بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔۔خواہشات نفس پر قابو۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

سچی باتیں۔۔۔خواہشات نفس پر قابو۔۔۔ تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

1927-03-07

چاند اپنے سفر کی گیارہ منزلیں طے کرکے پھر وہیں آگیا، جہاں آج سے ایک سال قبل تھا۔ روحانی بارش کا موسم پھر آگیا، دلوں کی کھیتی پھر ہر ی ہونے لگی۔ رحمتوں کی گھٹائیں پھر جھم جھم برسنے لگیں، برکتوں کے کنول پھر کھلنے لگے۔ عفو ومغفرت کے خزانے ایک بار پھر وقف عام ہوگئے۔ جنت کا ٹکٹ پھر ارزاں ہوگیا۔ آپ مسلمان ہیں، اپنے کو مسلمان کہتے ہیں، مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں، مسلمانوں کا نام اور وضع رکھتے ہیں۔ اپنے ربّ غفور کی ان بخششوں سے، کیا خدانخواستہ آپ فائدہ نہ اُٹھائیں گے؟ پروردگار رحیم وکریم کی ان فیاضیوں کو کیا، خدانخواستہ ، آپ اپنے حق میں بیکار رکھیں گے؟
موسم گُل شباب پر ہے، آپ وسطِ چمن میں ٹہل رہے ہیں، پَر آپ خوشبو کو روکنے کے لئے اپنی ناک پر مضبوط غلاف چڑھائے ہوئے ہیں! اشرفیاں لُٹ رہی ہیں، اور آپ کی گود میں آآکر گررہی ہیں، پرآپ اُنھیں ہاتھ سے جھٹک کر اپنی کوڑیوں کے کھیلنے میں لگے ہوئے ہیں! پختہ ، وسیع، وہموار سڑک، روشنی سے پڑی جگمگارہی ہے، پر آپ تنگ وتاریک ، ناہموار وپُرخار پگڈنڈی پر چل کر اپنے پَیروں کو ہلکان کررہے ہیں! رمضان کا ماہ مبارک ، اپنی تمام لذتوں اور راحتوں، مسرتوں اور فرحتوں کی دعوت آپ کو دے رہاہے، جنت کی نعمتیں خود اپنے کو آپ پر پیش کررہی ہیں، لطافتین اور طہارتیں خود آپ سے ہم آغوش ہرنے کو بڑھ رہی ہیں، پرآپ ہیں، کہ اپنی ملازمت اور اپنی تجارت، اپنی دُکانداری اور اپنی ٹھیکہ داری ، اپنی وکالت اور اپنی طبابت، اپنی نثّاری اور اپنی شاعری، اپنی ماسٹری اور اپنی انسپکٹری، اپنی منیجری اور اپنی ایڈیٹری، اپنی ججی اور اپنی بیرسٹری، اپنی تحصیلداری اور اپنی ڈپٹی کلکٹری، کی دھن میں ایسے مست ومدہوش ہورہے ہیں، کہ ناک رکھتے ہیں، مگر خوشبو کو اپنے اوپر حرام کرلیاہے، آنکھ رکھتے ہیں مگر روشنی سے محرومی اختیار کرلی ہے، بیمار ہیں، مگر دوا کرنے کی قسم کھالی ہے! نادانی، بے عقلی، ناعاقبت اندیشی، بدقسمتی، حرماںنصیبی، کی اس سے بڑھ کر مثال ، تلاش کرکے بھی پیدا کرنی آسان نہیں!
عورت کا خون ، ایک گندہ حالت میں بستہ ہوکر جمع ہوتارہتاہے، چندماہ کے بعد وہی گندہ اور بستہ خون ، ایک نرم ونازک، حسین ودلکش، گورارنگ اور سڈول اعضا رکھنے والا بچہ بن جاتاہے! ناپاک وپُرعفونت کھاد، کھیت میں پڑتی رہتی ہے، کچھ روز کے بعد وہی گندی اوربدبودار کھاد ، خوشبودار پھول، شیریں پھل، اور شاداب پتیوں میں تبدیل ہوجاتی ہے! یہ وہ تغیرات ہیں جو روز مرہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے رہتے ہیں۔ حکم کرنے والا حکم دیتاہے، پیام لانے والا پیام سناتاہے، آج کی تھوڑی سی تکلیف اور احتیاط، کل، لازوال نعمتوں، غیر محدود راحتوں، بیحد وحساب لذتوں میں تبدیل ہوکر رہے گی! ڈاکٹروں اور طبیبوں کے مشورہ سے، اپنے جسم کے درد دکھ دُور کرنے کی خاطر، ہم مسہل لیتے ہیں، فاقے کرتے ہیں، فصد کھُلواتے ہیں، کلوروفارم سونگھ کر بیہوش ہوجاتے ہیں، آپریشن کراتے ہیں، روح کی پاکیزگی کی خاطر، مسرت دائمی کی غرض سے، سرورِ ابدی کے لئے ، راحت سرمدی کے لئے چند گھنٹے کی بھوک پیس کو برداشت کرنے، فجر سے غروب آفتاب تک خواہشاتِ نفس کو قابو میں رکھنے، پر آمادہ ہونا، دنیا کی کسی آئینِ دانش، کسی شیوۂ خِرد، کسی قانون عقل کے موافق ہے؟
ٌٌ
http://www.bhatkallys.com/ur/author/abdulmajid/

 

x

Check Also

تجربات و مشاھدات (12)۔۔۔ مولانا بدر الحسن القاسمی

      اجتھاد وتجدید :۔          **** جامعہ الاما م محمد بن سعود ...