بنیادی صفحہ / مضامین / بات سے بات: جامعات میں فقہ کی تعلیم۔۔۔ از: عبد المتین منیری

بات سے بات: جامعات میں فقہ کی تعلیم۔۔۔ از: عبد المتین منیری

Print Friendly, PDF & Email

مولانا بدر الحسن صاحب کا قلم سیل رواں کی طرح جاری ہوچکا ہے، وہ   برجستہ اور قلم برداشتہ لکھتے ہیں،خدا کرے وہ بولتے رہیں، اور ہم سنتے رہیں، ان میں انقطاع نہ آنے پائے، مولانا نے آج کی قسط میں افتاء پر جو باتیں لکھی ہیں وہ قابل توجہ ہیں، مولانا نے خاص طور پر عالم عرب کی جامعات میں فتوے کی جو صورت حال بیان کی ہے، اور اسکے جن منفی پہلوؤں پر توجہ دلائی ہے  ، ان میں سچائی ہے، لیکن جہاں تک حکومتوں کے ماتحت افتاء کے ادارے ہیں، ان میں سے بہتوں کا معیار اب بھی بلند ہے، مثال کے طور پر دبی، کویت، اور سعودیہ کے دارالافتاء کو پیش کیا جاسکتا ہے، ویسے مصر کے دارالافتاء میں بھی جو لوگ ہیں،وہ بھی عالم اور پڑھے لکھے لوگ  ہیں، ان کے فتاوی دیکھنے سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔  ازہر کے فتاوی سے استفادہ کے بغیر چارا نہیں۔

لیکن اسوقت بہت  بڑی مشکل عرب جامعات  میں فقہ کی تدریس کا مسئلہ ہے، مصر، شام ،اور سعودی عرب کی مساجد میں علماء اب بھی  متون فقہیہ کے درس دیتے ہیں، یو ٹیوب دیکھنے سے اس کا اندازہ ہوگا۔ لیکن برصغیر کے علماء میں اس کا مزاج نظر نہیں آتا ، ان کے دروس میں اب بھی موضوعات کی تکرار، اور عوامی دروس کا رجحان غالب ہیں۔

گزشتہ سالوں میں جب ملک شام میں آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی تھی ، اس چیز نے ہمیں اپنی طرف بہت متوجہ کیا، او ر محسوس ہوا کہ  اس گئی گذری ، مایوس کون صورت حال  میں بھی دین خیریت سے ہے۔ شیخ حسن حبنکہ میدانی کی تاریخی مسجد منجک پاشا، دمشق اور شام کی دوسری مساجد میں  مستند علماء کے متون شرعیہ کے دروس منظم طور پر چل رہے تھے، جیسے یہ مساجد علوم دین کی یونیورسٹیاں ہوں، اور  یہاں تقریبا سبھی علوم تفسیر، حدیث ، فقہ ، لغت ، منظق، کلام وغیرہ کے قدیم متون کے درس جاری تھے ، اور دنیا آن لائن انہیں سن رہی تھی،ہمارا خیال ہے ، دارالعلوموں اور کالجوں میں دوران طالب علمی ، طلبہ کی بے اعتنائی اور لاابالی سے جو  دروس چھوٹ جاتے ہیں، ہوش آنے پر ان دروس کو سن کا  اپنے تعلیمی نقص کو دور کیا جاسکتا ہے۔

جامعات خصوصا مصر کی جامعات میں فقہ کا عنصر بہت کمزور ہے،اس کا انداز ہ  ائمہ وخطباء کے امتحانات کے موقعہ پر ہوتا ہے،  ایک افغانستان کی پہاڑیوں سے آنے والے  دیہاتی کو عبادات کے فرائض کا علم ایک جامعہ کے فارغ سے زیادہ اور درست ہوتا ہے، کیونکہ وہ کسی  فقہی مسلک کی بنیادی کتاب نورالایضاح وغیرہ بڑی محنت  سے پڑھ کرا ٓتا ہے، اسےا س کی عبارتیں ازبر یاد ہوتی ہیں ، اس کے مقابلہ میں یونیورسٹی کا فارغ گڑبڑا نے لگتا ہے، اور غلط سلط جواب دیتا ہے، اس کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ اسے دین کی یہ بنیادی باتیں یاد نہیں، اس پر جب اس سے کہا جاتا ہے  کہ تم نے فقہ میں کیا پڑھا ہے؟، تو جواب ملتا ہے، فقہ مقارن، اب یہ فقہ مقارن پڑھ کر جو نسل نکلتی ہے، نہ وہ تیتر ہوتی ہے نہ بٹیر، یہی وجہ ہے کہ  سلفی حضرات میں بھی فقہ مقارن کے بجائے فقہ مذہبی پڑھانا عام سی بات  بن گئی ہے۔

http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

بات سے بات: کچھ جوش کے بارے میں۔۔۔ عبد المتین منیری

جوش ملیح آبادی، خمار بارہ بنکوی، اور ماہر القادری ان معدودے چند ...