بنیادی صفحہ / مضامین / کیا ہماری اجتماعی زندگی میں کسی طوفان کے اشارے مل رہے ہیں؟۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

کیا ہماری اجتماعی زندگی میں کسی طوفان کے اشارے مل رہے ہیں؟۔۔۔۔از: ڈاکٹر محمد حنیف شبابؔ

Print Friendly, PDF & Email

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے………..  

پچھلے کچھ دنوں سے مجلس اصلاح وتنظیم کی اجتماعی قیادت اور مختلف علاقوں کے چند نوجوانوں کا تصادم عوامی منظر نامے پر کچھ ایسے اشارے دے رہا ہے کہ جس کے بارے میں سوچ کر ہی دل و دماغ پریشان ہوجاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ افراد ہی کی طرح قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھی نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔اختلاف رائے مخالفت میں اورکسی فیصلے سے متفق نہ ہوناآپسی ناچاقیوں کا روپ بھی لیتے رہتے ہیں۔ لیکن افرادِ قوم اگرقرآنی حکم کے مطابق سیسہ پلائی ہوئی دیوار (بُنیانِ مرصوص) بننے کے بجائے بنیاد کے پتھروں کو ہی ہٹانے اور اپنی اجتماعیت کوسبوتاژ (sabotage) کرنے پر آمادہ ہوجائیں توسمجھ لینا چاہیے کہ وقتی طور پر اجتماعیت کو جو نقصان پہنچے گااس کی تلافی کرنے میں صدیا ں لگ جائیں گی۔

اختلاف کے باوجود اتحاد ضروری: دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوم کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے لئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ

اس پس منظر میں اگر دیکھیں تو ایک ایک فرد قوم کی تعمیر و تشکیل میں بنیاد کے پتھر کی سی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اگر کسی معاملے میں، کسی موضوع پراور کسی شخص یا شخصیات کے ساتھ اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور پھر بالفرض وہ مخالفت کی شکل بھی اختیارکرلیتا ہے تو متعلقہ افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسئلے کوحل کرنے کے لئے ایسی حکمت اور دانشمندی کا راستہ اپنائیں کہ اس سے اجتماعیت اور اتحاد پر کوئی آنچ نہ آئے۔تمام تراختلافات کے باوجودقومی و ملّی مفاد کے پیش نظر اتحاد کو برقرار رکھنے کی تدابیر کو ترجیح دے۔

اگر ناانصافی ہوئی تو؟!!: بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی حساس مسئلے پر اربابِ حل و عقد اور عوام کے بیچ اختلاف رائے اس حد تک ہوجاتا ہے کہ ظاہری طور پر ایسا نظر آتا ہے کہ شائد اربابِ حل و عقد نے جو نہج اپنائی اور جو موقف اختیار کیا وہ غلط تھا۔ اور اس موقف کے نتیجے میں جو فیصلے کیے گئے ہیں اس میں انتقامیvindictive کارروائی کی بو محسوس ہوتی ہے۔ اور کئی بار یہ باتیں سچ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی صورتحال میں بھی جب کہ کسی کویہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے یا اس کے ساتھ بدلے کی کارروائی کی گئی ہے ، تب بھی ملّی اتحاد کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس فرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے احساسات اور جذبات کی قربانی دے۔ اپنے نفس کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، خود حق پر ہونے کے باوجود وہ کسی ایسے اقدام کی طرف راغب نہ ہو جو قوم و ملّت کے اداروں کو ہی انتشار و افتراق کا شکار بنادے ۔میرے خیال میں سو ٹکے کی ایک بات یہ ہے کہ ایک شخص یا چند افرادکا وقتی نقصان اگر ہوبھی تو ملت کے بہتر مفاد اور تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے گوارہ کیا جاسکتا ہے، اور کیا جانا چاہیے۔ الحمدللہ۔ میں نے اپنی زندگی میں عملی طورپر اس کا مظاہرہ کیاہے !

ہم سے پوچھو نہ عشق کی باتیں
ہم کو دیکھو مثال ملتی ہے

ہاری ہوئی سیاسی بازی کا بھوت: دراصل یہ حالیہ اسمبلی الیکشن میں ہاری ہوئی سیاسی بازی کا بھوت اپنا ڈراؤنا چہرہ دکھانے لگا ہے۔اور اس سیاسی کھیل پر شروع ہونے والا ہمارے مرکزی ادارے مجلس اصلاح و تنظیم کی قیادت اور کچھ نوجوانوں کا ٹکراؤ چائے کی پیالی میں اٹھنے والے طوفان سے آگے بڑھ کر ایک تباہ کن سمت اختیار کرنے کے اشارے ملنے لگے ہیں۔ بات الیکشن کے ایشیو پر تنظیم کی قیادت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے منفی اور مثبت پہلو پر بحث کی تھی۔ اور اسے آئندہ کے لئے مزید فول پروف اسٹریٹجی بنانے کی تجاویز اور تدابیر پر ختم ہوجانا چاہیے تھا۔لیکن الیکشن ختم ہوتے ہی چند نوجوانوں کی طرف سے اپنی بے اطمینانی کا اظہار عجلت اور بے صبری کے ساتھ اور انتہائی غیر دانشمندانہ طریقے سے کرنا اس مسئلے کو پیچیدہ کرگیا۔

باز پرس ہونی چاہیے: قومی و ملّی معاملات میں افراد اور نوجوانوں کا باشعور ہونا اور اپنے مسائل سے آگاہ رہنا ۔ پھر اسے حل کرنے کے لئے بہتر تجاویز کے ساتھ آگے بڑھنا بہت ہی قابل ستائش بات ہے۔ فردکا ملت کے مقدر کا ستارہ ہونے کا مطلب یہی ہے۔ اوراداروں کی زمام اقتدار سنبھالے ہوئے ارباب حل و عقدکے بارے میں جب بھی محسوس ہوکہ ان کا تجزیہ، ان کا طریقۂ کار اور ان کی نہج درست نہیں تھی، تو یقیناًاس کی باز پرس کرنا بھی ضروری ہے ۔ وقتاً فوقتاً احتساب کرتے رہنا عزائم اور پالیسی کو سان چڑھانے جیسا ہوتا ہے۔مگر اس کے لئے ایک تو اخلاقی اور دوسرے اس ادارے سے متعلق دستوری حدود ہوتے ہیں، جنہیں پھلانگنے کی نہیں کوشش کرنی چاہیے اور نہ ہی اس کی اجازت دی جانی چاہیے۔بصورت دیگر اداروں کا وجود ہی خطرے میں پڑنا یقینی ہوتاہے۔

کیا ہنگامہ ٹالا جاسکتا تھا: حالیہ اسمبلی الیکشن کے اختتام پرجذباتی طور پر مشتعل نوجوانوں کے ایک ہجوم نے جو ہنگامہ آرائی کی کیا وہ ضروری تھی؟ یقینی طور پر جواب یہی ہے کہ مسئلہ اہم ہونے کے باوجود ہنگامہ آرائی کا نہ یہ موقع تھا ور نہ ہی یہ طریقۂ کار درست تھا۔
لیکن کیا اس طرح ’ مشتعل ہجوم ‘کے ذریعے تنظیم کے فیصلوں کو متاثر کرنے یا پھر باقاعدہ اور باضابطہ فیصلے کروانے کی کارروائی تنظیم کے احاطے میں پہلی بار ہوئی تھی؟ کیا اس سے پہلے کچھ خاص لوگوں نے پردے کے پیچھے رہ کرایسے ہی نوجوانوں کو اکساکر ’ہنگامی اور ہجومی‘ فیصلے نہیں کروائے تھے؟ کیا اس مرتبہ معمولی تکرار اور’ تو تو میں میں‘ جو بڑے ہنگامے میں تبدیل ہوگئی کیا اسے ٹالا نہیں جاسکتا تھا؟کیا اس موقع پر موجود اربابِ عقل و دانش اور عہدیدارانِ تنظیم جذباتی طور پر’ برہم نوجوانوں ‘کو مصلحت کے ساتھ ٹھنڈا کرنے اور صورتحال کو قابومیں کرنے کی کامیاب کوشش نہیں کرسکتے تھے؟کیا غیر دانشمندی سے کیے جانے والے اس ناپسندیدہ اور نامطلوب تصادم کوموقع پر موجود عہدیداران، ملّت کے عظیم تر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی دانشمندی سے ٹال نہیں سکتے تھے؟ یہ چند سوالات ہیں جن کے جوابات عدل و انصاف کی کسوٹی پر ڈھونڈے جانے چاہئیں۔ہوسکتا ہے کہ عقل وخرد کے پیمانے پر ان میں سے کچھ جوابات اثبات میں مل جائیں!

نوجوانوں کے خلاف تادیبی کارروائی: ہنگامہ آرائی اور غیر دستوری سرگرمیوں کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے ، چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہو۔ اس میں دو رائے ہونہیں سکتی۔ اگر ماضی میں دستور کی بالادستی قائم رکھنے کے لئے اس طرح کی کارروائیاں نہیں کی گئی تھیں (اور یقیناًنہیں کی گئی تھیں) تو وہی روش اب کی بار بھی کارروائی نہ کرنے کا جواز نہیں بن سکتی۔لیکن تنظیم کی طرف سے اجتماعی مفاد کے لئے جو جرأت مندانہ اقدام کیا گیا ہے اس سے متاثرہ افراد کو کچھ اعتراضات اورشکایتیں ہیں۔ اور ان میں سے بعض شکایتیں بادی النظر میں کچھ وزن رکھتی محسوس ہوتی ہیں۔ ایک شکایت تو یہی ہے ہنگامے کے دوران حالانکہ ایک بڑا ہجوم موجود تھا،مگر ان میں سے صرف پندرہ افراد کو خاص طور پر ٹارگٹ بناکر سزاسنائی گئی ہے۔ جبکہ تنظیم کا موقف یہ ہے کہ ڈسپلن کمیٹی کی اپنی تحقیقات کے دوران عملی طور پر ہنگامے میں ملوث ہونے کے تعلق سے جو نام سامنے آئے ، اسی کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے۔

کیا سزا کچھ کم ہوسکتی تھی؟!: فیصلے سے متاثر ہونے والوں کے دو بڑے اعتراضات میں سے ایک تو یہ ہے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو حاضر ہوکر اپنا بیان زبانی درج کروانا چاہتے تھے، جبکہ ڈسپلن کمیٹی نے صرف تحریری بیان طلب کیے ۔زبانی بیان درج کروانے کا موقع نہ دیتے ہوئے نیچرل جسٹس سے انہیں محروم کیا گیا۔ان کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بنیادی رکنیت سے طویل عرصے تک کے لئے خارج کرنے کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف انتقامی جذبے کے تحت’ خطا سے بڑی سزا‘ سنائی گئی ہے۔
چاہے متاثرین کا موقف کچھ بھی رہے ، لیکن مصلحت اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھ کرسوچنے سمجھنے والے افراد اور بعض اراکین انتظامیہ کا بھی احساس ہے کہ اس سزا کی زدمیں چند متحرک اور فعال اسپورٹس کلبوں سے منسلک افراد بھی آگئے ہیں۔ چونکہ ان میں سے کسی کو بھی اس سے پہلے کبھی تنظیم کی جانب سے کسی معاملے میں سزا سنائی نہیں کی گئی ہے۔ اوراس پس منظر میں انہیں کڑی سزا سنانے کے عادی خطاکار habitual offenderکے طور پر بھی ٹریٹ نہیں کیا جا سکتا ۔لہٰذا سخت ترین سزا سے بچا جا سکتا تھا۔

اے کاش کچھ ایسا ہوتا!: میرا اپنا موقف بھی یہی ہے کہ ان نوجوانوں کے ساتھ سزا میں ذرا سی نرمی کا معاملہ کیا جاسکتا تھا ۔اور تادیبی کارروائی ایسی ہوتی کہ سزامیں عفو و کرم کا پہلوبھی جھلکتا اور یہ سزا صرف انہیں آئندہ اس طرح کے اقدامات سے باز رکھنے کا سبب بن جاتی۔ جس سے انہیں عہدیداروں کے ساتھ ساتھ ادارے بھی سے بدگمان ہونے یا بدگمانی پھیلانے کا موقع ہاتھ نہ آتا ۔اور میرا یہ موقف اس حقیقت کے باوجود ہے کہ میں جانتا ہوں کہ خود میرے کے خلاف جو ’ہنگامی اور ہجومی فیصلہ‘ ماضی میں کیا یا کروایا گیا تھا اس میں بھی کچھ چہرے ایسے موجود تھے جو اس وقت کی صورتحال میں بھی دونوں طرف موجودہیں۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے رسوااورذلیل(humiliate)کرنے کے لئے’ ’قائدین‘‘، ’’خادمین ‘‘، اور’’حوارین‘‘کے کس کیمپ نے کیاکیا کردار ادا کیے تھے اور آج وہ کہاں کھڑے ہیں ۔اور الحمدللہ میرے مالک نے مجھے کہاں رکھا ہے۔اسی لئے تو کہا تھا کہ:

سر مرا اچھالا ہے جس نے اپنے نیزے پر
وہ نہ تھا یزیدوں میں ، تھا مرے عزیزوں میں

لیکن میری حمیت اور ملّی غیرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اس وقت خاموش تماشائی بن کرعمل مکافات کے اس چکر ویو کا مزہ لوں۔ اور اسے اپنے پرانے زخموں کو سہلانے اور ا س سے لطف اندوز ہونے کا ذریعہ بناؤں۔

یہ کیسی مفاد پرستی ہے؟: جیسا کہ میں نے شروع میں کہا انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں نشیب و فراز آتے جاتے رہتے ہیں۔ اسے جی کا جنجال بناکر ایک ہی مقام پر ٹکے رہنا دانشمندی نہیں ہے۔ ناکامیوں سے سبق سیکھنا اور کامیابیوں سے مزید بہتری کی طرف آگے بڑھنے کی راہیں نکالنا ہی قوموں کی زندگی میں بنیادی پالیسی ہوا کرتی ہے۔مگر اس بار تنظیم کے فیصلے سے متاثر ہونے والے نوجوانوں کے تعلق سے جو خبریں گردش میں ہیں اور ا ن کی طرف سے مبینہ طور پر جس طرح کی نہج اپنانے کی باتیں عام ہورہی ہیں وہ یقیناًتشویش ناک ہیں۔جب ان نوجوانوں کے تعلق سے تادیبی کارروائی اور فیصلہ تازہ تازہ سامنے آیا تھا، تو ہواؤں میں یہ بات گردش کررہی تھی کہ ’’ہم لوگ نئی تنظیم بنائیں گے۔‘‘جیسا کہ اس سے تھوڑے ہی عرصے پہلے یوتھ فیڈریشن میں اٹھنے والے مختصر سے طوفان کے وقت بڑی عجلت میں ’’دوسری یوتھ فیڈریشن‘‘ قائم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ہم نے سمجھا تھا کہ نوجوانوں کے لئے چونکہ یہ فیصلہ غیر متوقع تھا اس لئے وقتی طور پرجذبات کی رو میں بہہ کر ایسی باتیں کی جارہی ہیں۔ اور یہ معاملہ بھی غصہ اور اشتعال کم ہونے کے بعداسی طرح سردخانے میں چلا جائے گا جس طرح ’’دوسری یوتھ فیڈریشن‘‘ والا شوشہ چلا گیاتھا۔اس لئے اس سے صَرفِ نظر کیا جانا چاہیے۔

لیکن یہ تو حد ہوگئی جناب !: لیکن میرے یقین و اعتماد کو اس وقت سخت دھچکا لگا جب دوسرے ذرائع کے علاوہ صدر تنظیم جناب مزمّل قاضیا کے بھٹکلیز ویب سائٹ کو دئے گئے انٹرویو سے بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ نوجوانوں میں سے کچھ لوگ تنظیم کے عہدیداروں سے بدلہ لینے یا دوسرے الفاظ میں تنظیم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لئے فسطائی کیمپ کا سہارا لینے کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔خود صدر تنظیم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے فسطائی عناصرکے تعاون سے کاغذات حاصل کیے گئے ہیں۔اگر واقعی اس بات میں سچائی ہے ، (خدا کرے کہ یہ بالکل جھوٹ ہو!)تو اسے کھلی ہوئی بغاوت اور انتہائی درجے کی مفاد پرستی سے تعبیر کیا جائے گا۔مزمّل صاحب ہوں یا کوئی اور عہدیدار ہو یاپھر ہماری ملّت کا کوئی عام فرد ہی کیوں نہ ہو، اس سے کسی شخص کوتکلیف پہنچی ہے یا پھروہ ناانصافی کا شکارہوا ہے تومتاثرہ فرد یا افراد کے لئے لازم ہے کہ اسے حل کرنے کے لئے ہمارے اپنے وسائل اور ذرائع کا استعمال کریں۔ دستوری حقوق اورضابطے کے وسیلے سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔

یہ ناقابل قبول ہے: لیکن ہمارے اپنے حلقے اور دائرے سے ہٹ کر بیرونی طاقتوں سے نہ عہد وپیماں کرنا درست ہے اور نہ ہی کوئی تعاون لینا شرافت کی علامت ہے۔اگر فی الواقع اگرہمارے نوجوان اس نہج پر چل پڑے ہیں یا کوئی انہیں اس راستے پر گامزن کی کرنے کی کوشش کررہا ہے تو پھر ان کے سامنے اسلامی تاریخ کاوہ واقعہ رہنا چاہیے جس میں حضرت معاویہؓ کو قیصر روم نے حضرت علیؓ کے خلاف جنگ لڑنے میں فوجی تعاون کا لالچ دیا تھا اسے نہ صرف ٹھکرایا تھا بلکہ حضرت معاویہؓ نے قیصر روم کو ’’لعین‘‘ قرار دیتے ہوئے پیغام بھیجا تھا کہ اگر تونے علیؓ کے خلاف جنگی پیش قدمی کی تو میں خود اپنے چچا زاد بھائی) حضرت علیؓ )کے ساتھ مل کرتیرے خلاف جنگ لڑوں گا اور تیری سلطنت کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔حالانکہ ا س وقت حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان خونریز جنگ کا سلسلہ چل رہا تھا۔ اور اس وقت ہمارے نوجوانوں کا جو مسئلہ ہے وہ جنگ یا حیات و موت کا معاملہ نہیں ہے۔ بس ایک سماجی ادارے کی رکنیت باطل قرار دئے جانے کا ہے، جسے سنجیدگی اور متانت کے ساتھ کسی بھی موڑ پرآئندہ حل کیا جاسکتا ہے۔

اہل علم و دانش کو پہل کرنی چاہیے: اور اگربالفرض محال یہ مسئلہ حل نہیں بھی ہوا تو میرے خیال سے کوئی قیامت آنے والی نہیں ہے۔پھر بھی بہتر یہ ہے کہ خیر خواہان قوم و ملت اور اہل علم و دانش اس پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور وہ اس بات کا جائز ہ لیں کہ نوجوانوں کو تادیبی کارروائی سے جو شکایت پید اہوئی ہے وہ بجا ہے یا بے جا ہے۔ اور دیکھیں کہ قرآنی ہدایت ’…ناانصافی نہ کرو۔انصاف کرو ،یہ تقویٰ سے قریب تر ہے‘ کی رہنمائی میں اس مسئلے کوکس طرح حل کیا جا سکتا ہے تا کہ ہمارے قدیم ترین ادارے کا وقار بھی بحال رہے اور ہر نوجوان کو اپنی ملّت کے مقدر کا ستارہ ہونے کا بھی احساس ہوجائے۔

معاملہ اللہ کے حوالے کیا جائے: جہاں تک متاثرہ نوجوانوں کا معاملہ ہے ، اگر انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ حق پر ہیں۔ اور ہماری بااثر اور دانشمند شخصیات یا ادارے کسی وجہ سے انہیں انصاف دلانے میں دلچسپی نہیں لیتے یا پھرخدا نخواستہ کوئی ایسی ہوا چل پڑی ہے کہ عدل و انصاف کے بول جنہیں بولنا تھا انہوں نے چپکی سادھ رکھی ہے ۔ تب بھی انہیں جان لینا چاہیے کہ حمیت دینی اور غیرت ملّی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ہم اپنے بھائی، اپنی برادری ، اپنے ادارے اور اپنی قوم سے بدلہ لینے یا پھراپنے لئے انصاف حاصل کرنے کی غرض سے غیروں کا سہارا لیں، جو کہ ہمارے ازلی دشمن ہیں۔جو ہمارے اتحاد و اتفاق کو انتشار میں بدلنے کے درپے ہیں۔اس سے گھناؤنی حرکت تو کوئی ہوہی نہیں سکتی۔
لہٰذاایسے مواقع پر ہمارے لئے ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ ہم اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کریں۔ گردش لیل و نہار پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اللہ رب العالمین کا فیصلہ آتا ہے اور ہر حال میں آتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس کے لئے تھوڑا صبر کرنا پڑے۔ لیکن حق دار کو اس کا حق مل کرہی رہتا ہے۔چاہے وہ جزا کے طور پر ہو یا سزا کے طور پر۔ مگر فیصلہ ہوتا ضرور ہے۔ہاں، اس کے لئے مشیت خداوندی پر یقین کامل شرط ہے۔

آسمانوں سے زمینوں پہ جواب آئے گا
ایک دن رات ڈھلے یوم حساب آئے گا

 

[email protected]

 

(ضروری وضاحت: اس مضمون میں درج مواد مضمون نگار کی ذاتی رائے پر مشتمل ہے۔ اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*