بنیادی صفحہ / مضامین / حاجی جمال محمد (۳)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر عبد الحق کرنولی

حاجی جمال محمد (۳)۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر عبد الحق کرنولی

Print Friendly, PDF & Email

حاجی جمال محمد(۳)

جنوبی ہند کے عظیم سپوت اور معمار قوم ، جنہوں نے علامہ سید سلیمان ندویؒ، علامہ پکتھال، اور علامہ اقبال کے خطبات دنیا کو عطا کئے۔

 ڈاکٹر عبد الحق کرنولی، افضل العلماء ، یم اے ، ڈی فل (آکسفورڈ) کی یاد گار تحریر۔

 سنہ ۱۹۲۰  کے بعد  راقم الحروف کا بھی مدراس میں پہلے طالب علم کی حیثیت سے، اور اس کے بعد پروفیسر کی حیثیت سے قیام رہا۔میری۔۔ ملاقاتیں۱۹۲۴ء سے شروع ہوئیں جب میں نے گورنمنٹ محمڈن کالج مدراس میں عربی کے پروفیسر کی حیثیت سے چارج لیا تھا۔ دو ایک ملاقاتوں کے بعد حاجی جمال محمد مرحوم نے وہی مسئلہ پیش کیا جس کی انھیں دھن تھی، یعنی عربی مدرسے کے لیے ایک ایسا نصاب بنایا جائے جس میں علومِ جدیدہ اور انگریزی زبان کی تعلیم بھی شامل ہو، اور معیار عربی تعلیم کا کسی حیثیت سے کم نہ ہو۔ اس سلسلے میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حاجی جمال محمد کے یہاں متعدد مجلسیں ہوتی تھیں اور اکثر مجلسیں اتوار کے دن صبح سے شام تک رہاکرتی تھیں، جن میں نصاب کی ترتیب و ترمیم کا اہم کام ہوا کرتا تھا۔ اس مجلس میں گورنمنٹ محمڈن کالج کے اکثر پروفیسر اور علماء بھی شامل رہا کرتے تھے۔ ایک مدت کی بحث وتمحیص کے بعد ایک نصاب تیارکیا گیا اور خود اُن کے ’’مدرسہ جمالیہ‘‘میں اس کو بطور تجربہ رائج کیا گیا۔ سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ مہیا کرنے کا تھا، جمال محمد صاحب نے اس سلسلے میں بڑی سیرچشمی کے ساتھ ہر جگہ سے قابل افراد کا انتخاب کیا، اور انہیں اپنے مدرسے میں استاد کی حیثیت سے رکھا۔ مدرسے کی تعلیمی حالت روزافزوں ترقی پذیر تھی اور جمال محمد صاحب کی تجارت کو بھی اللہ پاک نے فروغ دیا تھا۔ اپنے خلوص اور حسنِِ نیت سے انھوں نے قوم کے نونہالوں کی تعلیم میں جو مددکی اس کی مثال شاید ہی کہیں مل سکے۔ ایک جلسے میں مَیں نے کبھی یہ ذکرکیا تھا کہ عربی مدارس میں جدید نصاب کے رواج کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ انگریزی پڑھنے والے مختلف طلبہ کو ایک ایسے ہاسٹل میں رکھا جائے جہاں دینی تعلیم اور قرآن وحدیث کے درس کا انتظام ہو، اور ایک دینی ماحول ہو، اور تعلیم کے لیے نہایت رعایت کے ساتھ بلکہ مفت رہنے سہنے کا انتظام کردیا جائے تو وہاں کے طالب علم اچھا اثرلے کر نکلیں گے۔ وقت کی بات ہے کہ جمال محمد صاحب کے دل میں یہ بات اثر کرگئی اور انھوں نے ایک ہفتے کے اندر ہی اندر اپنے بنگلے کے ساتھ ایک بہت وسیع اور عظیم الشان بنگلہ تقریباً تین ساڑھے تین سو روپے کرایہ پر تین سال کے لیے لے لیا اور اس میں ایسا ہاسٹل کھولنے کا انتظام کیاجس میں مختلف کالجوں کے طلبہ کو داخل کیا گیا۔ اس بورڈنگ ہاؤس کا نتیجہ تھا کہ مسلمان نوجوان جو تعلیم سے محروم رہاکرتے تھے، ایک کثیر تعداد میں کالجوں میں داخل ہونے لگے، اور یہاں تقریباً سو ڈیڑھ سوطلبہ کے رہنے کا انتظام کیا گیا۔ ان کے لیے صرف لکھنے پڑھنے اور رہنے کا انتظام ہی نہیں تھا بلکہ کالجوں کو آنے جانے کے لیے موٹر بسوں کے اخراجات کے لیے پانچ دس روپیہ ماہوار وظیفہ بھی دیا جاتا تھا۔ غالباً اس ہاسٹل کے پہلے وارڈن اور ڈپٹی وارڈن مولانا ابوظفر ندوی اور مولانا ابوالجلال ندوی تھے۔ تین چارسال تک یہ ہاسٹل نہایت کامیابی سے چلتا رہا، اور اس مدرسے سے صدہا نوجوان اپنی تعلیم ختم کرکے زندگی کے مختلف شعبوں میں چلے گئے۔
آج بھی جنوبی ہندکے بعض مشہور افسر، وکلا، ڈاکٹر، پرنسپل اور سیاست دان اسی ہاسٹل کے بورڈروں میں سے ہیں۔ ایک بات ان سب میں مشترک پائی جاتی ہے، اور وہ ان کی مذہبیت اور ملّی حمیت ہے۔ بانی کے خلوصِ نیت کا اثر تھا کہ ان کی اسکیم بڑی کامیاب رہی۔ شاید یہ اور بہت دنوں چلتا، لیکن تجارت کے پلٹاکھانے اور اقتصادی حالت کے عام طور پر بگڑ جانے کی وجہ سے بہ امرِ مجبوری اس اسکیم کو ختم کرنا پڑا۔
ء۱۹۲۴ کے رمضان میں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ وہ بہت دیر تک میرے ساتھ بیٹھے ہوئے گفتگو فرما رہے تھے، اس سلسلے میں ’’ہبرٹ لیکچرز‘‘کا ذکرآگیا اور انھوں نے محسوس کیاکہ آکسفورڈ نے جس طرح اس قسم کے علمی اور مذہبی لیکچرزکا انتظام کیا ہے، ہم کوبھی چاہیے کہ اپنے نوجوانوں کے لیے اسی قسم کا ایک سلسلہ چھوٹے پیمانے پر رائج کریں۔ میں نے کہا ’’یہ کر تو سکتے ہیں لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے اخراجات خاصے ہوں گے۔‘‘۔
جمال محمد صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں سالانہ پانچ چھ لیکچرز کے لیے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے تو کیا اخراجات ہوا کریں گے؟ میں نے کہا کم ازکم دوہزار اور زیادہ سے زیادہ تین چارہزار کے قریب بجٹ ہوگا، اور آپ اس اسکیم کے ماتحت ہندوستان کے بہترین اصحاب کو اس سلسلے میں مدعو کرسکتے ہیں۔ جمال محمد صاحب نے فی الفور اس کو منظور کرلیا اور تن تنہا سارے مصارف اپنی جیب سے دینے کا وعدہ کیا، اور صدر انجمن تعلیم مسلمانان جنوبی ہند کی سرپرستی میں ایک کمیٹی بنائی اور انتظام حمید حسن سیٹھ مرحوم کے سپرد ہوا، اور پہلے لیکچررکا انتخاب مجھ ہی پر موقوف رکھا، اور میں نے علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم کا نام پیش کیا کہ ان سے درخواست کی جائے کہ سیرتِ نبوی کے بعض اہم پہلوؤں پر ان کی تقریریں ہوں۔ خط کتابت کے بعد علامہ مرحوم نے ہماری درخواست قبول کرلی اور وہ مدراس رونق افروز ہوئے اور یہاں وہ مشہور خطبے دیے جو بعد میں ’’خطباتِ مدراس‘‘کے نام سے دارالمصنفین سے شائع ہوئے۔ کتاب کی اہمیت اور ان خطبات کی افادیت پر لکھنا تحصیل حاصل ہے، اور یہ لکھنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ ان خطبات نے بہت سے نوجوانوں کی زندگی میں انقلاب پیداکردیا۔(ارض دکن  کے خطیب بے بد ل نواب بہادر یار جنگ مرحوم کے سلسلے میں  مشہور ہے کہ  خطبات مدراس نے انہیں   سیرت النبی ﷺ کا نامور خطیب بنا یا تھا۔ ع۔م۔م)  جمال محمد صاحب مرحوم کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، یہ محسوس ہورہا تھاکہ میں نے جو کچھ کیا وہ بہت کم ہے، اور یہ کامیابی اور شاندار نتیجہ حقیقت میں فضلِ الٰہی ہے۔

 دوسرے سال نظرِ انتخاب محمد مارماڈیوک پکتھال پر پڑی، وہ ہماری دعوت پر مدراس تشریف لائے اور یہاں اسلام کے ثقافتی پہلو پر چھ لیکچر دیے۔ یہ کتاب بھی انگریزی میں شائع ہوگئی اور اب تک اس کے دو تین ایڈیشن نکل چکے ہیں۔

 تیسرے سال علامہ سر محمد اقبال کو دعوت دی گئی کہ وہ مدراس تشریف لائیں اور کسی خاص اسلامی موضوع پر لیکچردیں۔ عام طور پر لیکچرر کو ایک سال کا وقفہ دیا جاتا تھا، تاکہ وہ اپنے لیکچرز تیار کرسکے، اور انہیں سنانے کے بعد ان کو کتابی شکل میں شائع کیا جاسکے علامہ سر محمداقبال مرحوم کے وہ معرکۃ الآراء خطبات جو کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں سب سے پہلے مدراس میں اسی کمیٹی کی سرپرستی میں مختلف نشستوں میں سنائے گئے۔ اس کے متعدد ایڈیشن آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوچکے ہیں، ان خطبات کا اردو زبان میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ جمال محمد مرحوم کے اور کوئی کارنامے نہ بھی ہوتے تو صرف یہ کارنامہ ان کی بقائے دوام کے لیے کافی تھا۔
سر محمد اقبال مرحوم جب مدراس تشریف فرما ہوئے تو اُن پر جمال محمد صاحب کی شخصیت کا گہرا اثر ہوا، اور اس کے متعلق انہوں نے مدراس میں وائی۔ ایم۔ ای۔ اے ہال میں تقریر فرماتے ہوئے صاحب ِ موصوف کے متعلق ان خیالات کا اظہار کیا تھا:
’’حاجی جمال محمد صاحب کی شخصیت نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔ ایک شخص سادہ لباس میں ہے، کروڑوں کی تجارت کرتا ہے اور دقیق فلسفیانہ مسائل پر گفتگو کرسکتا ہے، اسلام نے اسی Plain Living and High Thinking کی تعلیم دی تھی۔ شکل دیکھوتو درویشوں کی، اور دل دیکھو تو بادشاہوں کا اسی زندگی کی سرورِکائناتؐ نے ہدایت کی تھی۔ جس وقت سے مسلمانوں نے یہ زندگی چھوڑی اسی دن سے زوال شروع ہوگیا۔ ہم سب کو چاہیے کہ اس معاملے میں حاجی صاحب کی تقلید کریں۔‘‘رسالہ’ سفینہ‘، بابت جنوری 1929ء ۔

پیشکش : عبد المتین منیری

00971555636151

http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 
x

Check Also

سچی باتیں۔ کامیاب کون؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

 1927-05-02 دو شخص ہیں، ایک شخص پختہ حویلی میں رہتاہے، عیش وآرام ...