بنیادی صفحہ / مضامین / حاجی جمال محمد (۴)۔۔۔ ڈاکٹر عبد الحق کرنولی

حاجی جمال محمد (۴)۔۔۔ ڈاکٹر عبد الحق کرنولی

Print Friendly, PDF & Email

حاجی جمال محمد(۴)

۔(جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمار قوم ، جنہوں نے علامہ سید سلیمان ندویؒ، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطا کئے)

 ڈاکٹر عبد الحق کرنولی، افضل العلماء ، یم اے ، ڈی فل (آکسفورڈ) کی یاد گار تحریر۔

جمال محمد صاحب کی سادہ زندگی کا ایک خاص پہلو یہ تھا کہ وہ رسم ورواج کے بندھنوں سے آزاد تھے۔ شادی بیاہ کے معاملے میں جس سادہ طریقے کو انہوں نے اپنے خاندان کے لیے اختیار فرمایاتھا، اس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔ ان کے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کی اطلاع خاص خاص احباب تک کو بھی نہ ہوتی تھی۔ طریقۂ کار یہ تھاکہ جب کبھی اپنی کسی لڑکی کے بیاہ کا خیال دل میں آیا اور انہوں نے اپنے ہونے والے داماد کا اپنے ذہن میں انتخاب کرلیا، اور ایسا شخص عموماً ان کے خاندان سے یا مدرسۂ جمالیہ کے طلبہ میں سے ہوا کرتا تھا۔ اس قسم کے فیصلے کے بعد چند گھنٹوں یا دو ایک دن کے اندر اندر نہایت سادہ طریقے پر گھر کے افراد کی موجودگی میں مدرسۂ جمالیہ کا کوئی استاد صیغۂ نکاح پڑھ دیتا تھا، اور اس کے بعد طلبہ اور اساتذہ کو کھانا کھلا دیا جاتا تھا۔ گھر میں جوکچھ لباس اور زیور مہیا ہوتا تھا وہ لڑکی کو دے دیا جاتا تھا، اور اس کے ساتھ رخصتی ہوجاتی تھی۔ اپنے نہایت وسیع کمپائونڈ میں مختلف چھوٹے چھوٹے بنگلے ہوتے تھے، ان میں سے کسی ایک میں ان کے قیام کا بندوبست ہوتا تھا، اور حسبِ استطاعت ان کو کسی کام میں لگادیا جاتا تھا۔ آج بھی جمال محمد صاحب کی اولاد اسی طریقے پر عمل پیرا ہے، اور سنتِ رسولؐ کی اس سادگی کی بنیاد جو اس گھرانے میں ڈالی گئی ہے اس کا ثواب یقیناً بانی کی روح کو پہنچتا ہوگا۔ لباس اور طرزِ معاشرت میں بھی سادگی نمایاں تھی۔ عام طور پر لنگی، سفید کرتا اور ایک پگڑی روزانہ کا لباس تھا۔ ولایت کے سفر میں، یا کسی رسمی محفل میں سیاہ شیروانی اور اسی رنگ کی پتلون پہناکرتے تھے۔ لباس کے طرز میں بھی ان کی اولاد و احفاد کی تقلید حیرت انگیز ہے۔ اس سادہ معاشرت نے ان کی زندگی میں جو وقار پیدا کیا تھا صاحبِ نظر لوگوں کی نگاہ سب سے پہلے اسی پر پڑتی تھی، اور یہی وجہ ہے کہ سر محمد اقبال نے اپنے تاثرات کا اظہار اپنی تقریر میں فرمایا۔
جمال محمد صاحب مرحوم کا ایک اور کارنامہ جس کو آسانی سے نہیں بھلایا جاسکتا وہ ان کی بروقت امداد ہے جو انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کو عطاکی۔ غالباً دسمبر 1927ء میں جب کہ مختلف اسباب کی وجہ سے جامعہ کی مالی حالت بالکل نازک صورت اختیار کرچکی تھی، مسیح الملک حکیم اجمل خان مرحوم کا یہ ارادہ ہواکہ وہ مدراس پہنچ کر جامعہ کی امداد کی تحریک کریں۔ اُس زمانے میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کا اجلاس بھی مدراس میں مقرر تھا، اور اس کے صدر ڈاکٹر انصاری مرحوم تھے، اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس بھی زیرصدارت سر عبدالقادر مرحوم یہیں ہورہا تھا۔ دسمبر کے آخری ہفتے میں ان اجتماعات کے موقعوں پر مسیح الملک مرحوم نے ڈاکٹر ذاکر حسین خان کو جو اُس زمانے میں جامعہ ملیہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے کارفرما تھے، مدراس روانہ فرمایا اور ان سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ کانگریس کے اجلاس کے زمانے تک وہ خود بھی مدراس پہنچ جائیں گے۔ گویہ انتظام اپنے خیال میں مسیح الملک نے فرمایا تھا، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، عین اُس زمانے میں حکیم صاحب مرحوم رامپور سے دلی آتے ہوئے ٹرین میں عارضۂ قلب سے وفات پا گئے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین خان صاحب مدراس پہنچ چکے تھے اور انہیں روزانہ مسیح الملک کی آمد کا انتظار تھاکہ یکایک اس حادثۂ جاں فرسا کی اطلاع اخبارات کے ذریعے سے ملی۔ لازمی بات ہے کہ ڈاکٹر صاحب پر اس کا بڑا اثر ہوا اور مایوسی کا غلبہ رہا۔ اس زمانے میں پہلی دفعہ راقم الحروف کی ڈاکٹر ذاکرحسین سے ملاقات ہوئی، اور اس سلسلے میں مَیں نے اور جامعہ سے ہمدردی رکھنے والے بعض اصحاب نے یہ تجویز پیش کی کہ جمال محمد مرحوم سے اس سلسلے میں استمزاج کیا جائے اور مسیح الملک مرحوم کی آرزو سے انہیں آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے جس وقت جامعہ کے سارے پوست کندہ حالات بیان کیے اور مسیح الملک مرحوم کے ارادے کی اطلاع دی، جمال محمد صاحب نے نہایت ہی خندہ پیشانی سے تاحد امکان امداد کا وعدہ فرمایا اور دو ایک روزکے بعد ہی انہوں نے ڈاکٹر ذاکر حسین کی چائے کی دعوت کی جس میں مدراس کے اکثر معزز تاجر شریک تھے، اور وہیں جامعہ کی امداد کی تحریک کی، اور خود اپنے اور اپنے خاندان کے افرادکی جانب سے عطیات کا اعلان فرمایا جن کی مجموعی رقم شاید سترہ ہزار سے زیادہ تھی، اس کے بعد مدراس کے دیگر تاجروں سے رقمیں دلائیں، دوچار روز میں تقریباً چالیس ہزار روپے کی گرانقدر رقم مہیا کردی گئی۔ جامعہ ملیہ کی تاریخ میں یہ وہ نازک دورتھا جس میں کارکن ابتلا اور آزمائش سے تقریباً مایوسی کے درجے پر پہنچ گئے تھے، اس امداد نے ایک نئی روح پھونک دی اور جامعہ کا نیا دورِزندگی شروع ہوا۔ جمال محمد مرحوم کی قومی خدمات میں سے یہ ایک ایسی خدمت ہے جس کو انہوں نے نہایت ہی خاموشی سے کیا، اوراس کی نہ تو اشاعت کی اور نہ اس کو ذریعۂ شہرت سمجھا۔
تجارتی معاملات اور معاشی مسائل میں ان کی نگاہ دوربین اور دوررس تھی۔ جنگِ عظیم کے بعد عالمی کسادبازاری سے حکومتِ برطانیہ نے معمار زر، اسٹرلنگ کے لیے باقی نہ رکھا تھا اور اس وجہ سے پاؤنڈکی شرح تبادلہ پر خاصا اثر پڑا تھا، حکومتِ ہند نے ہندوستان کے روپے کو پاؤنڈ کے ساتھ منسلک کردیا تھا، اس لیے تجارتی منڈیوں میں روپے کی قیمت گھٹ گئی تھی اور اس کی شرح تبادلہ پر بڑا برا اثر پڑا تھا۔ حکومت اور حکومت کے ہم نوا ’اکانومسٹ‘ نے اس طرزعمل کی خوبی کو مدلل طور پر ثابت کرنا چاہا، اور ہندوستان کے فائنانس ممبر نے اس کی تائید میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ جمال محمد صاحب نے اس زمانے میں متعددآرٹیکل اس مسئلے پر لکھے اور ہندوستان کے مشہور انگریزی اخبارات اور معاشی رسالوں میں شائع کیے۔ ان میں انہوں نے گورنمنٹ کے اس فیصلے کو ہندوستان کے حق میں نہایت مضر ثابت کیا۔ واقعہ یہی تھاکہ اس سے اگرچہ اُن تاجروں کو جو باہر سے مال منگوایا کرتے تھے، عارضی طورپر فائدہ ہوا، لیکن ہندوستان سے بیرونی ممالک کو اشیاء بھیجنے والے تاجروں، اور خصوصاً تاجرانِ چرم کو جو نقصان پہنچا اُس نے 10سے 20سال تک ان تاجروں کو معاشی بحران میں مبتلا کیا۔ اُس زمانے میں جمال محمد صاحب کے مدلل اور محققانہ مضامین کی شہرت سے کامرس کی جگہ پر اسمبلی میں ان کا انتخاب ہوا، اور اُس زمانے کی لیجسلیٹو اسمبلی میں ایک مدت تک ممبررہے، اور اسی زمانے میں ہندوستان بھر کے تاجروں کے چیمبرز کی فیڈریشن نے انہیں اپنا صدر منتخب کیا ،اور یقیناًیہ ایک ایسااعزازتھا جو شاید ہی مسلمانوںمیں کسی کو میسرہواہو۔ مدراس یونیورسٹی کے ارباب ِحل وعقدجمال محمد صاحب کی تحریروں کے اس قدر قائل تھے کہ انہوں نے یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک غیر گریجویٹ کو اکنامکس اور کامرس کے بورڈآف اسٹڈیز کاممبر منتخب کیا۔
جمال محمد صاحب کی توجہات ابتدا سے ملک کے سیاسی مسائل کی طرف بھی رہیں، اور اس کا میں نے اشارۃً تذکرہ کیا ہے کہ ان کی ہمدردی ہمیشہ سے سیاست میں کانگریس کے ساتھ تھی،گو مدراس میں وہ مسلم لیگ کے صدر بھی رہے اور مسلم لیگ کا دفتر انہی کے آفس میں رہا، لیکن ان معاملات میں ان کی رائے بڑی صائب تھی، گول میز کانفرنس میں جمال محمد مرحوم کو بھی انڈیا گورنمنٹ نے منتخب کیا، یہ پہلی گول میز کانفرنس میں شریک رہے۔ ہندو اخبارکے صفحات شاہد ہیں کہ اُس زمانے میں انہوں نے گاندھی جی اور محمد علی جناح میں مصالحت کی بہت کچھ کوشش کی، لیکن ان ساری مساعی کا نتیجہ خاطرخواہ نہ نکلا، اور ہندوستان کی آزادی کا مسئلہ بہت دنوں کے لیے ملتوی ہوگیا۔ انگلستان کے دورے سے واپسی کے بعد جمال محمد مرحوم کی زیادہ تر توجہات تعلیم اور عربی مدارس کی اصلاح پر مبذول ہوگئیں۔ تجارت کی حالت روزبروز گرتی جاتی تھی لیکن ان کی داد و دہش اور قومی کاموں میں امداد کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ ۱۹۳۶ء میں راقم الحروف نے آکسفورڈ جانے کا خیال کیا تو جمال محمد صاحب نے بہت کچھ ترغیب دلائی اور ہر طرح کی امداد فرمائی۔ سیاحت کا شوق دلایا، یورپ کے مختلف ممالک کی سیر اور بالخصوص جمہوریہ ترکیہ میں کچھ دن اقامت کے لیے انہوں نے مجھ کو مجبور کیا، بلکہ وہ میرے انگلستان کے قیام کے زمانے میں برابر خط لکھا کرتے تھے، اور یورپ کے مختلف ممالک کی سیر کا شوق دلایاکرتے تھے۔ ۱۹۴۰ء کے بعد عموماً تاجرانِ چرم کی حالت اور جمال محمد صاحب کی تجارت میں خصوصاً ایک زبردست انقلاب پیدا ہوگیا تھا، لیکن جمال محمد صاحب کی تجارتی دیانت کی ایک عجیب وغریب مثال یہ ہے کہ انھوں نے جس وقت اپنی تجارت بند کرنے کا فیصلہ کیا تو اپنے سار ے قرض داروں سے جن پر ان کی رقم نکلتی تھی اور جن سے اس قرض کے حاصل کرنے کی مستقبل قریب میں کوئی امید نہ تھی، بلاکر بخوشی ان کی دستاویزاتِ قرض واپس کردیں، اور جن کمپنیوں کو انہیں رقم دینا تھی ان کی پائی پائی کا حساب کرکے بھجوا دیا۔ یہی نہیں بلکہ مدارس اور انجمنوں کی جو کچھ تنخواہیں، وظیفے اور امداد مقرر تھی ان کو بھی اس مہینے میں منی آرڈر کے ذریعے سے رقمیں بھیج دی گئیں، اور اس کے ساتھ یہ معذرت کی گئی کہ آئندہ شاید آپ کی مدد نہ کرسکوں۔
مجھے بھی بعض اداروں کی سرپرستی کی بدولت ان واقعات سے آگاہی رہی، اور میں بلاخوفِ تردید کہہ سکتا ہوں کہ اس قسم کی مثال ملنی بہت ہی مشکل ہے۔ غالباً جمال محمد صاحب کے کردارکی ان خوبیوں نے ہندوستان کی ایک عظیم الشان ہستی سر محمد اقبال کو اس طرح متاثر کیا تھاکہ انہوں نے علی الاعلان ان کی تعریف کی تھی۔
مجھے اس امر کا اعتراف ہے کہ اس مختصر سے مضمون میں ان کی زندگی کے مختلف پہلو تشنہ رہ گئے ہیں، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ ان کی سوانح اور حالات کو جمع کرنا ایک ریسرچ اسکالر کاکام ہے جواُس زمانے کے اخبارات اور رسائل کے مضامین کی چھان بین کرے اور ان پر تفصیلی تبصرہ کرسکے۔ مرحوم کی زندگی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ اعلیٰ کردار، محنت اور دیانت سے ایک شخص اپنے آپ کو کس بلند درجے تک پہنچا سکتا ہے۔
(فانوسِ خیال۔ مدراس ۱۳۷۶ھ ؍ ۱۹۵۶ء جلد چہارم)

پیشکش : عبد المتین منیری

00971555636151

http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 
x

Check Also

سچی باتیں۔ کامیاب کون؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

 1927-05-02 دو شخص ہیں، ایک شخص پختہ حویلی میں رہتاہے، عیش وآرام ...