بنیادی صفحہ / مضامین / جب حضور آئے۔۔(۱۶)۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی۔۔۔ تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد

جب حضور آئے۔۔(۱۶)۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی۔۔۔ تحریر: پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد

Print Friendly, PDF & Email

چاند چمک رہا ہے، ستارے کھل رہے ہیں ، نور کی پھوار پڑ رہی ہے ۔۔۔۔ اچانک غلغلہ بپا ہوا، ایک ندا دینے والا دے رہا تھا ۔۔۔ لوگو ! صدیوں سے جس ستارے کا انتظار تھا ، دیکھو دیکھو آج وہ طلوع ہو گیا —- آج وہ آنے والا آ گیا — وادی مکہ کے سناٹے میں یہ آواز گونج گئی ۔ سب حیران یہ ماجرا کیا ہے ؟ —- کس کا انتظار تھا ، کون آ رہا ہے ؟ —— ہاں سونے والو ! جاگ اٹھو ! آنے والا آگیا ۔۔۔ نور کی چادر پھیل گئی ، میلوں کی مسافتیں سمٹ گئیں ، بصرائے شام کے محلات نظر آنے لگے ۔ سارے عالم میں چاندنا ہو گیا ، ہاں یہ کون آیا سویرے سویر ے ؟ ۔۔۔ وہ کیا آئے رحمت کی برکھا آ گئی ، نور کے بادل چھا گئے، دور دور تک بارش ہو رہی ہے، چاندی بہہ رہی ہے، حد نظر تک نور کی چادر تنی ہے، عجب سماں ہے، عجیب منظر ہے! ۔۔۔۔ ایسا منظر تو کبھی نہ دیکھا تھا ! تاریکیاں چھٹ گئیں، روشنیاں بکھر گئیں، جدھر دیکھو نور ہی نور، جدھر دیکھو بہار ہی بہار ۔۔۔ تازگی انگڑائیاں لے رہی ہے، مسرتیں پھوٹ رہی ہیں، رنگینیاں اپنا رنگ دکھا رہی ہیں، سارا عالم نمایا ہوا ہے، ذرے ذرے پر مستی چھائی ہوئی ہے، ہاں یہ اجلا اجلا سا سماں، یہ مہکی مہکی سی فضائیں، یہ مست مست ہوائیں، جھوم جھوم کر جشن بہاراں کے گیت گا رہی ہیں ۔
ہاں بہار آئی، بہار آئی،۔۔۔ زندگی میں بہار آئی، دماغوں میں بہار آئی، دلوں میں بہار آئی، روحوں میں بہار آئی ، علم و حکمت میں بہار آئی، تہذیب و تمدن میں بہار آئی، فکر و شعور میں بہار آئی، عقل و خرد میں بہار آئی — برسوں کی ہتھکڑیاں کٹ گئیں، صدیوں کی بیڑیاں ٹوٹ گئیں، گھٹی گھٹی سی فضائیں بدل گئیں، مندی مندی سی آنکھیں روشن ہو گئیں، بجھی بجھی سی طبیعتیں سنبھل گئیں، رندھی رندھی سی آوازیں کھنکھنانے لگیں — ڈوبتے ہوئے ابھرنے لگے ، سہمے ہوئے چہکنے لگے، روتے ہوئے ہنسنے لگے، صدیوں کے دبے ہوئے، پسے ہوئے، سرفراز ہونے لگے، خون کے پیاسے محبت کرنے لگے، ہارنے والے جیتنے لگے ۔۔۔ بکھرے ہوئے خیال یک جا ہو گئے، منتشر قوتیں سمٹ گئیں، ضعیف و ناتواں ایک قوت بن کر ابھرے اور دنیا نے پہلی مرتبہ جانا کہ انسان احسن تقویم میں بنایا گیا ” اشرف المخلوقات کے منصب عالی پر فائز کر کے خلافت الہیہ سے سرفراز کیا گیا ۔۔۔۔ زندگی نے ایسا سنگھار کیا کہ سب جھانکنے لگے، سب دیکھنے لگے، سب تکنے گئے، سب بلا ئیں لینے لگے، سب فدا ہونے لگے، سب آرزوئیں کرنے لگے، سب تمنائیں کرنے لگے۔۔۔ وہ کیا آئے، کائنات کا ذرہ ذرہ دل کش و دل ربا معلوم ہونے لگا ۔
ہاں آج ان کی آمد آمد کا دن ہے، آج عید کا دن ہے، آج خوشی کا دن ہے۔۔۔ ایسا حسین انقلاب آیا کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ۔۔۔ ایسی بہار آئی کہ دنیا نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی ۔۔۔ ایسا حسین آیا کہ دنیا نے ایسا حسین تو کبھی نہ دیکھا تھا ۔ ہاں ۔
بے مثال کی ہے مثال وہ حسن
خوبی یار کا جواب کہاں؟”
(حسرت)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

بات سے بات: پیر مرشد کی ضرورت۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

آج بزرگوں کی صحبت اٹھانے کی بات کیا آئی کہ بحث کا ...