بنیادی صفحہ / مضامین / *مولانا محمد اقبال ملا ندویؒ، جامعہ کے گل سرسبد(۷)… تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل*

*مولانا محمد اقبال ملا ندویؒ، جامعہ کے گل سرسبد(۷)… تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل*

Print Friendly, PDF & Email

 دینی اداروں میں دینی وعصری تعلیم کا امتزاج

مولانا کی علوم عصریہ سائنس تاریخ و جغرافیہ سے بھر پور آگاہی کی وجہ سے بعض لوگ اس غلطی فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ آپ خالص دینی مدرسے کے بجائے دینی وعصری علوم کے امتزاج کے قائل تھے، لیکن حقیقت یہ نہیں تھی، مولانا کی رائے تھی ابتدائی تعلیم میں عصری علوم کا امتزاج ہو، لیکن اعلی درجات میں خالص دینی تعلیم ہو، اس طرح آپ سرکاری اداروں سے دینی اداروں کے الحاق کے بھی سخت خلاف تھے، وہ دینی علوم میں اعلی سند حاصل کرنے کے بعد ملازمت کے لئے سرکاری ڈگریوں کے حصول کی کوششوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، اسی کا اثر تھا آپ کے کئی ایک شاگردوں عصری یونیورسٹیوں کے اعلی امتحانات پاس کرنے کے باوجود ان کے بارے میں کسی کو بتانا بھی پسند نہیں کیا، مولانا نے دبی میں ابنائے جامعہ سے بات کرتے ہوئے واضح طورپرپیغام دیا تھا کہ:۔
انجمن کی دعوت دینی دعصری تعلیم ایک ساتھ سکھانے کی تھی، یہ کام اس سے ہونہ سکا، اور عملی طور پر ایسا کرنا ممکن بھی نہیں ہے، یہ کام سعودی عرب جیسی اسلامی حکومتیں کرسکتی ہیں، ان حکومتوں کے پاس وسائل ہیں، جن کی بنیاد پر وہ اپنا نصاب نافذ کرسکتی ہیں، اسکول والے تو تمرین الصرف جیسی ابتدائی کتاب بھی پڑھا نہیں سکتے، قریبی علاقوں کے بعض اداروں میں ہمارے لوگ عربی نصاب سمجھ کر بعد اپنے بچوں کو داخل کرتے ہیں، یہ سب دکھاوا ہے،ان عصری اداروں میں ایسنس  کی طرح عربی نصاب ہوتا ہے۔
سنہ ۱۹۶۹ ء میں جب جامعہ شمس الدین سرکل کے پاس جوکاکو مینشن (دامن) میں منتقل ہوا تھا، تو حضرت مولانا ابرار الحق حقی خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی آمد ہوئی تھی، اس سفر میں آپ کو سرپرست اعلی جامعہ منتخب کیا گیا تھا، اقبال صاحب، حضرت مولانا ابرارالحق ؒ رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے اصلاحی انداز سے بہت متاثر ہوئے،اس وقت بعض مقامی ذمہ داران کا خیال تھا کہ جامعہ کے ابتدائی نصاب کا سرکاری اسکول سے الحاق ہونا چاہئے، تاکہ طلبہ کے دینی تعلیم چھوڑنے کی صورت میں عصری تعلیم جاری رکھنا ممکن ہوسکے، چونکہ محی الدین منیری ؒصاحب کے بزرگان کے ساتھ روابط بے تکلفانہ تھے، تو اس موضوع پر آپ نے مولانا ابرار الحق سے بات کی، اور مولانا نے اس کی رضامندی دے دی،اس کی خبر پہلے احمد نوری ماسٹر مرحوم کو ملی، مرحوم کا جماعت اسلامی کی فکر سے گہرا تعلق تھا، وہ مدرسوں کے سرکاری اداروں سے الحاق کو مسلمانوں کے لئے زہرہلاہل، اور اسے ان کی آزادی سلب کرنے کا مترادف سمجھتے تھے، آپ نے مولانا اقبال صاحب کو اس کی خبر دی، اور اقبال صاحب نے مولانا سے خصوصی وقت طلب کرکے اس موضوع پر براہ راست بات چیت کی، اور مولانا نے اپنی سابقہ منظوری سے رجوع کیا، اور جامعہ کی سند کا سرکاری اسکولوں سے الحاق ہوتے ہوتے رہ گیا۔مولانا اس بات کے قائل تھے کہ روزی روٹی کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر دینی مدرسے کے فارغ کو اپنی پوری توجہ دینی تعلیم کے حصول پر دینی چاہئے، اور اس کے لئے اپنی زندگی وقف کرنی چاہئے، مولانا کی پوری زندگی آپ کے اس تصور کا عملی نمونہ تھی۔
۱۹۶۹ء میں مولانا محمد صادق اکرمی ندوے سے سند فضیلت لے کر تدریس سے منسلک ہوئے، اور ۱۹۷۱ء میں مولانا ارشاد علی ندوی مرحوم نے بحیثیت مہتمم جامعہ ذمہ داریاں سنبھالیں، ہماری رائے میں یہ جامعہ کے استقرار کے دور کا نقطہ آغاز ہے۔
۱۹۶۷ ء میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن ندوی ؒ کی بھٹکل آمد ہوئی تھی، اور آپ کے ہاتھوں بھٹکل سے باہر نیرلیسر علاقہ میں جامعہ کی نئی بستی بسانے کے ارادے سے پہلے جامعہ کی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا،اور اس قطعہ ارضی کو جامعہ آباد کا نام دیا گیا۔جب ۹/اکتوبر ۱۹۶۷ء ی تاریخ کو جامعہ آباد میں سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، تو اس وقت بھٹکل کی طنابیں نوائط کالونی پر ختم ہوتی تھیں، یہاں سے تقریبا تین کلومیٹر کے درمیان آبادی کا وجود نہیں تھا، گرمیوں میں جب خشک گھانس کھڑی ہوتی تو دور دور تک کسی انسان کا نشان نظر نہیں آتا تھا، قریبی قصبے تینگنگنڈی کے مچھیرے اور مزدور پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے یہاں سے پیدل گزرتے، اور راستے میں ان پیپل کے درختوں کی چھاؤں میں سستاتے، جو جگہ جگہ ایستادہ تھے، رات کے سناٹے کو پاس پڑو س سے گیڈروں کی آنے والی آوازیں دور کرتیں، کبھی راہ بھٹکے شیر وں کا بھی یہاں سے گزرہوتا تو دوچار بکریاں چٹ ہوجاتیں، چٹانیں جب گرمی سے چٹخنے لگتیں تو سانپ بچھو بھی اپنے بلوں سے باہر نکل آتے، یہاں سے گزرنے والے راہ گیر جنات اور چڑیلوں کو دیکھنے کی خبریں بھی سناتے تھے، لہذا بعض لوگوں نے رائے دی کی جامعہ کو اس دور ویرانے میں منتقل نہ کیا جائے، بلکہ نوائط کالونی میں جہاں عثمانیہ مسجد واقع ہے، وہاں اس کی عمارت کھڑی کی جائے۔جب یہ مایوس کن باتیں کانوں تک پہنچتیں تو مولانا اقبال صاحب کی شکل دیدنی ہوتی، آپ درجہ میں طلبہ کو حوصلہ اور جوش دلا تے، اور کہتے کہ جامعہ آباد میں اونچی اور چوڑی عمارتیں کھڑی نہ ہوں تو کوئی بات نہیں، ہم وہاں چھپر لگاکر بیٹھیں گے، اور پڑھائیں گے۔
جامعہ آباد کا افتتاح ا نہی مبارک ہاتھوں سے ہوا جن ہاتھوں سے اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا، اور پھر جنگل میں منگل ہوگیا، اب تو جامعہ آباد شہر بھٹکل کی حدود میں شامل ہوگیا ہے، اور آس پاس کا علاقہ تعمیرات اور آبادی سے بھر گیا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں نوائط کالونی سے جامعہ آباد تک کے علاقے میں دس سے زیادہ وسیع وعریض مسجدیں آباد ہوگئیں ہیں۔
جامعہ آباد کے افتتاح کے ساتھ جامعہ ایک سنہرے دور میں داخل ہوگیا، اس کے سرپرستوں کی توجہات سے اسے مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم المرتبت مہتمم نصیب ہوئے، جنہوں نے اپنی بے نفسی، اخلاص اور شہرت وناموری سے بلند ہوکر اسے جلا بخشی اور یہاں پراپنے تدبر اور علم کی گہرائی کے انمول نقوش چھوڑے، اور ایک ایسا علمی اور تربیتی ماحول تیار کیا، جس کی مثال جامعہ میں نہ پہلے ملتی ہے نہ بعد میں، ۱۹۷۴ء میں جب میری فراغت ہوئی، تو مجھے پہلے ہی سال مکتب جامعہ میں تدریسی خدمات سونپی گئیں، اس دوران ہمار ا ہفتہ میں دو ایک بار جامعہ آباد جانا ہوتا، کبھی وہیں آرام کرتے، عصر اور عشاء بعد اساتذہ کی خوب مجلسیں جمتیں، جو رات ساڑھے دس بجے ریڈیو پر(( اذاعۃ القرآن الکریم جدہ ))سے قاری ذکی داغستانی وغیرہ کی تلاوت کے اختتام کے ساتھ ختم ہوتیں، مولانا اقبال صاحب کا معمول اس زمانے میں سنیچر کو آکر جمعرات کو گھر جانے کا تھا، غیر مقامی اساتذہ حافظ کبیر الدین اور مولانا ارشاد علی وغیرہ بھی یہاں مستقل رہنے والوں میں تھے، جامعہ میں تعلیمی ماحول کے فروغ کا اصل راز اسی میں مضمر تھا، پھر جامعہ کو نظر لگ گئی، شاید اللہ کو اپنے بندوںکا امتحان مقصود تھا، ایک قضیہ نامرضیہ رونما ہوا،۱۹۷۷ء میں مولانا شہباز صاحب چلے گئے، اور ندوہ میں تدریس سے وابستہ ہوگئے، مولانا اقبال بھی جامعہ سے علحدگی پر مجبور کئے گئے۔ اور جامعہ آباد کا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا۔ مولانا صادق اکرمی، شفیع پٹیل، سعید عالم، عبدالقادر دامداابو صاحبان بھی جامعہ سے الگ ہوگئے۔
مولانا شہباز صاحب کے سلسلے میں مولانا نے ابنائے جامعہ کی ایک نشست میں فرمایا تھا کہ: ((وہ ہمارے استاد نہیں تھے، وہ تو ہمارے ساتھ پڑھاتے تھے، لیکن وہ ہمارے استادوں جیسے ہی تھے، ان سے ایک استاد جیسا فائدہ ہمیں پہنچا،مولانا سے ہمیں فکری توسع نصیب ہوا، ا ن کے ہم پر بڑے احسانات ہیں، آج جامعہ میں جو وسعت فکری نظر آرہی ہے، اسے بنانے میں مولانا کا بڑا کردا ر رہاہے، جب وہ چلے گئے تو جامعہ کے ایک انچار ج جناب عبد القادر دامدا ابو مرحوم نے کہا تھا، جب ہمارے والد کا انتقال ہوگیا تھا، تو ہم نے مولانا کو دیکھ کر سمجھا تھا کہ ہمیں ایک والد مل گئے ہیں ، مولانا شہباز صاحب جب تک زندہ رہے، ندوہ جانے والے ہر طالب علم کو مولانا اقبال صاحب نصیحت کرتے تھے کہ مولانا شہباز صاحب سے ملتے رہیں، لہذا بھٹکل سے مولانا شہباز صاحب کا رشتہ منقطع نہیں ہوا، جامعہ کے فارغین ندوے جاتے تو مولانا سے ضرور تعلق رکھتے۔ اس کے بعد مولانا شہباز صاحب دو مرتبہ بھٹکل تشریف لائے، مولانا اقبال صاحب ان کے ساتھ سائے کی طرح لگے رہے، اور بڑا اکرام کیا۔جامعہ سے علحدگی پر مولانا اقبال کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا، ان کے بعض شاگردوں کے رویوں سے انہیں صدمہ بھی پہنچا تھا، وہ آخر تک اپنے اس موقف پر قائم رہے کہ انہیں جامعہ سے علحدگی پر جن وجوہات کی بنیاد پر مجبور کیا گیا تھا، وہ اس کے ذمہ دار نہیں تھے، اس سلسلے میں ذمہ داران نے ان سے کبھی کوئی بات نہیں کی، نہ انہیں اپنی صفائی کا موقعہ دئے بغیر بس فیصلہ سنا دیا گیا۔
http://www.bhatkallys.com/ur/author/muniri/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

سفرحجاز۔۔۔(۳۵)۔۔۔ مکہ مکرمہ۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

مکہ                                                                                                                                                    مکہ کی آبادی شروع ہونے کے ساتھ ہجوم میں بھی ...