بنیادی صفحہ / مضامین / جب حضور آئے۔۔۔(۲۱)۔۔ طلوع صبح جاں نواز۔۔۔ تحریر: سید زاہد حسین رضوی

جب حضور آئے۔۔۔(۲۱)۔۔ طلوع صبح جاں نواز۔۔۔ تحریر: سید زاہد حسین رضوی

Print Friendly, PDF & Email

         ”چمنستان عالم میں ہر طرف باد سموم کے جھونکے مصروف تباہی تھے، ریگزار عرب کے ذرے قتل و غارت گری کے بھڑکتے ہوئے شعلوں سے جھلس رہے تھے، پوری کائنات انسانی پر جبر و جور کا اندھیرا مسلط تھا، انسانی دنیا میں درندگی و بہیمیت پھیلی ہوئی تھی، کہیں فتنہ و فساد کی قہر ناکیاں تھیں اور کہیں حرمان و نامرادی کی چیخیں سنائی دیتی تھیں، انسان بھیڑیوں اور درندوں کی زندگی بسر کرتے اور وحوش و بہائم کی طرح رہتے تھے، عصیاں و سرگشتگی کی آندھیوں نے ہر سمت بربادیاں پھیلا رکھی تھیں، جن گردنوں کو آقائے حقیقی کے سامنے جھکنا چاہئے تھا، وہ خود تراشیدہ بتوں کے سا منے خم ہو رہی تھیں، ہر طرف فتنہ باریاں تھیں اور ہر سو قیامت خیزیاں، خیال بھی نہ ہوتا تھا، تصور بھی قائم نہ ہوتا تھا کہ کبھی بزم عالم سجائی بھی گئی تھی، چرخ نادرہ کار کی کسی گردش نے کبھی ا س کرہ ارض کو بھی  نوازا تھا، اور چمنستان دہر میں بھی کسی دن، روح پرور بہاریں کھیلی تھیں،کہ یکایک غیرت حق نے کروٹ لی، رحمت الٰہی کے بحر بیکراں میں بندہ نوازیوں کی موجیں بلند ہونی شروع ہوئی، بندوں کی ضلالت و نامرادی کی طرف معبود کا گوشہ چشم و کرم مبذول ہوا، چمنستان سعادت میں بہار یں کھلنے لگیں اور پر تو قدس سے ا خلاق انسانی کا آئینہ چمک اٹھا، یعنی وہ تاریخ آ گئی جس کے انتظار میں آفتاب عالم تاب نے مدت ہائے دراز تک لیل و نہار کی کروٹیں بدلی تھیں، وہ صبح جاں نواز طلوع ہوئی جس کے شوق انتظار میں سیارگان فلک چشم براہ تھے، شہنشاہ کونین، تاجدار عرفاں، فرمانروائے کائنات، شاہ عرب، سلطان عجم، صلب عبداللہ اور پہلوئے آمنہ سے پیدا ہوئے، ربیع الاول کی ١٢/ تاریخ تھی کہ ولادت نبوی کا نو رایک پردہ ضیا بن کر تمام عالم امکاں پر پھیل گیا۔“

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

بات سے بات: پیر مرشد کی ضرورت۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

آج بزرگوں کی صحبت اٹھانے کی بات کیا آئی کہ بحث کا ...