وادبی عید ملن پروگرام۔۔۔ عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

سنہ ۱۹۸۰ کی دہائی کے آغاز میں یہاں پردیس میں بھٹکلی احباب کا جماعتی نظام کچھ دنوں بحران کا شکار رہا، اس دوران ہماری نسل کےافراد بھی یہاں کے اجتماعی نظم سے جڑ گئے، جس کے بعد جماعت کی نشات ثانیہ کا ایک نیا دور شروع ہوا،اور ایک نئے ولولے کے ساتھ یہاں پر اجتماعی زندگی کا آغاز ہوا، مدرسہ اور اسٹڈی سرکل فعال کئے گئے، اور ذمہ داران کو خیال آیا کہ سالانہ عید ملن پروگراموں کا انعقاد ایک اجتماعی ضرورت ہے، وطن میں اہل وعیال سے دور پر دیس میں بسنے والوں کو یہ پروگرام ثقافتی، تہذیبی اور اجتماعی طور  پر جوڑنے کے لئے پل کا کام انجام دے سکتے ہیں۔

 انہی دنوں مشہور نعت گو شاعر پروفیسر جلال کڑپوی مرحوم ہمارے فلیٹ خلفو محل میں مہمان تھے، اسلامیہ کالج وانمباڑی سے رٹائرمنٹ کے بعد آپ نے پنگنور (آندھرا ) میں  دارالعلوم سبیل السلام  کی بنیاد ڈالی تھی، آپ کے اہل بھٹکل سے دیرینہ روابط  و مراسم تھے، مدراس  (  چنئی) میں آپ کی طالب علمی کے دور میں بھٹکل کے  صاحب خیر تاجر شمس الدین باشا شابندری پٹیل نے آپ کی سرپرستی کی تھی، آپ کا تبلیغی جماعت سے بھی دیرینہ تعلق تھا، اور بھٹکل میں تبلیغی کام کو ابتدا میں متحرک کرنے والوں میں آپ بھی  شامل تھے، سنہ ۱۹۶۰ء کے اوائل میں آپ نےانجمن  ہائی اسکول بھٹکل  کے طلبہ واساتذہ کی ایک جماعت نکالی تھی، جس نے طلبہ و اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کو آپ کا گرویدہ بنادیا تھا، جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے اجلاس اول ۱۹۶۷ء میں آپ بحیثیت مہمان خصوصی  شریک تھے اور اس وقت جامعہ کے لئے ایک  دعائیہ نظم کہی تھی جس کے اولین شعر تھا :۔

ہو عمر تیری جامعہ اسلامیہ دراز۔۔۔ قائم رکھے ہمیشہ تجھے رب کارساز

اس زمانے میں آپ کی ایک نعت ( وہ آمنہ کا لخت جگر کیا سے کیا ہوا )   مقبول عام ہوئی تھی۔ اسے مقبول بنانے میں میرے ماموں محمد قاسم حافظ مرحوم کا  بھی بڑ اہاتھ تھا، مرحوم  بڑی خوبصورت آواز میں اسے گاتے تھے، چونکہ اس وقت ریڈیو اور ٹیب ریکارڈ   عام نہیں ہوئے تھے، لہذا اچھی آواز کے افراد سے کلام  سننے کا رواج عام تھا،  آپ سے لوگ باربار یہ نعت سنانے کی فرمائش کرتے تھے ، فارغ اوقات میں وہ بھی بلند آواز سے اسے گاتے رہتے تھے، یہ نعت اس وقت  بھٹکل کے بچے بچے کی زبان پر تھی۔ جلال کڑپوی مرحوم کی موجودگی ایک نعمت مرقبہ ثابت ہوئی، مورخہ ۵؍ شوال ۱۴۰۵ھ مطابق ۲۲ ؍جون ۱۹۸۵ء  دبی میں اہالیان بھٹکل کا عید ملن پروگرام مسجد بن دلموک کے پیچھے اس عمارت کی ٹیریس  ( چھت ) پر منعقد ہوا، جہاں گلشن محل، گلستان محل اور گلزار محل ہوا کرتے تھے،شاید  شروع کرنے والوں کا اخلاص تھا کہ یہ ایک تاریخی عید ملن بن گیا۔

محتشم عثمان حسن مرحوم  کی تلاوت کلام پاک اور استقبالیہ کلمات کے بعد صدیق محمد جعفری مرحوم نے رمضان مبارک اور عید کے پیغام پر نصیحت آموز باتیں پیش کی تھیں،مہمان خصوصی پروفیسر جلال کڑپوی مرحوم نے اس میں اپنی مقبول نعت( کتنے اچھے اپنے رسول) اور اپنا  دوسرا مقبول  کلام سنایا تھا۔

آج  قوم محمد حسن معلم مرحوم کا نام یاد نہیں رکھتی، بھٹکل کے چوٹی کے شاعر تھے،اس طرح محمد علی پرواز، محمد صلاح الدین وقار کوبٹے، محمد محمود ارمان وغیرہ بھی تھے جو سبھی اب اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔بھٹکل کے ان سبھی شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا تھا ،  عید ملن کو  مکمل سنجیدہ   ماحول سے روکنے کے لئے وقفہ وقفہ سے الصدیق اسلامک اسکول کے ٹیچر محمد اشفاق نے ممکری پیش کرکے لوگوں کو ہنسایا تھا۔

اس زمانے میں اجرت پر اسٹیج تیار کرنے، پردے لگانے، الکٹرک سیٹ کرنے کا تصور نہیں تھا، کیمونیٹی کے افراد ہی کھڑے ہوکر سبھی انتظامات کرتے تھے، اس وقت بلڈنگ کےرہائشیوں نے بھی بڑے ولولے کے ساتھ تعاون کیا،ان میں خصوصیت سے محمد ناظم محتشم منڈے، محمد علی رکن شیپائی، اورباہرسے سید علی مدراسی مرحوم کا نام یاد آرہا ہے ، ان کے ساتھ ناچیز اور محمد ابراہیم قاضیا بھی شریک رہے،عبدالباری محتشم  بھی ساتھ ساتھ رہے، بعد کے سالوں میں محمد میراں اسماعیل بھی  ان پروگراموں میں بڑی دلچسپی لیتے رہے، آئندہ ایک طویل عرصہ تک عید ملن میں زیادہ تر  یہی حضرات آگے آگے رہے۔

دبی میں اہالیان بھٹکل کی سالانہ عید ملن کی روایت کی ابتدا یہیں سے  ہوئی، ان پروگراموں میں  اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ عید کے پہلے ہفتے میں برادری کے جملہ احباب کو کہیں  یکجا کرنے کانظم  ہو، جس میں  دینی پیغام، شعر وشاعری اور مزاح پر مبنی جامع دینی و ثقافتی پروگرام ترتیب دیا جائے،ان میں حاضرین کو دعوت عشائیہ بھی دی جاتی تھی۔ آپسی محبت الفت اور یگانگت کا زمانہ تھا، شہرت وناموری سے زیادہ اہالیان وطن  کےذہنوں میں  اپنی تہذیب وثقافت سے جوڑنے اور مل بیٹھ کر خوشیاں بانٹنے کی فکر غالب رہتی تھی۔

دوسرا عید ملن پروگرام ۱۴ شوال ۱۴۰۶ھ مطابق ۲۰ جون ۱۹۸۶ کو اسی ٹیریس پر منعقد ہوا،اس کا آغاز مدرسے کے استاد حافظ شبیر ڈانگی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا تھا، جس کے بعد مدرسے کے نونہالان نے پروگرام پیش کیا تھا، صلاح الدین کوبٹے، محمود ارمان ،  محمد علی پرواز نے اپنے نائطی کلام سے محظوظ کیا تھا، پرواز صاحب نے اس میں سامعین کے  اصرار پر،پردیس میں ہجرت کے کرب کو بیان کرنے والی آپ کی  معرکۃ آراء نظم  (زرا پلا تمیں چڑواں ہاری  ) پیش کی تھی، پرواز صاحب نے غضب کا ترنم پایا تھا، چالیس سال گزرنے کے باوجود آج بھی ان کی یہ نظم جب کانوں میں پڑتی ہے تو آنکھوں سے چند قطرے گرنے کو بے تاب ہوجاتے ہیں۔

 اس پروگرام کے حسن کو دونوجوانوں محمد شفیع سکری اور محمد اشفاق سکری کی جوڑی نے اپنی مزاحیہ میمکری اور لطیفوں سے چار چاند لگادئے تھے، محمد اشفاق سکری ہنسی بکھیر کر مختصر عرصے بعد عالم نو جوانی میں ہی ایک سڑک حادثہ میں اللہ کو پیارے ہوگئے، اور اپنے چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ گئے، اس پروگرام میں سیف اللہ شابندری ( چرکن ) مرحوم نے بھی اپنی زندہ دلی سے محفل کو مرغزار بنایا تھا۔

 اس طرح عید ملن کے نام پر سالانہ ثقافتی، ادبی وتفریحی پروگراموں کا سلسلہ چلتا رہا، ۱۹۸۹ء کا عید ملن عید الاضحی کے بعد منعقد ہوا،یہ اپنی نوعیت کا منفرد پرگرام تھا، کیونکہ یہ اردو نائطی مشاعرہ پر مشتمل تھا، اور اس میں شرکت کے لئے پہلی بار بھٹکل سے اردو و نائطی کے تین عظیم شاعروں کوخاص طور پر دعوت دی گئی تھی۔

پروگرام کا آغاز حافظ ارشاد احمد صدیقی صاحب کی تلاوت سے ہوا تھا، اس پروگرام میں جناب سید عبد الرحیم  ارشاد مرحوم نے کوکڑو، ونتی پائی، وغیرہ نائطی زبان کے اپنے  شاہ کار پیش کئے، ارشاد مرحوم نائطی زبان کے عظیم ترین مانے جاتے ہیں، آپ کی ادارت میں پندرہ روزہ نقش نوائط ممبئی سے نصف صدی پیشتر جاری ہوا تھا۔ بھٹکل کے اولین پروفیشنل جرنلسٹ تھے، الکتاب کے نام سے ایک انگریزی ماہنامہ بھی آپ نے جاری کیا تھا۔

عید ملن کے دوسرے مہمان محمد حسین فطرت تھے، جو اردو کے عظیم شاعر تھے، حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒ جیسی عظیم شخصیات آپ سے فرمائش کرکے کلام سنتی اور سر دھنتی تھیں۔

عید ملن کے تیسرے مہمان پیام سعیدی تھے، جو آج کل صاحب فراش ہیں، پوری زندگی ممبئی میں گزاری، آپ کا شعری مجموعہ الفاظ شائع ہوچکا ہے، ایک زمانے میں آپ کی لکھی ہوئی قوالیوں اور گانوں کی دھوم تھی۔

اس پروگرام کے ذریعے دبی میں پہلی مرتبہ ایک اورمقبول نائطی شاعر بائیدا شبیر مرحوم  اپنے کلام کے ذریعہ سامنے آئے تھے۔دوسرے شعرا میں سید ابو بکر مالکی، محمد عرفان محتشم  قابل ذکر ہیں،  محمود ارمان ، محمد حسین باشا  دامودی نے دوسروں کا کلام پیش کیا تھا۔

اس کے بعد ایک یادگار عید ملن پروگرام  ۳مئی ۱۹۹۰ء کو منعقد ہوا تھا،جس کا آغاز مولانا محمد طلحہ رکن الدین نواب ندوی کی تلاوت کلام سے ہوا تھا۔یہ عید ملن اس طرح سے تاریخی تھا کہ اس میں بھٹکل کے تین نامور شعراء جناب محمد حسین فطرت، سید اسماعیل حسرت بھٹکلی ، اور جناب سید عبد الرحمن باطن  صاحب کو خاص طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

باطن صاحب بھٹکل کے نامورمدرس، استاد شاعر اور خوبصورت آواز کے مالک ہیں، اس زمانے میں موصوف دمام سعودی عرب میں ایک اسکول میں پڑھاتے تھے، آپ نے اس عید ملن مشاعرہ کی نظامت کی۔ اور بڑی زندہ دلی کا مظاہر ہ کیا، حسرت بھٹکلی کا شمار بھی بھٹکل کے نامور اردو شعراء میں ہوتا ہے، نائطی زبان میں دلہن کے لئے منڈپ پر گائے جانے والے  آپکے کئی ایک  گیت  (  جلؤو) مقبول ہوئے۔ جوانی ہی میں اللہ کو پیارے ہوئے۔

اس عید ملن مشاعرے میں  مہمان شعراء کے علاوہ مقامی شعراء میں سے محمد علی پرواز، رحمت اللہ راہی ، محمد صلاح الدین کوبٹے وقار، سید ابوبکر مالکی، محمد صادق اسرمتا، اورحافظ عبد الرحمن کیف اکرمی صاحبان قابل ذکر ہیں۔

وطن کے پرفتن حالات اور اور فسادات کے ماحول میں ۱۹۹۲ء سے ان پروگراموں کا انعقاد مناسب نہیں سمجھا گیا۔ پھر

۔۱۹۹۵ء میں سینٹ جورج ہوٹل کے پڑوس میں بلڈنگ کے ٹیریس پر ایک عید ملن منعقد ہوا، جس کا آغاز مدرسہ کے طالب علم  محمد ایوب بن ابراہیم قاضیا  کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس جلسہ کی نظامت بھٹکل کے جانے مانے اناونسر اور ٹیچر محمد زبیر چمپا مرحوم نے کی تھی۔ اور اپنے لطیفوں سے خوب گدگدایا تھا، مہمان خصوصی کی حیثیت سے جناب محمد حسن ملا (  مرحوم) سابق ناظم جامعہ اسلامیہ بھٹکل ، اور مولانا عبد العلیم قاسمی  (نائب ناظم  جامعہ اسلامیہ بھٹکل  )، مدیر نقش نوائط و حال صدر جامعہ نے شرکت کی اور اپنے قیمتی  تاثرات سے نوازا، قوم کے ایک دانشور جناب سعدا محی الدین سعدی مرحوم نے دبی  میں طویل  ملازمت سے فراغت اور وطن واپسی کے موقعہ پر اپنے تاثرات پیش کئے، قوم کی ایک خوش مزاج شخصیت اور میمکر ی میں ماہر جناب محمد حسین مصباح مرحوم نے لطائف اور میمکر ی سے محفل کو مرغزار بنایا، اورمولانا سراج الدین ندوی مدیر اچھا ساتھی بجنور، اور حافظ عبد الرحمن  کیف اکرمی، اور صفدر ہادی  (  حیدرآدی ) نے اپنا کلام پیش کیا۔

۔۱۹۹۷ء  میں ایک عید ملن جناب سید ابو بکر مالکی صاحب کی نظامت میں منعقد ہوا، جہاں ناظم پروگرام نے اپنے اشعار اور لطیفوں سے اس محفل کو مسرت اور شادمانی سے بھر دیا، وہیں جناب محمد حسین مصباح مرحوم نے بھی اپنی میمکری اور لطائف سے ہنسی کی فوارے چھوڑے۔

 اس طرح مختلف رہائش گاہوں میں کفایت شعاری سے عید ملن پروگرام خوشیاں بکھیرتے رہے، یہاں تک کہ    ان رہائشی جگہوں پر حاضرین کے لئے گنجائش ختم ہوتی گئی، تو سنہ ۲۰۰۱ء میں کریک پر واقع دبی کے پہلے فائیو اسٹار ہوٹل انٹرکونٹیننٹل میں  عید ملن پروگرام رکھا گیا، اور اس میں مدرسے کے طلبہ کے پروگرام پر خصوصی توجہ دی گئی، اور انہیں قیمتی تشجیعی انعامات سے نوازا گیا  ، اس عید ملن کے کنونیر مولانا محمد طلحہ رکن الدین الدین ندوی ، اور شریک کنوینر مولانا حافظ ارشاد احمد صدیقی تھے۔  اس زمانے میں قائد قوم جناب سید خلیل الرحمن سی اے صاحب گلداری کمپنی کے مینیجنگ ڈائرکٹر ہوا کرتے تھے، یہ ہوٹل اس کمپنی کی ملکیت تھا، لہذا ہوٹل کے مصارف میں کافی  بچت ہوئی۔   یہ پروگرام ہوتے رہے، لیکن اس کا وہ تہذیبی ، ثقافتی اور ادبی مزاج نہیں رہا۔اور ان پروگراموں کا انتظام وانصرام  بھی دوسرے ہاتھوں میں منتقل ہوگیا۔

چونکہ یہ پروگرام ہماری تہذیبی او ر ثقافتی زندگی کا ایک حصہ ہیں، لہذا ریکارڈ   کی حفاظت کے لئے یہ تفصیلات دی گئی ہیں۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ ابتدائی دنوں میں یہ پروگرام  ہر سال پابندی سے منعقد ہوتے رہے ، ان پروگراموں کی اپنی چند خصوصیا ت تھیں:۔

۔  ان پروگراموں میں تہذیبی و  ثقافتی  عنصر پر زیادہ توجہ دی گئی تھیں۔

۔ان پروگراموں کے منتظمین کا خیال تھا کہ قوم کی توجہ اپنے تعلیمی و اجتماعی اداروں کو مضبوط کرنے اور اس  کے لئے وسائل کی فراہمی اور قربانی دینے پر ہونی چاہئے۔ تفریحی پروگراموں پر مادی وسائل کا حد سے زیادہ استعمال ، تعمیری اخراجات میں شمار نہیں ہوتا، نہ  ہی اس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔

۔وسائل کی تنگ دامانی کے باوجود جس معیار کے پروگرام منعقد ہوئے، ثقافتی اور تہذیبی اور ادبی نقطہ نظر سے یہ یاد گار پروگرام رہے، جیسے جیسے دن گزریں گے ان کی اہمیت اور بڑھے گی، اور اس کا ریکارڈ قومی اور تاریخی اہمیت اختیار کرے گا۔

یہی دیکھئے، عظیم شعراء ، جلال کڑپوی،سید عبد الرحیم ارشاد، محمد حسین فطرت ، سید اسماعیل حسرت، عبد الرحمن باطن، محمد حسن معلم، بائیدا شبیر، محمد حسین مصباح، صلاح الدین وقار، ملا محمد حسن،پیام سعیدی، صدیق محمد جعفری،وغیرہ کئی سارے شعراء ، اور دانشور  جو اللہ کو پیارے ہوگئے یا پھر چراغ سحری ہیں، آئندہ نسلوں کے لئے ان  کے پروگراموں کےچلتے پھرتے ویڈیو ریکارڈ انہی عید ملن کے طفیل محفوظ رہ گے ہیں، آئندہ ایسا اہم اور نادر ریکارڈ محفوظ کرنا  ناممکنات میں سے ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اچھازمانہ گذرا، اس تحریر میں موضوع کو عید ملن تک محدود رکھا گیا، ورنہ شعری نشستوں ، اور پروگراموں کی ایک قطار ہے، کس کس کو بیان کیا جائے، ان کا تذکرہ کسی اور مناسب وقت کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ یار زندہ صحبت باقی۔

2022-05-16

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*