بنیادی صفحہ / مضامین / تجربات و مشاھدات (12)۔۔۔ مولانا بدر الحسن القاسمی

تجربات و مشاھدات (12)۔۔۔ مولانا بدر الحسن القاسمی

Print Friendly, PDF & Email

      اجتھاد وتجدید

         ****

جامعہ الاما م محمد بن سعود ریاض میں میری پہلی حاضری 1979ء میں ہوئی تھی جب میں دار العلوم دیوبند میں مدرس اور الداعی کا اڈیٹر تھا اور میں نے پہلی اسلامی جغرفیائی عالمی کانفرنس میں "قضیة فلسطين وابعادها السياسية والجغرافية ” كے عنوان سے مقالہ پیش کیا تھا اور لیبیا کے ڈاکٹر فوزی الاسدی کے اس دعوے کی تردید بھی کی تھی کہ فلسطین کا مسئلہ دینی نہیں اقتصادی ہے،  اور پہلی بار خصوصی انتظام اور شرکائے کانفرنس کی معیت میں مکہ مدینہ کی حاضری اور عمرہ اور روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی سعادت حاصل ہوئی تھی،وہ زمانہ  شاہ خالد کا تھا ڈاکٹر عبداللہ الترکی  مدیر جامعہ تھے انہوں نے اسوقت کے ولی عہد امیر فھد سے ملاقات کرائی تھی،  مشہور علماء میں  شرکائے کانفرس کے علاوہ  شیخ عبد الفتاح ابو غدہ،  شیخ محمد بن ناصر العبودی شیخ عبد المحسن العباد شیخ حمد الجاسر  ڈاکٹر عواض الالمعی  د احمد الوائلی وغیرہ

اسکے بعد اللہ تعالی نے محض اپنے فضل سے بہت سے مواقع دیئے جامعات کے اساتذہ کے ساتھ علمی پر وگراموں میں شرکت، مقالات و ابحاث پر تبصرے وتعقیبات،کانفرنسوں سیمیناروں میں باقاعدہ حاضری کا سلسلہ اس سے بہت کچھ سیکھنے اور سننے سنانے کا موقع ملا ۔

جب مجھے جامعة الامام ميں "مرکز التمیز البحثی  فی فقہ القضایا المعاصرۃ”  کی "ھیئہ استشاریہ "کا رکن منتخب  کیا جانے لگا تو بار بار ریاض کے سفر کی نوبت آتی رہی اور اھل علم سے واسطہ رہا،اس سلسلہ کا ایک سفر ” مجالات التجدید فی الفقہ الاسلامی ”  کےعنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں شرکت کیلئےہوا جس میں  متعدد مشہور اساتذہ اور صاحب تحقیق وتصنیف  علمائے فقہ واصول شامل تھے انمیں مصر کے د کمال امام ،مراکش کے د عبد الحمید عشاق ،خود جامعہ الامام کے د عبد العزیز الشبل  جامعہ طیبہ مدینہ منورہ کے د عامر بھجت وغیرہ قابل ذکر ہیں، میرے ذمہ مؤخرالذکر دونوں اساتذہ کے پیش کردہ مقالات پر تعقیب یا ناقدانہ تبصرہ کرنا تھا،

د عامر بھجت نے فقہ حنبلی کی تشجیر  کا کام کیا ہے جو مقبول ہے  انہوں نے "الروض المربع ” کے مسائل شجرہ کی شکل میں پیش کئے ہیں اور  اپنے درس کے حلقوں میں بھی  اسے رائج اور مقبول بنایا ہے انہوں نے اپنے مقالہ میں اپنے  اسی عمل کاتعارف کرا یا ہے، د عبدالعزیز الشبل نے مغربی ملکوں⁴ کی طرح” التعلیم النشط "کا تصور پیش کیا جو امریکہ وغیرہ میں رائج ہے ،چونکہ اکثر مقالات  پر  میں کچھ  نہ کچھ کہتا آیا تھا اس لئے  مختصر طور پر اپنی بات کرنی تھی :۔

میں نے عرض کیا کہ میں  محض چند لطائف کے ذریعہ اپنی بات پیش کرنے کی کوشش کرونگا اور زیادہ وقت نہیں لونگا، جہان تک دونوں محاضروں کی بات ہے تو اس میں شک نہیں کہ میرے لئے نئے  اور دلچسپ تھے جس کا تجربہ ہمارے  یہاں ابھی نہیں کیا گیا ہے   تشجیر یا شجر کاری سے  مسائل حفظ کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو  فائدہ عام طور پر سارے متون کو سردا پڑھانے  سے نہیں ہوتا، اسی طرح ہمارے یہاں  درس کا  صرف ایک ہی طریقہ جس میں استاد تلقین کرتا ہے اور شاگرداسے توجہ سے سنتاہے رائج ہے، ایسا طریقہ جس میں طالب علم کو خود محنت کرکے کتاب کو حل کرنا اور پھر استاذ سے جو سمجھا ہے اسکے صحیح ہونے کی تصدیق کرانا ابھی رائج نہیں ہے، میں نےکہا کہ زیر بحث موضوع فقہ میں تجدید اور اجتہاد کاہے،  سوال یہ ہے کہ یہ نازک کام انجام کون  دے گا؟

جامعہ سے فارغ ہوکر نکلنے والے عام طور پر فقہی عبارت کو صحیح سمجھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے

میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک طالب علم نے  اصرار کیا کہ اسے روایت حدیث کی اجازت دوں

 میں نے کہا کہ اجازت  ہم لوگ پختہ  تعلیم  کے بعد دیتے ہیں اصرار بڑھاتو میں نے کہا اچھا کتاب لاؤاور پڑھو

اس نے   سنن ابی داود کی پہلی حدیث

"کان النبي صلي الله عليه وسلم اذا ذهب المذهب ابعد” پڑھی میں نے کہا کہ اس حدیث میں   ” المذھب ” سے کون سا مذھب مراد ہے شافعی مالکی  حنبلی حنفی، وہ حیران رہ گیا اور کوئی جواب نہین دے سکا جبکہ یہاں "مذھب "کا لفظ قضائے حا جت کی جگہ کےلئے  استعمال کیا گیا ہے۔

دوسری مثال یہ ہے اس زمانہ کے مشہور محدث نے ابو داؤد میں  "ثور من اقط ” کا لفظ پڑھا تو انکی سمجھ میں نہیں آیا اور انہوں نے "ثور "کو  "تور” قرار دیکر اس کی یہ شرح کی ” ،اناء من صفر” لہذا حدیث کی تخریج سے  اس کا سمجھ لینا ضروری نہیں ہے، اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ روایت بغیر درایت کے خوگر ایک محدث حمام سے نکل کر نماز کی نیت باندھ لیتے تھے، دریافت کیا گیا کہ بغیر وضوء کونسی نماز آپ ادا کرتے ہیں؟

فرمایا : میں  اس حدیث پر عمل کرتاہوں جس میں کہا گیا ہے

 ” من استجمر فلیؤتر  "

لهذا میں استنجا سے فارغ ہو کر وتر پڑھتا ہوں ، اس طرح کی سمجھ رکھنے والے کیا فقہ میں اجتھاد اور تجدید کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں ؟!۔

اس لئے اجتہاد اور تجدید سے پہلے تعلیم کا معیار بلند کرنا ضروری ہے۔

 کھلی فضاء میں” فتووں کی بارش

**********

فتوی نویسی کا کام بڑی ذمہ داری کاہے اور اس کے لئے ایک خاص طرح کی صلاحیت اور طویل مشق کی  ضرورت ہوتی ہے، لیکن بر صغیر ہی نہیں پوری دنیا میں فتوی دینے والوں کی کثرت ہوتی جارہی ہے ،

ہر کوئی مختصر کورس اور معمولی مشق کےبعد اپنے نام کے ساتھ مفتی لکھنے لگتا ہے اور انتہائی پیچیدہ اور نازک مسائل  میں بھی رائے زنی سے باز نہیں آتا، واتساپ اور فضائی چینلوں نے اور معاملہ آسان کردیا ہے جدھر دیکھئے مفتی ہی مفتی نظر آتے ہیں اسلئے کبھی ڈر ہونے لگتا ہے کہ :۔

     گر ہمیں مفتی۔  وہمیں فتوائے

   کار   ایماں    تمام    خواہدشد

جب دنیا بھر میں غیر ذمہ دارانہ اور شاذ فتووں کی بھرمار ہونے لگی پھر مصر میں حدیث کے ایک استاذ نے اعلان کیا کہ بڑی عمر میں دودھ پینے سے بھی رضاعت کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے لہذا کمپنیوں اورمختلف شعبوں میں کام کرنے والے مرد اورعورتیں جو  ایک ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں انکی الجھن کا شرعی حل یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی عورتوں کادودھ پی لیں تو انکے درمیان  رضاعت کا رشتہ قائم ہو جائیگا اور انکے لئے ساتھ کام کرنا آسان ہوجائیگا۔

” ارضاع کبیر ” کا یہ مسئلہ اور  اسکے علاوہ بھی کئی مسائل نے فتنہ  کی شکل اختیار کرلی تو بعض بڑے  عالمی دینی ادارے حرکت میں آئے:۔

 کویت میں ” الافتاء فی عالم مفتوح”کے عنوان سے عالمی کانفرنس منعقد ہوئی،

پھر رابطہ عالم اسلامی نے فتوے کے تمام پہلووں پربحث گفتگو کیلئے عالمی کانفرنس منعقد کی اور فتوی کے اصول وضوابط پر مبنی ایک میثاق نامہ بھی شائع کیا جس کااردو ترجمہ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے شائع کردیا تھا اور کانفرنس کے موقع پر  مقالات  بھی شرکاء کے درمیان تقسیم کردئے گئے تھے،

دونوں ہی کانفرنسوں میں مجھے شرکت اور بحث و گفتگو کا موقع ملا ،کویت کانفرنس کے مقالات وابحاث دو جلدوں میں چھپپے ہوئے ہیں میرا عربی مقالہ بھی اس میں شامل ہے

لیکن  صورت حال یہ ہے کہ سو شل میڈیا اورفضائی چینلوں کے علاوہ آنلائن  فتووں نے سارے اصولوں کو بے اثر کر کے رکھدیا ہے ،  ایک کمی عرب ممالک میں یہ چلی آر ہی کہ قضاء کی تعلیم کے معاھد تو ہیں لیکن افتاء کی تعلیم کے مستقل ادارے نہیں ہیں چنانچہ کلیة الشريعة كا هر فارغ اپنے آپ کو فتوی دینے کا اہل سمجھتا ہے اور جان و مال کے نازک ترین مسائل میں بھی  فتوی دینے  سے باز  نہیں آتا جسکے ہولناک نتائج نظروں کے  سامنےہے

مفتی” ماجن "کی جگہ "جیل "

مفتی کا تکیہ کلام ” لاادری "

مفتی جو ہر سوال کا جواب دے "مجنون”

ابلیس کی بیوی کا نام کیا ہے؟

 اسکے نکآح کی مجلس میں میں شریک نہیں تھا(امام شعبی)

http://www.bhatkallys.com/ur/author/dr-baderqasmi/

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*

 

x

Check Also

بات سے بات: کچھ جوش کے بارے میں۔۔۔ عبد المتین منیری

جوش ملیح آبادی، خمار بارہ بنکوی، اور ماہر القادری ان معدودے چند ...