بنیادی صفحہ / مضامین / تجربات ومشاھدات (14)۔۔۔ ڈاکٹر  بدر الحسن القاسمی

تجربات ومشاھدات (14)۔۔۔ ڈاکٹر  بدر الحسن القاسمی

Print Friendly, PDF & Email

 فکری انحراف کے اسباب

  *******

کرونا کی وبا پھیلنے سے پہلے  رابطہ عالم اسلا می مکہ مکرمہ کی طرف سے جو آخری بڑی موضوعاتی  کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس کاعنوان تھا، ۔”اسباب الا۔نحراف الفکری وعلاجه

پس منظر اس کا یہ تھا کے بعض عرب ملکوں میں فکری انحراف بلکہ دین سے بیزاری اورارتداد کی لہر پھیل رہی ہے اور نوجوانوں کی ایک تعداد دینی احکام کی پا بند یوں سے آزاد زندگی گزارنا چاہتی ہے ،اس صورت حال کا جائزہ لیا جائے اسباب کا تجزیہ کیا جائےاور پھر اس کاعلاج تلا ش کیا جائے۔

 چنانچہ میں نے تقریبا 50 صفحات پر مشتمل  مقالہ لکھا جو اس کانفرنس میں پیش کیاگیا جس کا حاصل یہاں پیش ہے۔

یہ کانفرس فکری تھی جس میں اساطین اہل علم شریک تھے لیکن اس کی دعوت رابطہ عالم اسلا می کے ماتحت قائم ” اسلامی فقہ اکیڈمی ” نے دی تھی اور شرکا  میں زیادہ تعداد فقہاء اور فقہ وفتوے سے وابستہ علماء ہی کی تھی۔

  امت میں فتنہ کے آثار  توحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیات مبارکہ میں شروع ہو گئے تھے اسی لئے آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ:۔

. "يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله  ينفون عنه تحريف الغالين وانتحال المبطلين وتأويل الجاهلين ” گویا ہمیشہ کیلئے یہ علماء کی ذمہ داری ہوگئی کہ وہ انتہا پسندوں کی تحریفات اہل باطل کے غلط افکار اور جاہلوں کی تاویلات سے دین کو بچاتے رہیں،

ذو الخویصرہ التمیمی میں فتنہ کے آثار دیکھ کر بھی آپ نے فرمایا  تھا کہ :” یخرج من ضئضئ ھذا قوم یتلون کتاب اللہ رطبا لا یجاوز حناجرھم  یمرقون من الدین کما یمرق  السھم من الرمیة("رواه مسلم )

مدینہ طیبہ میں بڑا فتنہ منافقین کا تھا جو ہمیشہ ریشہ دوانیوں میں لگے رہتے تھے، پھر مدعیان نبوت کا فتنہ شروع ہوا، آپکے وصال کے بعد ارتداد کا فتنہ زور و قوت سے اٹھا جس کی سر کوبی کیلئے اللہ تعالی نے حضرت ابو بکر الصدیق کو شرح صدر کیفیت کے ساتھ کھڑا کر دیا ، صحابہ رض کی موجودگی میں بعض اعتقادی فتنے  پیدا ہونے شروع ہوگئے تھے۔

آپ نے دیکھا کہ چند صحابہ تقدیر کے مسئلے  پر  بحث شروع کر ر ہے ہیں تو آپ نے ناراضگی کا اظھار فرمایا:۔

فقد روی انه خرج يو ما على اصحابه وهم يتنازعون في القدر حتى احمر وجهه حتى كانما فقئ في وجنته الرمان فقال: أبهذا أمرتم ؟أم بهذا ارسلت اليكم؟۔ انما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الامر عزمت عليكم  ان تنازعوافيه ” آپ گھر سے نکلے تو دیکھا کہ چند صحابہ تقدیر کے مسئلہ  پر  باہم لڑ رہےہیں  تو آپ کا چہرہ مبارک ایسا سرخ ہو گیا کہ جیسے آپ کے رخسار مبارک پر انارکاعرق نچوڑدیاگیا ہو ، فرمایا کیا تم لوگوں کو کیا اسی کا حکم دیا گیا ہے ؟ یامجھے تم لوگوں کی طرف اسی کیلئے بھیجا گیا ہے؟

تم سے پہلے کے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اس بارے میں لڑائی شروع کی تھی اسلئے میں تم لوگوں کوسختی منع کرتاہوں  اس بحث میں مت پڑا کرو”۔

طاعون كے موقع پر حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ کےدرمیان جو گفتگو وبا زدہ علاقہ میں داخل ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں ہوئی تھی، انہوں نے مشورہ کے بعد فیصلہ کیا کہ آگے شام کے جس علاقہ میں طاعون پھیلا ہوا ہے وہاں فوجیوں یا صحابہ کی جماعت کو لیکر نہیں جانا جبکہ وہ کمک لے کر آئے اسیلئے تھے کہ وہاں  پہلے سےموجود لوگوں کی مدد کریں ، حضرت ابو عبیدہ بن الجرا ح  جو خاص کمالات کے حامل  امین امت کے لقب یافتہ اور انتہائی باعزیمت اور جلیل القدر قائد تھے اور حضرت عمر کےدبدبہ انکی قوت اور دین کیلئے انکی قربانیوں اورپہاڑوں جیسی صلابت اورخدا کی راہ میں اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے والے ارادہ کو جانتے تھے تو انہوں نے طاعون کی وجہ سے واپسی کے فیصلہ پر کہا :۔

 أفرارا من قدر اللہ ؟

حضرت عمر نے جواب میں ان کی غلط فہمی دور کر نے کیلئے کہا:

نعم افر من قدر اللہ الی قدر اللہ ، ہاں اللہ کی ایک تقدیر کوچھوڑ کر اللہ کی دوسری تقدیر کی طرف بھاگ رہا ہوں

پھر مثال دیکر اسکی وضاحت بھی کی چراگاہ کا ایک حصہ ایسا کہ اس میں  لہلہاتی سبز گھاس ہو،  اور دوسرے حصہ میں سوکھی گھاس ہو یادھول اڑ رہی ہو تو خزاں رسیدہ سوکھے علاقہ کو چھوڑ کر سرسبز و شاداب علاقہ میں اپنے مویشی لیکر چراو تو یہ بھی تقدیر کے مطابق ہے اسمیں  تقدیر سے فرار کا پہلو نہیں ہے،اسی اثناء میں ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت بھی سنادی جو انہیں یادتھی کہ اگر آدمی طاعون پھیلے ہوئے علاقہ میں ہو  تو وہاں سے نہ نکلے، اور اگر ایسے علاقہ میں ہو جہاں طاعون نہ پھیلا ہو تو اسکو طاعون زدہ علاقہ میں نہیں جانا چاہیے، غرض یہ کہ اس زمانہ میں تقدیر کے پیچیدہ مسئلہ میں بحث و مباحثہ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا، فتنہ کو ہوا دینے اور مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے اور انکے دین  وایمان پر شبخوں مار نے کیلئے اہل باطل بھی میدان میں آگئے تھے، چنانچہ معبد الجہنی نے تقدیر پر،  ایمان کی نفی کا فتنہ شروع کیا

پھر اس سے سیکھ کر واصل بن عطا ء، عمر بن عبد اور غیلان دمشقی نے معتزلہ کے نظریات پھیلائے ،شر کی نسبت اللہ کی کی طرف نہیں کر نی چاہیے اور انسان کو خود ہی اپنے افعال کا خالق ماننا چاہیے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر سے ایک شخص نے آکر کہا کہ، کچھ لوگ ایسے پیدا ہو گئے ہیں جو قرآن تکلف سے پڑھتے ہیں علم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن وہ تقدیر کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں :۔

"لاقدر والآمر آنف”، ابن عمر نے فرمایا اس لوگوں کو میراپیغام  پہنچادو کہ ہم ان سے براءت کا اظہار کرتے ہیں ان سے اب ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے "

صبیغ بن عسل نامی شخص نے متشابہ آیات اور پیچیدہ اعتقادی مسائل پر گفتگو شروع کی تو حضرت عمر نے کھجور کی سوکھی ٹہنیاں منگا کر اسکی اتنی پٹائی کی کہ وہ تائب ہو گیا اور کہنے لگا اب معاف کردیجئے میرے دماغ میں جو خناس تھا وہ اب نکل گیاہے، اسطرح فتنہ کی سر کوبی کاسلسلہ بھی  برابرجاری رہا

کافر” مشرک”اور ” منافق "کی اصطلاحات تو مو جود تھیں، دوسری قوموں سے اختلاط کے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوگئے جن لئے "ملحد ” اور ” زندیق "وغیرہ کے الفاظ بولےجانے لگے، اسکے لئے دیکھیے! سعد الدین تفتازانی کی” شرح المقاصد” اور علامہ انور شاہ کشمیری کی، ” اکفارالملحدین ” اور  علامہ ابن عابدین کی رد المحتار کے متعلقہ ابواب ۔

موجودہ زمانہ میں الحاد نے نئی نئی شکلیں اختیار کرلی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض دینی مدارس  قدیم نھج کے ہیں انمیں ضرورت ہے کہ گنگوہی کی فقہی بصیرت  تھانوی کا تیقظ اور دقیقہ رسی اور  کشمیری کی غیرت اور جامعیت کو فروغ دیا جائے، اور جو مدارس پہلے ہی سے خود کو روشن خیالی کا علم بردار اور ہر طرح کے نظریات کو رواج دینے کا مرکزبننے میں فخر محسوس کرتے آئے ہیں  انکو تہ معاملہ کی خطرناکی کا احساس ہو سکتا ہے اور نہ فکر و عقیدے کے دقیق مسائل  وہاں کے فضلاء کی ذہنی  گرفت میں آسکتے ہیں انکو بھی باخبر رکھنے کی ضرورت ہے۔

 نگہ کی نا مسلمانی سے فریاد

********

اس زمانہ کے کچھ ملحدین تو وہ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ  چوری بری چیز ہے لیکن سزااور عقوبت کے طور پر چور کا ہاتھ کاٹ دینا وحشیانہ سزا ہے لہذا چور کی سزا جیل یا جرمانہ ہونا چاہیے، اسی طرح زناکو حرام قرار دیا گیا ہے تاکہ نسب کا اختلاط نہو ، لیکن موجودہ زمانہ میں جبکہ(DNA)جانچ کی سہولت ہے جس کے ذریعہ حقیقی باپ کا پتہ لگایا جاسکتا ہے، اسی طرح مانع حمل دوائیں اور تد بیریں بے شمار  ہیں تو پھر نکاح کے دائرے سے باہر صرف وہ تعلق ممنوع ہونا چاہیے جو زبر دستی کا ہو، بعض ملحدین وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام نے شروع میں مردو عورت کے درمیان مساوات کا تصور پیش کیا لیکن ” مردانہ معاشرہ” (المجتمع الذکوری) کے دباو میں میراث میں عورت کا حصہ نصف کرنے اور عورت کی گواہی کو آدھی تسلیم کرنے کے احکام آئے

ظاہر ہے کہ اس طرح کے الحاد کے بعد آدمی مسلمان ہی کب رہ جاتا ہے لیکن ایسے لوگ خود کو مسلمان ہی کہتے ہیں تاکہ مسلمان نوجوانوں کو بہکا کر انکو الحا د  دہریت کے راستے پر ڈالا جاسکے، "الحاد”اور” ملحدین "کا مسلم معاشرہ میں وجود نیا نہیں ہے عباسی اور اموی خلافت کے  زمانہ میں بھی ملحدین تھے اور ملحدانہ افکار کو معاشرہ میں پھیلانے کی کوشش کرتے تھے، مجوسی زردشت اورمانوی مذھب کے فارسی وعجمی لوگ جب بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے تو ان میں سے بعض اپنے پرانے افكار وعقائد سے پوری طرح آزاد نہیں ہوسکے

اسی طرح آزاد مزا ج شعراء وادباء وموسیقاروں کی شکل  میں بھی بےدینی اور الحاد پھیلانے والے موجود تھے

بشار بن برد ،حماد عجرد ابو نواس عبد اللہ بن المقفع ،ابن الراوندی اور ابان اللاحقی وغیرہ کا نام اس سلسلہ میں لیا جا تا ہے اس کے علاوہ گانے والی باندیوں کی خریدو فروخت امراء کے عشرت کدے  میں رقص وسرود کی محفلیں جام ومینا کی گرم بازاری عام طور سے ملحدانہ افکار وخیالات کو پھیلانے وہی رول ادا کرتے تھے جو آج کی دنیا میں میڈیا کا ہے۔

موجودہ زمانہ کے بیشتر عرب اور مسلم ممالک بر ٹش یا فرنچ استعمار کے زیر اثر رہے، پھر عیسائی مشنری نے غریب مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کی، مستشرقین نے اپنا کام الگ شروع کیا اس طرح غریب بچوں کو عیسائی بنانے کی کوشش ایک طرف اور اسلامی عقائد اور اسلامی تراث کو نشانہ بنانے اور انکے بارے میں شک و شبہ پیدا کرنے کا عمل مستشرقین کے ذریعہ دوسری طرف سے  جاری رہا انکے بعض کام بلا شبہ مفید ہیں لیکن سب نہیں، پھران ملکوں سے نوجوانوں کاایک ذہین  طبقہ اعلی تعلیم کے حصول کیلئے یورپ جانے لگا اور انکی اکثریت اپنی ذھنیت اپنے خیالات اپنے رجحانات سب بدل کر وہاں سے لوٹتی  رہی انمیں  اسماعیل مظہر ،احمد لطفی السید، طہ حسین ، صادق جلال العظم ،اور جمیل الزھاوی وغیرہ اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں،  اس طرح کے ادباء وشعراء کے گروہ نے مستشرقین کے نظریات اور اپنے ملحدانہ افکار کی ترویج میں زبردست رول ادا کیا

اسکی خطر ناکی کا اندازہ کرنے کے لئے پڑھئے :۔

طہ حسین کی "مستقبل الثقافہ فی مصر ” اور "فی الشعر الجاھلی”، اسماعیل ادھم کی "لماذا انا ملحد؟”

زکی نجیب محمود کی”خرافة الميتافيزیقیا”، عبد اللہ القصیمی کی "ھذہ الاغلال "، اسی طرح ادونیس کی کتابیں اور نزار قبانی کے اشعار کے وہ مجموعےجنمیں فحش اشعاراور بے حیائی پر مبنی تشبیہات واستعارات ہیں یا ملحدانہ تعبیرات ہیں ۔

سبھی عقیدہ کے فساد مذھبی احکام کی قید سے آزادی اور معاشرہ میں اخلاقی انارکی اور اباحیت پر ابھارنے  والے اور مسلم نوجوانوں کے فکر وعقیدہ او رعمل و اخلاق سبھی کو تباہ کر ڈالنے والےہیں۔

( شرح صدررہا تو باقی آئندہ )

http://www.bhatkallys.com/ur/author/dr-baderqasmi/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

بات سے بات: پیر مرشد کی ضرورت۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

آج بزرگوں کی صحبت اٹھانے کی بات کیا آئی کہ بحث کا ...