بنیادی صفحہ / مضامین / جمعۃ الوداع کے بارے میں مزید وضاحت۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

جمعۃ الوداع کے بارے میں مزید وضاحت۔۔۔ از: حفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

اودھ نامہ 7 جون کے صفحہ 4 پر ’’رمضان المبارک میں یوگی کے دو تحفے‘‘ کے عنوان سے میری معروضات ایک مضمون کی شکل میں چھپی ہیں۔ جن کا حاصل یہ تھا کہ میں شاید 6 برس سے معلوم کررہا ہوں کہ جمعۃ الوداع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ اس سال کی بات ہے کہ لکھنؤ اور پورے ملک میں آخری جمعہ کو 30 رمضان المبارک تھی اور مسلمانوں کا روزہ تھا اور اس سے پہلے جمعہ کو جمعۃ الوداع تہوار کے طور پر منا لیا گیا تھا اور اس کا خاص خطبہ جو بعض سُنیوں کی مسجد میں پڑھا گیا۔ ’’الوداع والوداع یا شہر رمضان الوداع‘‘ بھی پڑھ لیا گیا تھا۔ اس سال میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ اس کی حیثیت کیا ہے؟ اگر رمضان المبارک کا آخری جمعہ جمعۃ الوداع ہے تو اس سال اگر غلطی سے ایک ہفتہ پہلے منا لیا گیا تھا تو پھر 30 رمضان کو دوبارہ جمعۃ الوداع کیوں نہیں منایا گیا؟ کون تھا جو ایک مرتبہ منانے کے بعد دوبارہ منانے پر انہیں دائرۂ اسلام سے خارج کردیتا یا قانون نے ان کے ہاتھ باندھ دیئے تھے کہ اگر دو مرتبہ جمعۃ الوداع منایا گیا تو سب گرفتار کرلئے جائیں گے؟
میں نے یہ بھی معلوم کیا تھا کہ جمعۃ الوداع اگر دینی حکم ہے تو قرآن پاک، احادیث شریف اور اجماع صحابہؓ نے اس کو کیا کہہ کر منانے کا حکم دیا ہے۔ میرا خطاب صرف ان سے تھا جو اپنے کو اہل سُنّت والجماعت یعنی سُنّی کہتے ہیں اور ان کا ایمان یہ ہے کہ دین وہ ہے جو قرآن عظیم نے بعد میں حضور رسول اکرمؐ نے اور اس کے بعد اجماع صحابہؓ نے بتایا ہو۔ میں نے درخواست کی تھی کہ اگر کوئی صاحب اس کی وضاحت کردیں تو میرے علم میں اضافہ ہوجائے اور میں بھی جب تک حیات ہے جمعۃ الوداع میں یہی سمجھ کر ثواب حاصل کروں اور اسے بدعت سمجھ کر اس کی مخالفت کرنے پر توبہ کروں۔ 7 جون کو تو میں نے یہ بھی گذارش کی تھی کہ میرا 6 سال پرانا وہ مضمون جو کہ ’’میں آخری جمعہ ہوں مگر الوداع نہیں‘‘ ہزاروں بلکہ لاکھوں قارئین نے پڑھا ہوگا۔ ان میں وہ بھی ہوں گے جو الوداع کو اتنا اہم مانتے ہیں کہ وہ اس جمعہ کو سرکاری چھٹی کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اور ان سے معلوم کیا تھا کہ اس سال رمضان المبارک میں چار جمعے ہیں آخری جمعہ 23 جون کو ہے جسے الوداع کے طور پر منایا جائے گا۔ اس سے پہلے جو تین جمعہ گذرے ان میں اور اس چوتھے جمعہ میں مسلمان کی وہ کون سی الگ اور بڑی مصروفیت ہوگی جس کی وجہ سے اسے چھٹی چاہئے؟ میرے جیسے معمولی علم والے نے تو بچپن سے عمر کے اس آخری پڑاؤ تک جس پر میں ہوں رمضان المبارک کے ہر جمعہ کو سنبھل، بریلی اور لکھنؤ میں ایک ہی طرح سے منایا۔ غسل کیا، صاف اور پاک کپڑے پہنے، نماز سے آدھا گھنٹہ پہلے مسجد میں حاضری دی، خطبہ سنا خطبہ سے پہلے امام صاحب نے اگر آخری عشرہ کے فضائل اور آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کی اہمیت اور فضیلت اُردو میں بیان کی ان کو سنا، سنتیں پڑھیں، دو رکعت واجب نماز پڑھی پھر سنتیں پڑھیں اور واپس آگئے۔ ان کے علاوہ چوتھے جمعے کو اور کیا ہوگا یہ کوئی نہیں بتاتا؟ میں نے ہیلپ لائن کا بھی ذکر کیا تھا جسے میں روز دیکھتا ہوں لیکن سب خاموش ہیں۔
نہ کسی نے جواب میں مضمون لکھا نہ مراسلہ لکھا البتہ میرے گمنام کرم فرما ٹیلیفون کرکے مجھ سے معلوم کررہے ہیں کہ تمہاری علمی لیاقت کیا ہے؟ اور میں نے ہمیشہ کی طرح بتایا کہ معمولی پڑھا لکھا مجھے کہا جاتا ہے۔ جو ٹیلیفون بھی آئے ان میں ایک ہی بات تھی کہ اگر قرآن حدیث اور صحابہؓ کا عمل نہیں ہے تو کیا تم نے دنیا کے تمام علماء کی کتابیں اور بیان پڑھے ہیں؟ ظاہر ہے کہ میرے جیسا کم علم اس کا اقرار کیسے کرتا۔ جن محترم حضرات نے فون کئے انہوں نے صرف اپنی تقریر دل پذیر کردی اور جواب کے وقت فون بند کردیا۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ سواد اعظم اگر کررہا ہے تو وہ دین ہوگیا۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ اگر کسی نے دین کے دبے ہوئے یا نظر انداز کئے ہوئے دین کو تلاش کیا اس کا بھی بڑا درجہ ہے۔ یعنی جمعۃ الوداع حضور رسول اکرمؐ کے زمانہ میں تھا صحابہ کرامؓ کے زمانہ میں کبھی تھا بعد میں اس پر مٹی پڑگئی اور وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا پھر جس نے اسے شروع کیا اس نے گویا ایک حدیث دریافت کرلی وغیرہ وغیرہ۔
ٹیلیفون کرنے والے ایسے کرم فرما بھی تھے جو تقریر تو پوری کرنا چاہتے تھے مگر دو چار روپئے بھی نہیں خرچ کرنا چاہتے تھے انہوں نے میرے ایک ملازم کی زبان میں ’’مس کال کردی۔‘‘ ایک گھنٹی بجی اور فون بند کردیا میرے فون پر مس کال کا اشارہ آیا تو میں نے فون کیا اور انہیں اپنا جوش نکالنے کا پورا موقع دیا پھر جب میں نے جواب عرض کرنا چاہا تو فون بند کردیا۔ میں نے پھر کیا اور عرض کیا کہ مجھے بھی تو موقع عنایت فرمایئے۔ محترم نے فرمایا کہئے۔ میں نے بات شروع کی تھی کہ پھر ان کی تقریر شروع ہوگئی۔ جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ صرف دل کا بخار نکالنا چاہ رہے تھے اور ایک بدعت پر سے ایک جاہل نے کیسے پردہ ہٹا دیا اس سے ناراض تھے۔
پاک پروردگار معاف فرمائے میں اپنی تعریف میں نہیں حقیقت کا اظہار کررہا ہوں کہ (میرے بڑے بھائی مولانا عتیق الرحمن سنبھلی فاضل دیوبند ہیں۔ انہوں نے ندوہ میں ایک سال مشکوٰۃ شریف بھی پڑھائی ہے اور برسوں الفرقان جیسے ممتاز دینی رسالہ کے ایڈیٹر رہے، ان کی صحت کی وجہ سے انہیں لندن بھیجنا پڑا وہاں پہلے وہ سیرت النبیؐ انسائیکلوپیڈیا میں کام کرتے رہے اس کے بعد سے تفسیر قرآن لکھ رہے ہیں جس کی 6 جلدیں محفل قرآن کے نام سے آچکی ہیں اور آدھے سے زیادہ قرآن ہوچکا ہے۔ اتنی بات تعارف کے لئے لکھ دی قصیدہ مقصد نہیں تھا۔) جس سال میں نے وہ مضمون لکھا تھا وہ لندن میں ہی تھے میرے بھانجہ نے ای۔میل سے وہ مضمون ان کو بھیج دیا۔ انہوں نے صرف ایک جملہ کہا کہ۔ ارے اس طرف توجہ ہی نہیں کی تھی۔ اس کے بعد مجھے احساس ہوا کہ واقعی ہمارے علماء نے اس پر غور ہی نہیں کیا۔ بس اتنا کیا کہ خود نہیں منایا اور جیسے بہت سی چیزیں دین کے نام سے رائج ہوگئی ہیں اور دین نہیں ہیں اسے بھی ایسا ہی سمجھ لیا۔ قارئین کرام سے عرض کرنا ضروری ہے کہ میرے والد اور میرے بھائی سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لیکن رعایت جس چیز کا نام ہے دونوں میں رتی برابر بھی نہیں تھی اور نہ ہے۔ وہ لندن میں میرا مضمون روز پڑھتے ہیں نیٹ پر پڑھنے کے بعد ہی سوتے ہیں اگر کوئی چوک ہوگئی تو رات میں ہی فون آجاتا ہے کہ میاں یہ کیا لکھ دیا؟ وہ تو میرا فون کا رشتہ ہے۔ آخر اور کوئی کیوں نہیں لکھتا کہ جمعۃ الوداع کیا ہے کہاں سے آیا؟ سواد اعظم تو وہ ہے جو 15 شعبان کی رات کو موٹر سائیکلوں پر تین تین لوفر ایک قبرستان سے دوسرے قبرستان غنڈہ گردی کرتے ہیں کیا یہ بھی دین ہوجائے گا؟۔
Mobile No. 9984247500

x

Check Also

بات سے بات: شیخ احمد دیدات۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری

مولانا بدر الحسن قاسمی صاحب نے اپنی یاداشتوں کی قسط نمبر ۱۳ ...