بنیادی صفحہ / مضامین / سچی باتیں۔ کامیاب کون؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

سچی باتیں۔ کامیاب کون؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

 1927-05-02

دو شخص ہیں، ایک شخص پختہ حویلی میں رہتاہے، عیش وآرام سے زندگی بسر کرتاہے۔جلسوں میں تقریریں زورشور سے کرتاہے۔ ہر ’’قومی‘‘ تحریک میں آگے آگے رہتاہے۔ بڑے بڑے چندے دیتااور دلواتاہے۔ اخبارات میںمضمون اچھے اچھے لکھتاہے۔ تقریر اور تحریر دونوں پر قدرت رکھتاہے۔ شہر کے بڑے اورعزت دارلوگوں میں اس کا شمار ہوتاہے۔ دوسرا شخص ہے، جو کچے مکان یا جھونپڑی میں رہتاہے۔ اپناکام اپنے ہاتھ سے کرتاہے، روزے پابندی کے ساتھ رکھتاہے۔ نماز باجماعت ناغہ نہیں کرتا۔ پڑوسیوں اور محلہ والوں کا سودا سُلف خود لادیتاہے۔ آمدنی بہت تھوڑی رکھتاہے، ایک چھوٹی سی دُکان ہے۔ بال بچوں کے ساتھ بمشکل ہی گذر کرپاتاہے۔ اس کا شمار بستی کے ادنیٰ لوگوں میں ہے۔ دنیا نے اپنا فیصلہ دونوں شخصوں کے بارے میں صادر کردیا۔ آپ کو بھی اس فیصلہ سے اتفاق ہے؟ آپ بھی سوچنے سمجھنے کے بعد یہی رائے رکھتے ہیں؟

پہلا شخص’’ کرتا‘‘ کم ہے اور ’’کہتا‘‘ زیادہ ہے۔ دوسر ا ’’کہتا‘‘ کم ہے اور ’’کرتا‘‘ زیادہ ۔ پہلے شخص کی نظر ’’عزت‘‘ پر ہے، اور دوسرے کی نظر ’’خدمت ‘‘پر۔ پہلا، ناموری کا بھوکاہے، دوسرا ثواب آخرت کا، پہلے کو تلاش اس کی ہے کہ کن کن اخبارات میں اس کی تعریف چھپی، دوسرے کو فکر اس کی ہے کہ داہنی طرف کے فرشتہ نے نامہ اعمال میں نیکیاں کتنی لکھیں۔ ایک ’’اپنے‘‘ کو بڑھارہاہے۔ دوسرا ’’اپنے‘‘ کو مٹارہاہے۔ ایک نے اپنی زندگی کا سہارا اُن کو بنارکھاہے، جو خود مٹ جانے والے ہیں، دوسرے نے اپنی لَو اس سے لگارکھی ہے ، جسے کبھی فنا نہیں۔ ایک کی منزل مقصود جاہ وشہرت ہے، اور دوسرے کی گمنامی وبے نشانی۔ اللہ کے دربار میں، ان دونوں میں زیادہ مقبول کون ہوسکتاہے؟ اپنے دل میں خود سوچئے، اور فیصلہ کیجئے، کہ اللہ کے ہاںمقبولیت پیداکرنے والی کون سی چیزیں ہوسکتی ہیں! پُرتکلف لباسَ لذیذ غذائیں، عمدہ کوٹھیاں؟ اعلیٰۃ سامانِ آرائش؟ نمائشی چندے؟ رسمی جلسے؟ بناوٹی تقریریں اور تحریریں؟ یا اس کے برعکس ، زندگی کی سادگی، دل کی شکستگی، ایثار وخدمت گزاری، انکسار وخاکساری، عاجزی وفروتنی، صبروقناعت، زہد وعبادت، تقویٰ وطہارت؟

آپ سے پہلا سوال یہ ہوگا، کہ آپ نے جائز وحلال ذریعوں سے خود اپنی، اپنی بیوی بچوں کی، اپنے بوڑھے ماں باپ کی، اپنے کنبے کے یتیموں کی، اپنے خاندان کے ضعیفوں کی، اپنے پڑوسی کے ناداروں کی، کس حد تک خبرگیری کی؟ یا یہ ہوگا، کہ آپ نے پبلک جلسوں میں، سیکڑوں ہزاروں کے مجمع میں، اپنے نام کے آگے ایک بڑا چندہ لکھواکراپنی دریادلی کی کس حد تک نمائش کی؟ آپ پرسب سے مقدم خود اپنے نفس کی اصلاح اور اپنے سے براہ راست اور قریبی تعلق رکھنے والوں کی اصلاح ہے،یا آپ کو قدرت نے ساری قوم ومُلک کی اصلاح کا ٹھیکیدار ، اور آل انڈیا لیڈر بناکر پیداکیاہے؟ آپ پر ذمہ داری اس کی ہے، کہ آپ نے خود نمازیں کتنی پڑھیں، روزے کتنے رکھے، اپنے گھروالوں کو، کہاں تک دینداری اور تقویٰ شعاری کا راستہ دکھایا؟ یا اس کی ہے، کہ آپ نے پُرجوش تقریریں کتنی کیں، اور دلچسپ مضامین کتنے لکھے؟ اللہ کے ہاں کام آنے والے، یہ منشیانہ عبارتیں، ادیبانہ فقرے، دلچسپ لطیفے، اورمحفل کو تڑپا دینے والے الفاظ ہوں گے، یا وہ عبادتیں جو تنہائی کے گوشوں، ٹوٹے ہوئے دل، لرزتے ہوئے جسم، اور روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ادا کی گئی ہیں، اور خلق خدا کی وہ خدمتیں، جن کا تذکرہ اخبارات میں چھپنا، اور جن کی داد بھرے جلسوں میں ملنا الگ رہا، جن کی بھنک تک، شاید بجز اللہ کے فرشتوں کے اور کسی مخلوق کے کان میں نہیں پڑنے پاتی! آج جومخلوق کی زبان سے، اپنے ’’کارناموں‘‘ کی داد پاپاکر مسرور ہورہے ہیں ، کل خالق کے روبرو، انھیں نظر آجائے گا، کہ یہ سودا کرکے کتنے گھاٹے میں رہے!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*