بنیادی صفحہ / مضامین / چپلون اور باب دکن دابھول کی سیر(۱) ۔۔۔ عبد المتین منیری

چپلون اور باب دکن دابھول کی سیر(۱) ۔۔۔ عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

بھٹکل سے خیر کی شعاعیں اب دور دور تک پھیلنے لگی ہیں، یہ فخر کا نہیں شکر کا مقام ہے، احباب کو دعاء کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی اس بستی کو نظر بد سے بچائے، اور کام کرنے والوں کو اخلاص سے مالا مال کرے۔

گزشتہ چند سالوں سے یہاں پر کھڑے  حلقہ پیام انسانیت، کہکشاں ،ادب اطفال اور علی پبلک اسکول  کے درخت اپنی شاخیں دور دور تک پھیلا رہے ہیں ،ان کوششوں کے ثمرات بھی ظاہر ہورہے ہیں، کوکن کا علاقہ تو اپنا  ہی ہے، اس کی تہذیب وثقافت کے ڈانڈے بھٹکل سے کافی ملتے ہیں، چند روز قبل کہکشاں کے ہمارے عزیز مولوی محمد سمعان خلیفہ صاحب نے اطلاع دی کہ وہ  ۳؍ستمبر کو  چند احباب کے ساتھ حلقہ پیام انسانیت کے کام کو وسعت دینے کی غرض سے چپلون (کوکن) جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ہم نےسوچا کہ خون لگا کرکیوں نہ  ہم بھی شہیدوں میں شامل  ہوجائیں، اس طرح ان حضرات کی سرگرمیوں  کی جانکاری بھی ہوجائے گی۔ اور مولانا کی قیادت میں قافلہ میں ہم بھی شریک ہوگئے،  مولوی شجاع الدین رکن الدین ، مولوی حاذق منیری، مولوی قیس  جوکاکو، ڈاکٹر اطہر عبد الحمید رکن الدین، مولوی الیاس برماور شریک قافلہ رہے،،   ساتھ میں بلبل خوش نوا مولوی زفیف شنگیری کو بھی لے لیا، تاکہ سفر بھی پرلطف رہے، رات دس بجے حضرت نظام الدین اکسپرس   ہمیں لے کر روانہ ہوئی، اور صبح نو بجے چپلون اسٹیشن پر اس نے ہمیں اتاردیا، یہاں  پر ہمارے میزبان مولانا مزمل پارکر صاحب آنکھیں بچھائے فرش راہ بنے ہوئے تھے،  ہمیں  دارالقضاء کی عمارت میں ٹہرایا گیا، جہاں صبح دس بجے  پیام انسانیت کے کام کے سلسلے میں ایک مشاورتی نشست ہوئی، جس میں مولوی سمعان اور مولوی جنید فاروقی وغیرہ  نے اس مبارک کا م کے سلسلے میں رہنمائی کی اور اپنے  بیش بہا تجربات پر روشنی ڈالی، میزبان  مکرم مولانا مزمل صاحب ہمارے لئے اتنے اجنبی نہیں تھے،انہوں نے جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں تعلیم مکمل کی تھی، چند روز قبل ان سے بھٹکل میں علیک سلیک بھی ہوئی تھی،   یہاں چپلون میں ان سے ملاقات پر محسوس ہوا کہ علاقے کے لئے وہ اللہ  تعالی کی ایک بڑی نعمت ہیں، اللہ تعالی نے ملنساری، اخلاص محبت وشفقت ان کے رگ وپئے میں ڈال دی ہے، ایسی صفات کی مالک شخصیات  سے اللہ تعالی بڑے   کام لیتا ہے۔اللہ کی  ذات سے امید ہے کہ ان کے ہاتھوں علاقے میں بڑے بڑے اہم کام انجام پائیں گے، جو معاشرے کی فلاح وبہبود اور ترقی کا سبب بنیں گے، اور آپ کے اخلاق حسنہ علاقہ میں امن وشانتی کے ماحول کے فروغ میں ممد ومعاون ثابت ہونگے۔مولوی جنید فاروقی ہمارے لئے نئے تھے، لیکن ملاقات پر محسوس ہوا کہ یہ بھی شناسا ہے، اورنگ آباد سے آپ کا تعلق ہے، آپ کے تایا مولانا اعجاز الدین فاروقی مرحوم ہمارے پرانے شناساؤں میں تھے، مولانا ئے مرحوم نے ایک طویل عرصہ حضر ت مسیح الامت مولانا مسیح اللہ خان شروانی ؒ کی صحبت میں گذارا تھا، مفتاح العلوم جلال آباد کے فارغ تھے، انجمن ہائی اسکول بھٹکل میں ایک عرصہ تک تدریس سے وابستہ رہے، پھر بنگلور منتقل ہوگئے ، اور آج سے  کوئی چالیس سال قبل حضرت مسیح الامت ؒ سے منسوب ایک ادارہ قائم کرنے میں شریک رہے، اور کچھ عرصہ تعلیمی واصلاحی خدمات انجام دے کر اللہ کو پیارے ہوئے، مولوی جنید کی ملاقات میں اپنائیت تھی، پیام انسانیت اور اس کے  تحت ہونے والی سرگرمیوں  کے بارے میں ملنے والی معلومات نے دل کو بڑی ٹھنڈک پہنچائی، ان کی باتوں سے  دعوتی نفسیات سے ان کی کلی واقفیت کا احساس ہوا، قوم کو ایسے جذبات اور فہم وشعور کے مالک جوانوں کی شدید ضرورت ہے، اللہ ان کے کاموں میں مزید برکت دے، اور جو مشن لے کر یہ حضرات اٹھے ہیں اس میں کامرانی اور کامیابی عطا کرے، نماز جمعہ قریب کی مسجد میں اداہوئی، ظہرانے کے بعد اس سلسلے کی مزید مشاورتی نشستیں اور نوجوانوں سے ملاقاتیں، اطفال لائبریری کی زیارت، پہاڑی پر علی پبلک اسکول کی عمارت کا مشاہدہ، اور مسجد میں پروگرام طے تھے، لیکن موبائل پر گوگل ارتھ کو  دیکھتے ہوئے کوکن کے نقشے پر ساحل کنارے دابھول بندرگاہ کے نام پر جب نظر پڑی تو پھرہمارا دل اسی میں اٹک گیا، مروت اور اخلاق کا  تقاضا  تو یہ تھا کہ ساتھیوں کے ساتھ شیڈول کے مطابق   پروگراموں میں شریک ہوتے، کچھ ان کی سنتے ، کچھ اپنی سناتے،لیکن دل پر کس کا قابو رہاہے، تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے دابھول دیکھنے کی خواہش ایک طویل عرصے سے سینے میں دبی ہوئی تھی، اس کی ایک بڑی وجہ کوکن کے علاقے میں جہاں اسلام پہلے پہل داخل ہوا تھا، اس بندرگاہ کی اہمیت تھی، دوسرے اس کا ملک التجار محمود گاواں علیہ الرحمۃ سے  تعلق تھا، گاواں اسی بندرگاہ سے دکن وارد ہوئے تھے، وہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے شاگرد تھے، عہد وسطی کے جنوبی ہند میں تعلیم کے فروغ میں ان کا کلیدی کردار رہا ، یہاں آپ کی سیرت کی تفصیل بیان کرنے کا موقع نہیں، بس اتنا عرض کریں کہ آپ کا شمار ہماری نوائط برادری کے محسنین میں اس طرح ہوتا ہے کہ ۱۴۶۹ء میں جب راجہ ویر پکشا کے زمانے میں بھٹکل و اطراف میں ان کا قتل عام ہوا اور انہوں نے قدیم گوا، اور راندیر کی بندرگاہیں آباد کیں، اور جب گاواں کو  پتہ چلا کہ راجہ نے گوا میں بھی ان مسلمانوں کا پیچھا کرکے انہیں تباہ وتاراج کرنے کا حکم نامہ صادر کیا ہے، تو  تاریخ فرشتہ کے مطابق محمود گاواں کی فوجوں نے بروبر سے وجے نگر کی فوجوں کا  تعاقب اور گھیراؤ کرکے انہیں بدترین شکست سے دوچار کیا، اور گوا کا وہ قدیم شہر جو عیسائیوں کے نزدیک مشرق کا رومہ مانا جاتا ہے، ۱۵۱۰ء میں اس پر پرتگیزوں کے قبضہ تک سو فیصد مسلم شہر رہا ۔یہ تفصیلات پھر کبھی ان شاء اللہ۔

 کوکن سے کئی ایک بار  ہمارا گزر ہوا، لیکن ہنوز دلی دور است کے مانند دابھول کی بندرگاہ  دور ہی رہی، اب کی بار شرم ومروت کو پرے ڈال کرہم نے  میزبان سے دابھول دیکھنے کی خواہش کرہی ڈالی، اور میزبان محترم نے جھٹ سےپانچ  گھنٹے کے سفر کے لئے گاڑی اور رہنما کا انتظام کردیا، ڈاکٹر اطہر عبد الحمید کو   ماشاء اللہ جہاں گشتی کا شوق ہے، وہ بھی ساتھ چلنے کے لئے تیار ہوگئے، اورامیر قافلہ کی اجازت سے ہم چند لوگ سوئے دابھول راوانہ ہوگئے، باقی احباب اپنے مشن کی تکمیل میں لگ گئے۔

ہندوستان کے مغربی ساحل سے قریب ہرے بھرے گھنے جنگلات سے سیادری گھاٹ کی بلندیوں سے  نکل کر  کوکن کے قصبے چپلون سے ہوکر بحر عرب میں گرنے والے عظیم دریائے وشیشتی کے دہانے پر واقع  ساحلی قصبہ دابھول اب ایک فراموش شدہ بستی ہے، جس کی تاریخی اہمیت سے اب شاید خود کوکن کے باسی ہی زیادہ واقف نہیں ہیں، لیکن تاریخ میں اس کی کیا اہمیت تھی، اور یہ اپنے سینے میں کیا راز چھپائے ہوئے ہے۔ اس کی کچھ تفصیلات آپ مورخ کوکن ڈاکٹر مومن محی الدین کی زبانی سنئے:

″دابھول کی بندرگاہ جسے بہمنی دور میں مصطفی آباد کہتے تھے ، تہذیبی لین دین کی سب سے بڑی منڈی بن گئی تھی، اور یہی وہ باب الدکن تھا ، جہاں سے ایران کے علمی و تجارتی مراکز سے آئے ہوئے ہزاروں مہاجروں مسافروں اور سوداگروں کے قافلے گزرتے تھے ، اسی بندرگاہ پر شاہ نورالدین نعمت اللہ حسینی کے روحانی جانشینوں ،خلیل اللہ اور نوراللہ کے بجرے آکر ٹہرے تھے، اور یہیں محمد شاہی جہاز قیمتی تحائف لے کر ہرمز پہنچا تھا، تاکہ حافظ شیراز کو دعوت بیدر پر بارگاہ بہمنی کھینچ کر لایا جائے، اسی نے سب سے پہلے ملک قمی اور آذری جیسے نامور شعراء کے قدم چومے اور محمود گاواں جیسے مدبر اور علم دوست کی قدم بوسی کی اور اسی کے بازار میں عثمانیہ ترکی کا گمنام شہزادہ یوسف عادل بکنے کے لئے لایا گیا ۔ یوسف عادل خان اسے جنت ارضی کا ٹکرا کہا کرتا تھا، جہاں ساری نعمتین میسر تھیں۔ اور جس کی تجارتی گرام بازاری ، بازار مصر کی یاد دلاتی تھی، ۱۴۷۰ء میں روسی سیاح اتھنہ سی اس نکی تن چی ، دابھول کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوا تو دابھول کی شہرت نے اس کی امنگوں کے بادباں کھول دئے، اور جب وہ آگے بڑھا تو دیکھا کہ یہاں عراق وعجم اور افریقہ کے تجارتی جہازوں کے بیڑے آکر ٹھہرتے تھے، یہاں کی مخلوط آبادی میں ساحلی علاقوں کی ساری قوموں کے لوگ پائے جاتے تھے، ان میں حبش کے سیاہ فام سدی بھی تھے، اور گورے چٹے نوائطی بھی، یہاں سے بیدراور گلبرگہ ایک ماہ کے فاصلے پر تھے۔(تاریخ کوکن ص ۱۵۷)

(جاری)

M: +919900198268

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*