بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔۔۔ عمل میں پیروی۔۔۔مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

سچی باتیں۔۔۔ عمل میں پیروی۔۔۔مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

1927-11-11

’’آپ خاتم الانبیاء تھے، افضل رسل تھے، محبوب خاص تھے، تاہم خشیۃ الٰہی کا یہ اثرتھا، کہ فرمایا کرتے کہ مجھکو کچھ نہیںمعلوم کہ میرے اوپر کیا گزرے گی‘‘۔  (سیرۃ النبی ، مولانا شبلی، حصہ دوم، ص:  ۲۲۱)۔

آپ کو بھی اپنے انجام سے متعلق کوئی فکروتشویش پیداہوتی ہے، یاآپ کو اپنے متعلق اطمینان ہے، کہ جس طرح آج چَین سے گزررہی ہے، اِسی چین اور بیفکری کے ساتھ ہمیشہ گزرتی رہے گی؟

’’جب کبھی زور سے ہواچلتی، آپؐسہم جاتے۔ کسی ضروری کام میں ہوتے، اُس کو چھوڑ کر قبلہ رُخ ہوجاتے، اور فرماتے، خدایا، تیری بھیجی ہوئی مصیبت سے پناہ مانگتاہوں‘‘۔  (ایضا، ص:  ۲۱۲)

آپ کی ’’روشن خیالی‘‘ کا اس عادتِ مبارک سے کیا فتویٰ ہے؟ آلۂ پیرومیٹر کے اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھنے کے بجائے قبلہ رُخ ہوجانا، تغیر موسمی کے طبعی اسباب کو بھُلاکر ایک اَن دیکھی ہستی کو یاد کرنے لگنا، اسی کانام توشاید آپ نے اپنی اصطلاح میں ’’ضعیف الاعتقادی ‘‘ رکھاہے؟

’’فرمایا کرتے تھے، لوگو، جو کچھ میں جانتاہوں، اگر تم جانتے ہوتے تو تم کو ہنسی کم آتی، اور رونا زیادہ آتا‘‘۔  (ایضًا)۔ یہ کیسا علم تھا، جوبجائے ہنسی کے رونے کو بڑھاتاتھا؟ آپ کے ’’علوم وفنون‘‘ تواس کے بالکل برعکس آج رونے کو مٹانے اور ہنسی کے سامان بڑھانے کے دعویدار ہیں!

’’خشیت الٰہی سے اکثر آپ پر رقت طاری ہوتی، اورآنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جب آپ کے سامنے یہ آیت پڑھی فکیف اذا جئنا من کلّ أمۃ الخ توبے اختیار چشم مبارک سے آنسو جاری ہوگئے۔ اکثر نماز میں رقت طاری ہوتی اور آنسو جاری ہوجاتے۔ (ایضًا، ص:  ۲۱۳) ایک بار آپ ایک جنازہ میں شریک تھے، قبر کھودی جارہی تھی، آپ قبر کے کنارے بیٹھ گئے، اور آپ پر اس قدر رقت طاری ہوئی کہ آنسو ؤں سے زمین نم ہوگئی۔ پھر فرمایا بھائیو اس دن کے لئے سامان کررکھو‘‘۔  (ایضًا)

آپ کے ڈاکٹروں اور آپ کے ماہرین سائنس کا اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ کے ڈاکٹروں اور ماہرین فن نے تو شاید طے کردیاہے ، کہ زیادہ رونا صحت کے لئے مضر ہے، اور ہنسی صحت کے لئے مفید ہے۔ پھر آپ کے رسولؐ، جو ساری دنیا کے لئے مُعلم بن کر آئے تھے (نعوذ باللہ) اتنی موٹی بات سے بھی واقت نہ تھے؟

تہذیب فرنگ او ر تعلیم جدید پرمٹے ہوئے دوستو اور عزیزو، ذرا سوچو ، کہ اس جدید زندگی کو اُس نظامِ زندگی سے کوئی مناسبت ہے، جو اللہ نے اوراُس کے رسولؐ نے تمہارے لئے پسند کیاتھا؟ کسی ایک جزئیہ کے صحیح یا غلط ہونے کا سوال نہیں، کسی ایک معاملہ کے جائز وناجائز ہونے کی گفتگو نہیں، تمدنِ جدید، اوراُس کے علوم وفنون کی ساری اسپرٹ، ساری روح، تمہاری اسلامی زندگی کی روح سے کتنی بدلی ہوئی ہے! جو باتیں تمہارے ہاں انتہائی دانائی کی سمجھی اور بنائی گئی ہیں، وہ جدید معیار کی روسے قابل مضحکہ ہیں۔ اور جو چیزیں تمہارے ہاں نافہمی اور بے عقلی کی مترادف قرار دی گئی تھیں، اُنھیں کو آج اپنے خدا اور اپنے رسولؐ ، اپنے قرآن، اور اپنی حدیث، اپنے عقائد اور اپنے شعائر، اور دوسری طرف ان علوم وفنون، ان نظریات واکتشافات کے ساتھ قلب کا یکساں ومساوی تعلق قائم رکھ سکو۔ ایک کو دوسرے کا ماتحت یقینا کرنا پڑے گا، اورآخری معیار کے طورپر، دونوں میں سے ایک کورَد کرکے، صرف ایک ہی کو انتخاب کرنا ہوگا۔ اللہ سے دعاہے، کہ میرے بھائیو، ہم کو اور تم کو، سب کو وہ انتخاب صحیح کی توفیق عطاکرے۔ رسولؐ کی پیمبری پر اگر دل سے عقیدہ ہے توعمل میںپیروی کرنی چاہئے اور اپنی زندگی کو اُسی رسولؐ کی پیمبری پر اگر دل سے عقیدہ رہے، توعمل میں پیروی کرنی چاہئے اور اپنی زندگی کو اُسی نمونہ پر ڈھالنا چاہئے۔ یہ تو نہیں، کہ صرف انجمنوں اور مجلسوں میں، یا مضمون نگاری وانشا پردازی کے وقت، آپؐ کا نام زبان پر لایا جائے ، اور عمل میں حضورؐ کے طریقوں کے ساتھ تحقیر وتمسخر کا سلوک جاری رہے!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*