بنیادی صفحہ / مضامین / نقوش پا کی تلاش میں۔۔ گجرات کا مختصر سفر(۰۳)۔دابھیل۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

نقوش پا کی تلاش میں۔۔ گجرات کا مختصر سفر(۰۳)۔دابھیل۔۔۔ عبد المتین منیری۔ بھٹکل

Print Friendly, PDF & Email

 اب ہماری اولین منزل سورت کے قصبے دابھیل میں قائم تاریخی تعلیمی وتربیت گاہ جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین اور یہاں کے اکابرسے شرف زیارت تھی۔

دابھیل ایک دور افتادہ قصبہ جس کی آج سے سو سال قبل ایسی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ تاریخ میں کوئی مقام پاسکے، لیکن اللہ تعالی کی ذات جب دینے  پر اترآتی ہے تو ذرے کو ماہتاب بنادیتی ہے، ۱۹۰۸ء میں یہاں پر ایک چھوٹا سا مدرسہ تعلیم الدین قائم ہوا تھا، لیکن جس طرح تھانہ بھون، گنگوہ، رائے پور، کاندھلہ اور جلال آباد جیسی چھوٹی چھوٹی بستیوں کے ناموں کو اپنے وقت کے اہل اللہ نے اپنی اصلاحی جدوجہد کا مرکز بناکر زندہ جاوید بنادیا، اسی طرح جب دابھیل کا نصیب جاگا تو اسے ایک نہیں ایک ساتھ کئی ایک آسمان علم وتربیت کے آفتاب وماہتاب مل گئے،حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے لکھا ہے کہ اس چھوٹے سے مدرسہ کے مہتمم مولانا احمد بزرگ رحمۃ اللہ علیہ نے ماہ رمضان المبارک سنہ ۱۳۴۶ء ؍۱۹۲۷ء کے عشرہ اواخر میں ایک خواب دیکھا ،جس کی تعبیر مفتی اعظم دیوبند حضرت مولانا عزیز الرحمن عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بیان کی کہ افسوس علم حدیث کی دیوبند میں وفات ہوگئی، اور ایسا لگتا ہے کہ اس کی نشاۃ ثانیہ اب دابھیل اور سملک میں ہوگی(نفحۃٰ العنبر)۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ دارالعلوم دیوبند میں کچھ خلفشار پیدا ہوا، اور وہاں سے امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ، اور مولانا مفتی محمد شفیع ؒ نے نکل کر اسے اپنی تعلیمی و تربیتی جدوجہد کا مرکز بنا یا، علامہ انور شاہ کشمیری ؒنے یہاں پر اپنی  زندگی کے آخری  قیمتی پانچ سال گزارے، اور بیماری کی وجہ سے ۱۹۳۲ء میں اپنے وطن کشمیر کو رخصت ہوئے۔جب علامہ دیوبند میں تھے تو وقت کے عظیم مفکر وعالم دین علامہ محمد رشید رضا مصری ؒ اور ان کے رفقاء کے بارے میں لکھا تھا کہ:۔

۔”اگر ہمارے ہندوستانی عالم بھائیوں کا اس زمانے میں علوم حدیث  سے اہتمام نہ ہوتا تومشرقی ممالک میں ان کے زوال کا فیصلہ ہوچکا تھا، مصر اور شام اور عراق اور حجاز میں حدیث کے یہ علوم دسویں صدی ہجری سے کمزور پڑ چکے تھے(مقدمہ مفتاح کنوز السنۃ)”۔

ہمیں دابھیل کی اس تاریخی جامعہ کے ساتھ یہاں کے بزرگان دین کی زیارت بھی مقصود تھی جن میں سرفہرست حضرت شیخ الحدیث مولانا احمد خانپوری دامت برکاتھم سے شرف ملاقات تھی، آج کے اس قحط الرجال میں حضرت کی شخصیت بقیۃ السلف اور پورے گجرات میں دینی واصلاحی مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، آپ گزشتہ ۵۳ سال سے اس جامعہ میں تفسیر، حدیث وفقہ کی مسند تدریس سجائے ہوئے ہیں، آپ کو دوران تعلیم حضرت فقیہ الامت مولانامفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے شیخ حضرت حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی یکساں توجہات حاصل ہوئیں۔ اب ایسے نگینے کہاں سے دستیاب ہوتے ہیں۔

ہم جب دابھیل پہنچے تو عصر کی نماز ہوچکی تھی، اور لوک ڈاون کے طویل عرصہ بعد پہلی مرتبہ جامعہ کی خوبصورت مسجد میں آپ کی مجلس منعقد ہورہی تھی، لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے، جب ہم پہنچے تو ایک طالب علم  سوانح حضرت مولانا عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ کا وہ باب سنا رہے تھے، جس میں آپ نے تقسیم ہند کی تحریک پر سخت تنقید کی تھی، حضرت رائے پوریؒ نے سرگودھا پاکستان میں اپنی آنکھیں کھولی تھیں، لیکن آپ نے رائے پور آکر اپنے مرشد حضرت مولانا عبد الرحیم رائے پوری علیہ الرحمۃ کی خدمت میں ساری زندگی گذاردی، اور جب آخری عمر میں اپنے عزیزوں رشتہ داروں کے اصرار پر ان سے ملنے اپنے جائے پیدائش روانہ ہوئے تو  خواہش  کے برخلاف وہیں کی مٹی آپ کے لئے لکھی گئی۔کتاب خوانی کے بعد نکاح خوانی ہوئی ، پھر حضرت رخصت ہوگئے۔

بعد نماز مغرب حضرت کی خدمت میں حاضری ہوئی، ادب کا تقاضہ تو یہ تھا کہ ایک نووارد اپنے بڑوں کے سامنے چپ بیٹھتا، اور ان بزرگوں کے پندونصائح سے اپنی جھولی بھرتا۔ لیکن درمیان میں کچھ ایسی بات آگئیں کہ مہمانی کے آداب کو بالائے طاق رکھ کر حفظ مراتب کا خیال رکھے بغیر ان اکابر سے بے اس انداز سے باتیں کرنے لگا جیسے کوئی پرانی شناسائی ہو، اور ان بزرگوں سےمختلف موضوعات پر بے تکلفانہ انداز سے بات ہونے لگی، اب اسے ان بزرگوں کی عظمت کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟، مجلس میں بات آئی ان علاقوں میں بدعات اورخرافات اور غلط عقائد کی ترویج کی جو صحابہ کے مفتوحہ علاقوں کی سرحدوں پر واقع ہیں، ان میں گجرات کا علاقہ بھی شامل ہے، علاوہ ازیں فاتح بیت المقدس صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں فاطمی خلیفہ طیب باللہ کے قتل، اس سے پہلے المستعلی باللہ اور نزار دو بھائیوں کی لڑائی، اور ان کے بطن سے بوہروں اور خوجوں کے  وجود، اور ان کی ایک نہیں دو فاتحین بیت المقدس امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ اور صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ سے نفرت کا ذکر آیا، باتیں تو دلچسپ تھیں، اور ان پر تفصیلی گفتگو گھنٹوں کی طالب تھی، مجلس میں جامعہ کے مہتمم حضرت مولانا احمد بزرگ دامت برکاتھم اور گجرات میں عظیم میاں خانوادہ کے آخری چشم وچراغ مولانا عبد اللہ میاں صاحب بھی موجود تھے، جی تو یہی چاہتا کہ یہ مبارک مجلس ختم نہ ہو، لیکن کچھ مجبوریاں میزبانوں کی اور کچھ مہمانوں کی تھیں۔ ان بزرگوں کی عظمت کا تاثر لے کر ہم حضرت مہتمم صاحب کے یہاں عشائیہ پر پہنچے، یہاں آپ سے جس محبت اور شفقت کا اظہار ہوا، اور دابھیل سے واپسی تک جس طرح آپ ان خوردوں کا سایہ بن کر ساتھ رہے، اسے کبھی  دل سے بھلایا نہیں جاسکتا۔

کہا جاتا ہے کہ جب شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے اپنے والد شاہجہاں کو آگرہ کے قلعہ میں بند کیا تھا، تو قیدی والد سے اپنی کسی خواہش کے اظہار کا مطالبہ کیا تھا، جس پر شاہجہاں نے چند بچوں کو ان کے پاس  لانے کی خواہش کی تھی، تاکہ انہیں کچھ پڑھا سکیں، اس پر عالمگیر نے کہا تھا کہ اچھا ابھی حکمرانی کا نشہ  سر سے نہیں اترا، مدرس بن کر اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کی کوشش اب بھی  دل میں زندہ ہے !۔

کچھ ایسا حال ہمارا بھی ہوتا ہے، مدرسہ کے چند بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی بے تکلفانہ انداز میں تعلیمی وتربیتی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے تو اچھا لگتا ہے، لیکن جامعہ میں ہمارے علم وکتاب کے دوساتھی مولانا مفتی محمد اویس گودھرا صاحب اور بڑے ہی مشفق اورسنجیدہ مزاج مولانا معاذ چارلیہ صاحب نے ایک ایسی محفل سجائی جو ہماری حیثیت سے بہت بڑی تھی، ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ  جامعہ کے تمام طلبہ کو جمع کرکے ہمیں بیان دینے کو کہا جائے گا۔ یہ منظر دیکھ کر ہمارے تو پاؤں کانپ سے گئے، لیکن تیر ہاتھ سے نکل چکا تھا، طلبہ کو جمع کردیا گیا تھا، اور حضرت مہتمم صاحب بھی بہ نفس نفیس معزز اساتذہ کے ساتھ جلسہ گاہ میں آخر تک تشریف فرما تھے۔

ہال میں داخل ہوتے ہوئے ہم نے چاروں طرف نظر دوڑائی توبڑے بڑے فریموں میں ایسے ایسے نام نظر آرہے تھے جن کے خاک پا کی ہماری حیثیت نہیں تھی۔ ایک طرف مہتممین کی فہرست میں حضرت مولانا احمد حسن بھام سملکیؒ، اورحضرت مولانا احمد بن ابراہیم بزرگؒ جیسے نام، تو اساتذہ کی فہرست میں امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ؒجیسے نام،اور طالب علموں میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان جیسی شخصیات۔ جس جامعہ کے در ودیوار کو ایسی عظیم شخصیات نے رونق بخشی ہوں تو ان میں ایک بے زبان کی زبان آخر کیسے چلے؟۔ بہر حال حکم نبھانا تھا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے   کہ ہماری باتیں اس وقیع محفل کے شایان شان تھیں۔

جلسہ کی ابتدا مولوی حافظ عبد المقیت منا ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی، جس کے بعد رفیق سفر عزیزم مولوی زفیف شینگیری ندوی نے اپنی خوش الحان آواز میں نعتیہ کلام پیش کیا، اور پھر ڈاکٹر عبد الحمید اطہر رکن الدین ندوی ۔ استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل ،مصنف ، مترجم و مدیر الروضہ نے وقت کی اہمیت اور اس کے مفید استعمال پر خطاب کیا، ڈٓاکٹر صاحب نے وقت کا جتنا مفید استعمال کیا ہے وہ ایک نمونہ ہے، اور اس موضوع پران کا حق تھا۔ اس کے بعد مولانا محمد سمعان خلیفہ ندوی صاحب استاد جامعہ اسلامیہ بھٹکل، ذمہ دار ادارہ ادب اطفال بھٹکل نے علماء کی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفگتو کی اور مولوی عبد اللہ شریح کوبٹے ندوی نے ادارہ لرن قرآن بھٹکل  سے قرآن کی تعلیمات پہنچانے کی کوششوں پر روشنی ڈالی، اور آخر میں اس بندہ ناچیز کی باری تھی۔ جس  میں ابتدا میں  قوت حافظہ، مطالعہ کتب کے طریقے پر روشنی ڈالی گئی، پھر پروجکٹر کے ذریعہ طلبہ کو وہ کتابیں دکھائی گئیں جودابھیل کا طرہ امتیازہیں۔

اس خطاب میں طلبہ کو بتایا گیا کہ اللہ کو منظور تھا کہ دیوبند کے علوم اور یہاں کی عظیم شخصیات اور محدثین کے علم کی روشنی دنیا بھر میں پھیلے، اس نے اس کام کے لئے دابھیل اور سملک کو منتخب کیا، اگر اس زمانے میں دیوبند کے یہ اکابر دابھیل نہ آئے ہوتے ، یہاں پر انہیں مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، اور مولانا احمد رضا بجنوریؒ جیسے شاگرد نہ ملتے پھر فیض الباری اور فتح الملھم، انوار الباری  جیسی حدیث کی عظیم شرحوں سے دنیائے علم وتحقیق نابلد ہوتی، سملک کے مایہ ناز عالم دین حضرت مولانا محمد میاں سملکی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۳۴۹ھ؍۱۹۳۰ء میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمۃ علیہ کو سملک آنے کی دعوت دی تھی، اور آپ ہی نے یہاں پر المجلس العلمی قائم کی تھی۔اور آپ کی ٹرانسفال جنوبی افریقہ راونگی کے بعد  جمعیۃ علماء ٹرانسفال نے المجلس العلمی کی مطبوعات کی مصر سے اشاعت کی کفالت کی تھی۔

پروگرام کے بعد مولانا اویس اور مولانا معاذ کے شاگردان نے رات گئے تک گھیرے رکھا، چند طلبہ نے مولوی زفیف سے کہکشاں کی نظمیں سنیں۔

صبح  میں  ناشتہ کی ضیافت جامعہ کے استاد مولانا ابوبکر پٹنی اور مولانا معاذ صاحب نے کی جس کے بعد جامعہ کی عمارتوں کی زیارت شروع ہوئی، یہاں جامعہ کی زبان اور اس کے مورخ بطل جلیل حضرت مولانا عبد القیوم راجکوٹی دامت برکاتھم سے ملاقات ہوئی، جن کے زبان میں یہاں کے درودیوار بولتے نظرآئے، اللہ مولانا کوسلامت رکھے اور تادیر آپ کا سایہ باقی رکھے، یہاں کی ایک ایک عمارت اور دیوار کی تاریخ آپ کے نوک زبان ہے،آپ نے یہاں پر وہ جگہیں دکھائیں جہاں سے ہمارے اکابر حضرت حکیم الامت تھانویؒ علیہ الرحمۃ جیسے اکابر کی یادیں  وابستہ ہیں، آپ نے وہ جگہ بھی بتائی جہاں کبھی امام العصر حضرت مولانا محمد انورشاہ کشمیریؒ نے قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کی مسند سجائی تھی،اور وہ تاریخی عمارت بھی دیکھائی جس کی دو کوٹھریوں میں سے ایک میں علامہ کشمیریؒ اور دوسرے میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی علیہ الرحمۃ میں کتابوں کے درمیاں اپنے علمی مشغلوں میں مصروف رہا کرتے تھے، اور جہاں کبھی مولانا قاضی اطہر مبارکپوری، مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی، اور مولانا سعید احمد اکبرآبادی اقامت پذیر تھے، گویا المجلس العلمی دابھیل کے ساتھ  ساتھ ندوۃ المصنفین دہلی کا تخییل بھی یہیں سے برآمد ہوا تھا۔ یہاں کی ہر اینٹ ایسی تھی کہ جس کے پاس کوئی تاریخ کے حافظہ کے ساتھ کھڑا ہوکر تخییل دنیا میں  کھوجائے تو سامنے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں آسمان علم کو گھیرنے والی قوس قزح اپنے خوبصورت رنگوں کے ساتھ نظر آجائے۔ یہ واقعی ہماری محرومی تھی کہ سمندر سے قطرہ لے کر، اور دل میں دوبارہ یہاں آنے کی حسرت لے کریہاں سے نکل پڑے۔۔۔جاری۔۔۔

Whatsapp: 00971555636151

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*