بنیادی صفحہ / مضامین / جوبات کی خدا کی قسم لاجواب کی:ازحفیظ نعمانی

جوبات کی خدا کی قسم لاجواب کی:ازحفیظ نعمانی

Print Friendly, PDF & Email

 از:حفیظ نعمانی

دہلی اردو اکادمی کے متعلق گذشتہ برسوں میں جب بھی کوئی خبر آئی ہے اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ بیٹی اپنی ماں سے بہت چھوٹی ہونے کے باوجود قابل تعریف اور قابل قدر ہے۔اترپردیش کی اسمبلی کی سیٹیں ۴۲۵؍ہیں جوکہ دہلی اسمبلی سے چھ گنا زیادہ ہیں لیکن اس کی اردو اکادمی کو یہ فخر حاصل ہے کہ جس اترپردیش میں سب سے پہلے اردواکادمی کی ولادت ہوئی تھی، اب سے دس سال پہلے کہیں یہ پڑھا تھا کہ دہلی اردو اکادمی کا بجٹ تین کروڑہے جبکہ اترپردیش اردو اکادمی کا بجٹ اسوقت ۷۵؍لاکھ تھا۔
محترمہ شیلا دکشت کے زمانہ میں دہلی کی اکادمی کے بارے میں کبھی نہیں سنا کہ دہلی کے اردو والوں کو اس سے شکایت ہے جبکہ اترپردیش کی اردو اکادمی موجودہ اکادمی سے پہلے مستقل تنازعات کے گھیرے میں رہی۔ اور چھوٹے سے بجٹ کے باوجود مالیات سے متعلق ہمیشہ مخلصوں کے نشانہ پر رہی لیکن دہلی اکادمی کی یاتو لکھنؤ کے اخباروں نے خبریں چھاپی نہیں یا واقعی وہ اوچھی حرکتیں جو اترپردیش میں ہوتی رہیں دہلی میں نہیں ہوئیں۔ شاید ملک کی درجنوں اکادمیوں میں ایسی کوئی اکادمی نہ ہوگی جس کا چیرمین ایسے قابل کو بنایا گیا ہو جو اپنی کرسی پر بیٹھنے کے بعد اپنے دفتر کے ساتھیوں سے کہے کہ میں اردو پڑھ تو لیتا ہوں مگر لکھ نہیں پاتا۔ اور پھر پانچ سال ایک ایسی خاتون اس کی نائب صدر اور چیرپرسن رہی ہوں جن کی قابلیت جو بھی ہو مگر وہ اردو کی نہ ادیبہ تھیں ، نہ شاعرہ، نہ استاذ تھیں اور مصنفہ ، بس مسلمان تھیں۔
گذشتہ چھ مہینے سے دہلی میں ایسا انقلاب آیا ہے جس نے ملک کو ہلا دیا۔ یعنی وہ کانگریس جس کی حکومت دہلی میں ۱۵؍برس سے تھی اس کا ایک ممبر بھی اسمبلی میں نہیں ہے وہ مودی سرکار جس نے ۲۰۱۴ء میں ہر پارٹی کو دھول چٹادی اور جو ۳۰۰؍ممبروں کے ساتھ من مانی اور من چاہی حکومت کررہی ہے اس کے صرف دو ممبر اسمبلی میں ہیں جس کی وجہ سے اس کی حالت یہ ہے کہ ننگا کیا نہائے اور کیا نچوڑے؟ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے جس کی کوئی کمزوری ایسی نظر نہیں آئی کہ ہم محبت بھرے انداز میں اس سے کوئی شکایت کرسکیں۔ اس کے برعکس اس کا جو بھی قدم اُٹھتا ہے وہ عام آدمی کا ترجمان ہوتا ہے۔
دہلی اردو اکادمی کے بارے میں ابھی تک کوئی خبر نہ آنے سے ہم فکر مند تھے کہ دہلی کے ممتاز ادیبوں اور شاعروں نے ابھی تک نہ قلم اُٹھایا نہ زبان چلائی؟ پندرہ روز پہلے اس کے چیرمین اور گورننگ کاؤنسل کے ممبروں کے نام آئے تھے۔ اس سے زیادہ کوئی خبر نہیں تھی۔ ۲؍ستمبر کو ابھرتے ہوئے شاعر ملک زادہ جاوید کے ایک خط سے معلوم ہوا کہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے تو وہ کردیا جس نے روشن مستقبل کے روشن دان کھول دئیے۔ سب سے اہم بات تو یی کہ سابقہ کاؤنسل اور چیرمین کی خدمات کو سراہا ۔ انہیں انتہائی باعزت طریقہ سے رخصت کیا۔ اور نئی کاؤنسل سے توقعہ ظاہر کی وہ اور بھی اچھے طریقہ سے کام کرکے نام روشن کریں گے۔ اس سے بڑی بات یہ کہ اردو زبان و ادب کے فروغ میں کہیں کوئی دشواری محسوس ہو تو انہیں مطلع کیا جائے۔ ان کی سرکار اس کی مدد کرے گی۔
مسٹر کجریوال نے جو سب سے اہم بات کہی وہ یہ ہے کہ انہوں نے یقین دلایا کہ ہرسرکاری اسکول میں اردو کی تعلیم لازمی کی جائے گی اور جوپروئیویٹ اسکول ہیں ان کے ذمہ داروں سے گذارش کی جائے گی کہ وہ بھی بچوں کو اردو پڑھائیں۔اروندکجریوال اور ان کے نائب منیش سسودیا اور ان کے جواں سال اور عزل حوصلہ ساتھیوں کو اگر اس طرح حکومت کرنے کاموقع ملتا جیسے مسز شیلا دکشت کو ۱۵؍سال ملا تو یقین ہے کہ دہلی کے بہت سے مسائل حل ہوجاتے۔ آج جو بھی اور جہاں بھی حکومت ہے اس کی سب سے مضبوط طاقت پولیس ہوتی ہے۔ کجریوال کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ پولیس کمشنر سے اس طرح بات کرتے ہیں جیسے وہ حزب مخالف کے لیڈر ہوں۔ انتہا یہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے وردی اتارے بغیر دو دو ہاتھ کرنے پر بھی تیار ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پوری مودی سرکار کا ہاتھ ان کی کمر پر ہے۔
آج دہلی میں امن و امان اور خاص طور پر گینگ ریپ کا دور دورہ ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ہندوستان اور پاکستان کے بگڑتے ہوئے حالات کو دیکھیں ، کشمیر کی گتتھی سلجھائیں ، آسام اور آندھرا کے سیلاب کو دیکھیں یا دہلی کے گینگ ریپ کو؟ مودی صاحب نے اپنی دہلی کی ہار کو کلیجے کا ایسا زخم بنا لیا ہے جس سے اس وقت تک خون رسنا بند نہیں ہوگا جب تک یا تو دہلی میں نجیب جنگ راج نہ ہوجائے یا کجریوال ہی استعفیٰ دے کر نہ بھاگ جائیں۔ مودی صاحب اور ان کی پارٹی کے لوگ جو بھی چاہیں وہ کریں لیکن وہ کجریوال کا اس لئے کچھ نہیں بگاڑ سکتے کہ دہلی پوری ریاست نہیں ہے۔ مودی صاحب اگر دہلی کی ہار کو ناک کا سوال نہ بناتے اور دہلی کو پوری ریاست کا درجہ دے دیتے تو سال دو سال کے بعد ہی انہیں ایسا موقع مل سکتا تھا کہ وہ کسی الزام میں ان کی حکومت برخواست کرادیتے۔اب تو وہ اور مزے میں ہیں کہ نیک نامی سب ان کے کھاتے میں لکھی جارہی ہے اور بدنامی پولیس کے اور مرکزی حکومت کے کھاتے میں۔
اترپردیش میں جو سب سے پہلے اردو اکادمی قائم کی گئی تھی، یہ اکادمی اردو کے مطالبہ کے جواب میں تھی۔ اس اکادمی کے خلاف ہم جتنا لکھ سکتے تھے اتنا لکھا اور اس لئے لکھا کہ اردو والوں نے اردو زبان مانگی تھی اکادمی نہیں۔ یہ وہی سازش ہے جو زبان کو ختم کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ آزادی کے بعد دوسرے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر سمپورنانندنے اردو کے مطالبہ کے جواب میں انتہائی آخری حربہ استعمال کیا تھااور کہہ دیا تھا کہ اردو کوئی زبان ہی نہیں ہے۔ وہ ہندی کی شیلی ہے۔ ظاہر ہے انہوں نے اردو والوں کو سب سے پچھلی صف میں ڈھکیل دیا تھا کہ اردو پڑھانے اور پڑھنے کی بات تو جب ہوگی جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ اردو کوئی زبان ہے؟۔
جوش نے اپنے اکلوتے فرزند کو مخاطب کرکے کہا تھا۔ع تجھ کو مادرزاد دشمن کا کوئی کھٹکا نہیں۔ ڈاکٹر سمپورنانند بھی اردو کے مادرزاد دشمن تھے، وہ اردو کے شاعر تھے، آنند تخلص کرتے تھے اور کائستھ ہونے کی وجہ سے بہت اچھی فارسی جانتے تھے۔ انکی اسی مہارت نے انہیں مادرزاد دشمن بنا دیا۔ ورنہ ان سے پہلے پنڈت گوبند بلبھ پنت اور ان کے بعد سی بی گپتا کسی نے اردو کو اس کا حق نہیں دیا لیکن کسی کی یہ ہمت بھی نہیں ہوئی کہ وہ یہ کہے کہ اردو کوئی زبان نہیں ہے۔ ہندی کی شیلی ہے۔ اور جب سمپورنانند کے اردو کے اشعار اور ان کی فصیح اردو میں گفتگو کے متعلق دریافت کیا جاتا تھا کہ یہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیا کرتے تھے کہ یہ ہندی ہے۔
۳۵؍سال سے زیادہ عمر ہوجانے کے بعد بھی اترپردیش کی اکادمی اردو تعلیم کا انتظام نہیں کیا بلکہ اس نے اردو پڑھنے والوں کی اتنی ہمت افزائی بھی نہیں کی کہ سال بھر کا دوہزار وظیفہ کردیا ہوتا۔ لیکن ان کو جو اپنے طور پر اردو میں ادب پارے لکھ رہے ہیں انہیں ہزاروں روپئے سے نوازا جارہا ہے۔ اروندکجریوال نے یہ کہہ کر کہ وہ سرکاری اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا انتظام کریں گے وہ کردیا جس سے ہر اردو والے کا بال بال ان کا احسان مند رہے گا۔
مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں کوئی سرکاری پبلک اسکول میں اردو پڑھانے کی بات نہیں کرتا لیکن اردو کی یونیورسٹی قائم کرنے کی بات ہوتو وہ کروڑوں روپئے دینے پر تیار ہے۔یہی بات ہے جس کی ہم نے مختلف انداز میں نہ جانے کتنی بار لکھا ہے کہ زندگی باقی رکھنے کے لئے روٹی اور پانی کوئی نہیں دیتا۔ لپ اسٹک کریم اور پاؤڈر سب بانٹ رہے ہیں۔ خدا خوش رکھے کجریوال کو کہ انہوں نے وہ کردیا جو ۶۸؍برس میں کوئی نہ کرسکا۔ اب ہر اردو پریمی کا فرض ہے کہ وہ کجریوال کے سو خون معاف کردے۔ اور ہر مورچہ پر ان کی مدد کے لئے سامنے آئے۔
اروند کجریوال نے وہ کردیا جس کے لئے اردوکے عاشقوں نے ۲۴؍لاکھ دستخطوں سے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم دیا تھا کہ وہ اسے علاقائی زبان بنادیں اور آج تک اس کا جواب نہیں آیا۔ خدا ہر موقع پر اور ہر محاذ پر اروند کجریوال کو کامیابی عطافرمائے کہ انہوں نے وہ کردیا جو اردو والوں کے جوتوں کے طفیل پچاس برس حکومت کرنے والی کانگریس نے بھی نہ کیا اور آئندہ کرنے کا وعدہ بھی نہیں کیا۔ اسے دوسری سرکاری زبان بنایا جس کا بننا نہ بننا ایک جیسا ثابت ہورہا ہے۔

x

Check Also

تجربات و مشاھدات (12)۔۔۔ مولانا بدر الحسن القاسمی

      اجتھاد وتجدید :۔          **** جامعہ الاما م محمد بن سعود ...