بنیادی صفحہ / مضامین / سفرحجاز۔۔۔(۳۴)۔۔۔منی بعد حج۔۰۳۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

سفرحجاز۔۔۔(۳۴)۔۔۔منی بعد حج۔۰۳۔۔۔ از: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

Print Friendly, PDF & Email

حطیم کا ذکر پہلے آچکا ہے، خانہ کعبہ سے ملا ہوا وہ نیم مدور صحن جو مطاف کے اندر ہے اور جو حکماً خانہ کعبہ ہی کا ایک جزو ہے، اس میں نماز پڑھنا گویا خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنا ہے۔طواف کرنے اور ملتزم سے لپٹ کر دعائیں مانگ چکنے کے بعد آج اطمینان سے حطیم کے اندر بھی حاضری کا موقع ملا جس کا جتنی دیر تک جی چاہا نمازیں پڑھیں اور دیوار کعبہ سے لگ لگ کر اور لپٹ لپٹ کر دعائیں مانگیں، کسی کسی نے دیوار و فرش کی خاک اٹھاکر بطور تبرک ساتھ لے لی۔ کہتے ہیں کہ مطاف میں اولیاء و قطاب و ابدال ہمیشہ حاضر رہتے ہیں، رہتے ہوں گے ولی کو پہچاننے کے لیے خود نگاہِ ولایت کی ضرورت ہے۔ عامیوں سے اس بارے میں کسی اظہار رائے کی توقع ہی بے کار ہے، البتہ نورانی چہروں پر انتہائی خشوع و خضوع کے، انتہائی تضرع و ابتہال کے انتہائی عبدیت و انابت کے جو آثار نظر آئے، ان کے حروف و نقوش تو ہم جیسے بے بصر بھی پڑھ سکتے تھے۔سبحان اللہ عجیب مقام ہے، رحمت و مغفرت کی صلائے عام کیسے کیسے فاسق و فاجر، کیسے کیسے جفا پرور، جرم پیشہ، عصیاں شعار، اپنی تباہ کاریوں اور بدحالیوں کی بنا پر اپنی نجات سے مایوس، اولیائے کاملین کے پہلو میں کھڑے ہوئے اور جس نے

قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ،وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ(زمر۔ ع۶)۔

اے پیمبر، میرے بندوں سے کہہ دو کہ جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ بالیقین تمام گناہوں کو معاف کردے گا، واقعی وہ بڑا ہی بخشنے والا اور بڑی رحمت والا ہے اور تم اپنے رب کی طرف جھکو اور اس کی فرمانبرداری کرو۔ کا اشتہار عام دے رکھا ہے، اس مالک اور آقا کے در پر پڑے، اپنے نجات و مغفرت کی ٹوٹی ہوئی آس نئے سرے سے جوڑ رہے ہیں! عمر بھر کی سیاہ کاریاں یاد آرہی ہیں، ہر وہ شیطنت جو شیطان کو بھی شرمندہ کردینے کے لیے کافی ہے، ایک ایک کرکے قبول کی جارہی ہے اور جس کی شان ستاری اب تک ہر عیب و رسوائی پر پردہ ڈالے رہی ہے۔ اس کے آگے ایک ایک معصیت کا اقبال کرکے آنسو بہا بہا کے ہاتھ پھیلا پھیلا کے، پیشانی رگڑ رگڑ کے نجات و غفران کا پروانہ حاصل کیا جارہا ہے!۔

دوپہر نہیں ہونے پائی تھی کہ منیٰ کے لیے واپس روانہ ہوئے، جن جن اعرابیوں پر آئے تھے، وہ اتنی دیر تک بھلا کیا انتظار کرتیں۔ کچھ نئی اعرابیاں کرنی پڑی، بعض رفقاء کو پھر بھی جگہ نہ ملی تو گدھوں اور اونٹوںپر سوار یہ اعرابیاں اور ان کے جانور اور ان کے ہنکانے والے پہلے سے بھی کچھ بڑھے چڑھے ہوئے نکلے۔ آدھا راستہ طے ہوا تھا کہ ایک اعرابی کے گھوڑے نے بالکل جواب دے دیا۔ اب بجائے اس کے کہ گھوڑا سواریوں کو کھینچتا، سواریاں اعرابی سے اتر اتر کر گھوڑے کو کھینچ رہی تھیں، یہ سماں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا، دوپہر کا وقت، مئی کی بے پناہ دھوپ، ریگستانی مٹی، سر سے پیر تک پسینے میں شرابور، کچھ عورتیں اور بچے گاڑی پر سوار اور ساتھ کے مرد گاڑی کو ٹھیل ٹھیل کر اور دھکے دے دے کر آگے بڑھارہے ہیں۔اس وقت نہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں کوئی میونسپلٹی ہے، جو ایسی اعرابی چلانے والے کا چالان کرے اور نہ یہ یقین ہوتا تھا کہ یہاں کوئی حکومت ہے جو ایسے موقع پر بے کس پردیسیوں کو کسی طرح کی مدد دے! البتہ اس وقت تیز ہوا کا چلتے رہنا رحمت ہوگیا۔ پسینے سے نہائے ہوئے جسم میں گرم ہوا لگتی تھی تو ناگوار ہوکر نہیں، بلکہ ٹھنڈی ہوکر خوشگوار معلوم ہوتی تھی اور ظاہری صعوبت ایک سامان تفریح بنی ہوئی تھی۔۔۔۔کریم کو کریمی کے بھی کتنے ڈھب آتے ہیں! چلچلاتی دوپہر میں مکہ سے منیٰ تک پاپیادہ چند قدم بھی چلنا، ہم جیسے تن پروروں کے لیے اپنی خوشی اور مرضی سے بھلا کب ممکن تھا اور یہ سعادت ہم جیسوں کے نصیب میں بھلا کب آسکتی تھی؟ اس کے لیے کیا ڈھنگ نکالا گیا اور کس ترکیب و حکمت سے پیدل چلا کر، اس کے اجر کا امیدوار و حقدار بنادیا گیا! شوقین لڑکے اپنے شوق سے علم حاصل کرتے ہیں لیکن جو مٹھائی کی چاٹ سے پڑھتے ہیں، بہرحال پڑھنے والوں میں شمار تو ان کا بھی ہو ہی جاتا ہے۔

منیٰ پہونچنے کے بعد بجز رمی کے اور کوئی خاص کام نہ تھا، ۱۰/ کی رمی کا ذکر گزر چکا ہے۔۱۰/ کو صرف ایک جمرہ کی رمی تھی، ۱۱/، ۱۲/ کو تینوں جمروں کی ہے، ۱۱/  ۱۲/کی رمی کا وقت بعد زوال ہے دونوں دن ترتیب یہ رہے گی کہ پہلے جمرہ اولی کی رمی کرے جو مسجد خیف کے قریب ہے۔ اس کے بعد جمرہ وسطیٰ (منجھلے شیطان کی) اور آخر میں جمرہ عقبہ کی، تینوں جمروں پر سات سات کنکریاں پھینکی جائیں گی، ان دونوں تاریخوں میں رمی، قبل زوال فقہ حنفی میں درست ہے اور اتنی دیر کی کہ آفتاب غروب ہوگیا، تو یہ وقت مکروہ ہوجاتا ہے۔ پہلے دونوں جمروں کی رمی کے بعد مسنون یہ ہے کہ قبلہ رو کھڑے ہوکر کچھ دیر تک تسبیح و تہلیل، مناجات و استغفار میں مشغول رہے اور ہاتھ اٹھاکر دعائیں مانگتا رہے، البتہ جس رمی کے بعد پھر کوئی رمی نہیں یعنی آخری جمرہ (جمرہ عقبہ) کی رمی اس کے بعد وقوف مسنون نہیں، فوراﹰ پلٹ آنا چاہیئے، جمرات کے پاس رمی کے بعد دعا مانگنا، مقامات مقبولیت میں سے ہے ۱۰ /، ۱۱/، ۱۲/ کی ان تاریخوں میں رمی واجب ہے۔ ۱۳/ کی رمی مستحب کے درجے میں ہے۔۱۲/ کی شام کو یا شب میں کسی وقت اگر مکہ واپس ہوگیا تو بالکل جائز ہے لیکن اگر ۱۳/ کی صبح تک منیٰ میں قیام ہوگیا تو پھر بغیر ۱۳/ کو بھی رمی کئے ہوئے مکہ واپس ہونا درست نہیں ہے۔

منیٰ میں یہ دن ڈیڑھ دن یعنی ۱۱/ کی دوپہر سے لےکر ۱۲/ کے غروب آفتاب تک بحمداللہ لطف سے گزرا۔ ہر سال سنا تھا کہ منیٰ میں سخت  غلاظت و گندگی رہتی ہے۔وبائیں پھیلتی ہیں، پانی کا قحط ہوجاتا ہے۔ لوگ ہزارہا کی تعداد میں ہیضہ اور لو سے مرجاتے ہیں لیکن اب کی تو خدا کے فضل سے ان میں سے  کوئی بھی شئے پیش نہیں آئی، نہ کوئی وبا پھیلی نہ پانی کا توڑا پڑا نہ لو سے کچھ زائد موتیں ہوئیں۔اور نہ اتنےبڑے مجمع کے لحاظ سے عفونت و غلاظت بھی زائد کہی جاسکتی تھی، تین دن ماشاءاللہ منیٰ کا بازار خوب گرم رہتا ہے، ہر وقت  ہر طرف خوب چہل پہل رہتی ہے، ہزاروں لاکھوں کی خریداریاں ہوتی ہیں اور ضرورت بلکہ شوق کی بھی شاید ہی کوئی چیز ایسی ہو جو ان دنوں میں یہاں نہ مل جاتی ہو، اور پھر بہ افراط نہ ملتی ہو، میوے تروتازہ، پھل سبز و شاداب، ترکاریاں جتنی چاہیئے لے لیجئے اور بجائے گوشت اور خشک چیزوں کے انھیں کا استعمال یہاں کے موسم و حالات کے مناسب بھی ہے۔ ۱۰/ کو تو خیر مشغولیت رہی تھی، ۱۱ / کی دوپہر کے بعد  سے کوئی خاص کام نہ تھا، بس اِدھر اُدھر پھرنا، دوست احباب سے ملنا جلنا بعض شوقین مزاجوں کو دعوت کی سوجھتی ہے، خوب خو ب مزے کی دعوتیں ہوتی ہیں۔

عرفات اور مزدلفہ کے بچھڑے ہوئے یہیں آ کر ملتے ہیں۔ مولانا مناظر احسن صاحب اور ایک شخص جو ہمارے قافلہ سے بچھڑگئے تھے، یہیں آ کر ملے، حیدرآباد کا قافلہ جہاں ٹھہرا ہوا ہے، وہاں سالار قافلہ مولوی فیض الدین صاحب وکیل کے حسنِ انتظام اور وسعتِ اخلاق نے مہمان نوازیوں کا سلسلہ خوب وسیع کر رکھا ہے۔ مولوی ابوالخیر خیراللہ صاحب وکیل ورنگل (اب مرحوم و مغفور ہوچکے ہیں۔) اور پربھنی (دکن) کے ایک اور وکیل صاحب (غالباً مولوی خیر الدین نام ہے، ماشاءاللہ حیات ہیں۔ابھی پچھلے ہی ہفتہ خط آیا تھا (جولائی ۱۹۴۹ء) اور مولانا محمد علی و مولانا شوکت علی کے بھانجے اور مولانا شوکت علی کے داماد عثمان علی خاں (ایک زمانہ میں ہمدرد کے مینجر رہ چکے ہیں ) ماشاءاللہ خوب چاق اور بشاش نظر آرہے ہیں، بار بار ملاقاتیں ہوئیں۔

رمی کے احکام و شرائط کی تعمیل تینوں تاریخوں میں، معلم صاحب کی ہدایت  و  رہنمائی میں الٹی سیدھی، بری بھلی جیسی کچھ بھی بن پڑی ہوگئی، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ظاہری آداب و شرائط میں کتنی کوتاہیاں رہ گئیں ضابطہ پری کس طرح ہوا ہوگئی لیکن باطن کے اندر جو خناس سمایا ہوا ہے اور جو گوشت کے ایک ایک ریشے میں، اور خون کے ایک ایک قطرہ میں رچا ہوا ہے۔اس پر بھی کوئی کنکری پڑی؟ اس پر بھی کوئی ضرب لگی؟ اس کی انانیت بھی گھائل ہوئی؟ پتھر کے بنے ہوئے ستونوں پر مار پڑتے سب نے دیکھا پر دل کے پردوں کے اندر جو شیطان نفس چھپا ہوا ہے، وہ بھی کچھ مجروح ہوا؟ خلیل ابن خلیل کو بہکانے کی، جس مردود نے کوشش کی تھی، وہ تو مومنوں کے ہاتھوں لاکھوں کروڑوں بار مار کھا چکا ہے لیکن خلیل کے نام لیوا، اور خلیل کے رب جلیل کے پرستار جس موذی کے دام بلا میں ہر لمحہ اور ہر آن گرفتار رہتے ہیں، اسے بھی ذلت و خواری نصیب ہوئی؟ اس ظالم کا جسم بھی ان کنکریوں سے چھلنی ہوا؟ سوالات سب کرسکتے ہیں جواب کون دے؟ اور کوئی کیوں دینے لگا؟ جب کسی کی شان ستاری سب کے عیبوں کو ڈھانپنے ہوئے جب ہر زاغ کو طاؤس کے پروں میں ملبوس کیے ہوئے، جب ہر ویرانہ کو گلستان اور ہر داغ کو چراغ بنائے ہوئے ہے تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ ہانکے پکارے گلوں شکوؤں کا دفتر کھول کر بیٹھے اور ایک ایک کے آگے اپنی محرومیوں اور برگشتہ بختیوں کا رونا روتا پھرے؟

۱۲/ کی دوپہر سے واپسی کا کوچ شروع ہوگیا، اور جلد بازوں نے پوری طرح زوال کا بھی انتظار نہ کیا، آج کی چپقلش ہر روز اور ہر موقع سے بڑی ہوئی ہے۔آج کی کشمکش کا منظر محض دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، کسی کے قلم کے بس کی بات نہیں کہ اس ہجوم اور کشاکش ہجوم کا پورا نقشہ کاغذ پر پیش کرسکے۔

”یک انار و صد بیمار“بارہا سنا تھا۔ایک سڑک و صد ہزار سوار کا منظر آج آنکھوں سے دیکھا! بیچارے سو بیمار ایک انار پرکیا اس طرح ٹوٹ کر گریں گے، کیا اس طرح چھین جھپٹ کریں گے، اس طرح ایک دوسرے سے گتھ سکیں گے جس طرح سو ۱۰۰ کے سو ۱۰۰ گنے، ایک دوسرے سے ریل پیل دھکم دھکا اور زور آزمائیوں میں مصروف تھے، معاذ اللہ، معاذ اللہ! ان میں بیمار و لاغر بھی تھے اور ہٹے کٹے توانا تندرست بھی، بوڑھے بھی اور بچے بھی، شہ زور مرد بھی اور کمزور عورتیں بھی، متین و حلیم بھی اور جاہل و اجڈ بھی، بات کو طرح  دے جانے والے بھی اور بلابات کے الجھ پڑھنے والے بھی، پیدل بھی سوار بھی، اونٹ اورسانڈنیاں بھی اور گھوڑے گدھے بھی، آنے والے بھی اور جانے والے بھی، ایک سڑک اور ایک رہ گزر! ۔

زبانیں بھی چل رہی ہیں، اور کہنیاں بھی اور ہاتھ بھی! جو نہیں چل پاتیں، وہ صرف ٹانگیں ہیں، اور جو نہیں اٹھ پاتے وہ صرف قدم ہیں، اونٹ سے اونٹ بھڑ رہے ہیں، شغدف سے شغدف لڑ رہے ہیں، سر سے ٹکرا رہے ہیں، وحشت زدہ اونٹوں کی بھیانک بلبلاہٹ اور اس سے کہیں زیادہ بھیانک ان کی وحشت زدہ سواریوں کی چیخ و پکار! محض خدا کی قدرت ہے کہ سیکڑوں حادثے اس وقت واقع نہیں ہوجاتے، مکہ سے منیٰ آتے وقت اور مزدلفہ سے منیٰ واپس ہوتے وقت، اور دوسرے موقعوں پر بھی سخت ہجوم اور اژدہام کا سامنا ہوتا ہے لیکن آج کا ہجوم و اژدہام ان سب سے کہیں بڑھا ہوا ہے، اس بےقاعدہ مجمع کو قاعدہ سے لگانا، اس ہڑبونگ میں نظم و انتظام پیدا کرنا، حاجیوں اور پردیسیوں کے اس انبوہ کو راحت پہونچانا سعودی شریعت میں شاید کوئی بدعتِ عظیم ہے!۔

مناسک حج کی کتابوں میں ایک مفصل باب جنایات کے متعلق بھی ہوتا ہے، اعمال حج کے سلسلہ میں جو فردگذاشتیں ہوجاتی ہیں، یا حاجی جن ممنوعات کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، ان کو اصطلاحِ فقہ میں جنایت کہتے ہیں، یہ غلطیاں یا تو کسی عذر شرعی کی بنا پر صادر ہوسکتی ہیں اور یا بلاعذر، پہلی قسم کی غلطیوں کے عوض کفارہ دینا ہوتا ہے اور دوسری قسم کے معاوضہ میں جزا مقرر ہے۔ یہ کفارہ اور جزا دونوں فقہی اصطلاحیں ہیں، جزا کی دو صورتین ہیں، ہلکی لغزشوں کے معاوضہ میں ہلکا سا صدقہ اور بڑی خطاؤں کی پاداش میں جانوروں کی قربانی کفارہ کی صورت میں، اختیار ہے کہ خواہ صدقہ دے، خواہ قربانی کرے اور خواہ روزہ رکھ لے، ممنوعات کی دو قسمیں ممنوعات احرام، و ممنوعات اعمال حج، اور پھر ہر ایک کے تحت میں بہت سی صورتیں ہیں، ہر جنایت کی جزا و کفارہ الگ الگ ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔موٹی موٹی باتیں معلم زبانی بتادیتے ہیں، ہر حاجی کو ان سے واقف ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ لاکھ احتیاط کی جائے کچھ نہ کچھ بےاحتیاطیاں اور فردگذاشتیں ہو، ہی جاتی ہیں، صدقے عموماً ہلکے رکھے گئے ہیں جو ہر حاجی بہ آسانی دے سکے۔قربانیاں بھی عموماً کچھ زیادہ سخت نہیں رکھی گئی ہیں، ان جزاؤں اور کفاروں کے ادا کرنے کا بہترین وقت یہی منیٰ کا زمانہ قیام ہوتا ہے، اردو میں جنایات اور ان کے کفاروں اور جزاؤں کی تفصیل پوری طرح شرح وبسط کے ساتھ مولوی منور الدین صاحب دہلوی کی کتاب الحج و الزیارۃ ۔(فتاویٰ عثمانی جلد ۶)۔ میں ملے گی، وہ کافی ہی نہیں کافی سے زائد ہے۔

عصر کا وقت آیا ہی تھا کہ ہم لوگوں کے خیمے بھی اکھڑنے اور سامان بندھنے لگے۔ادھر عصر کا وقت آخر ہوکر آفتاب غروب ہونے کو تھا کہ ہم لوگ جمرہ عقبہ پر آخری رمی سے فراغت کرکے اپنے اپنے اونٹوں پر سوار ہونے کے لیے لپکے، اونٹ پر سوار ہونا آج بجائے خود ایک مستقل مرحلہ ہے، نہ پوچھیئے کہ ہم لوگ کس طرح سوار ہوئے اور ہمارے قافلہ کے ضعیفوں اور عورتوں پر کیا گزرگئی، بہرحال محض تقدیر تھی کہ زندہ و سلامت سوار ہوگئے، راستہ میں مکہ کی آبادی شروع ہونے سے ذرا پہلے جنت المعلیٰ کے قریب ایک مقام آتا ہے جسے وادی محصب کہتے ہیں، حضور انور ﷺ نے حج کے موقعہ پر مکہ واپس آتے ہوئے یہاں حسب روایت صحیح بخاری، قیام فرمایا تھا، اور ظہر و عصر و مغرب و عشاء کی نمازیں یہیں ادا فرماکر کسی قدر استراحت فرمائی تھی اور اس کے بعد مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ فقہائے حنفیہ نے یہاں اترنا اور تھوڑی دیر قیام کرکے دعا کرنا سنت قرار دیا ہے۔اس لیے کہ حضور ﷺ نے یہاں قصداً نزول فرمایا تھا، البتہ بعض دوسرت آئمہ حدیث کے نزدیک یہ سنت نہیں، اس لیے کہ حضرت  عائشہ صدیقہؓ اور حضرت  ابن عباسؓ کے اقوال میں بہ تصریح موجود ہے کہ حضور ﷺ کا یہ فعل بغرض عبادت نہ تھا، بلکہ آپﷺ نے محض آرام لینے کی غرض سے قیام فرمایا تھا، تاہم سنت رسول کے بعض محقق صحابہ (مثلاﹰ عبداللہ بن عمر) اس پر برابر عمل فرماتے رہے:

۔″عن نافع قال کان ابن عمر ینیخ بالبطحاء التی بذی الحلیفۃ التی کان رسول اللہ ﷺ ینیخ بھا و یصلی بھا ″۔

نافع کہتے ہیں کہ حضرت  ابن عمر اپنا اونٹ ذوالحلیفہ (یعنی وادی محصب) میں بٹھاتے تھے، نماز پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں اونٹ بٹھایا ہے اور نماز پڑھی ہے۔

اور نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ حضرت  صدیقؓ اور حضرت  فاروقؓ کا عمل بھی اسی پر تھا۔اور حنفیہ کی کتابوں میں تو صاف یہ لکھا ہوا ہے۔″ اذا نفر الحاج الی مکۃ نزل استنانا ولو بساعۃ بالمحصب (در مختار)″۔

جب حاجی مکہ کو آنے لگے تو مسنون یہ ہے کہ محصب میں اترے، خواہ ایک ہی ساعت کے لیے ہو۔

لیکن اب اس پر عمل کس کا؟ ہر شخص کو بھاگا بھاگ مکہ پہونچنے کی عجلت اور حاجی غریب اگر ٹھہرنا چاہیں بھی تو معلم حضرات کب انھیں ٹھہرنے دیتے اور سنت نبوی ﷺ پر عمل اور تعامل صحابہ کے اقتداء کا موقع کب نصیب ہونے دیتے ہیں!۔

ناقل: محمد بشارت نواز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 
x

Check Also

سچی باتیں۔ کامیاب کون؟۔۔۔ مولانا عبد الماجد دریابادیؒ

 1927-05-02 دو شخص ہیں، ایک شخص پختہ حویلی میں رہتاہے، عیش وآرام ...