بنیادی صفحہ / عالمی / روس یوکرین جنگ : ناٹو چیف کی وارننگ، سالوں تک جاری رہ سکتی ہے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ، چکانی پڑے گی بڑی قیمت

روس یوکرین جنگ : ناٹو چیف کی وارننگ، سالوں تک جاری رہ سکتی ہے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ، چکانی پڑے گی بڑی قیمت

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی : روس نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی ۔ دونوں ممالک کے درمیان پچھلے 116 دنوں سے جنگ چل رہی ہے اور ابھی بھی حالات بحران زدہ ہیں ۔ اس درمیان اتوار کو روس یوکرین جنگ کو لے کر ناٹو چیف نے ایک بڑی بات کہی ہے ۔ ناٹو سربراہ نے کہا کہ روس یوکرین کے درمیان جنگ سالوں تک چل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کو یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔

ناٹو کے جنرل سکریٹری جینس اسٹولٹینبرگ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری لڑائی کی قیمت بہت بڑی ہے، لیکن اگر روس اپنے فوجی مقاصد حاصل کرلیتا ہے تو اس کی قیمت اس سے کہیں زیادہ بڑی ہوگی ۔

بتادیں کہ اس سے پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی اس بات کو لے کر دنیا کو خبردار کیا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کافی طویل چل سکتی ہے ۔ بورس جانسن اور جینس اسٹولینبرگ دونوں نے ہی یہ بات کہی ہے کہ زیادہ ہتھیار بھیجے جانے سے یوکرین کی جیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ایک جرمن اخبار بلڈ کو دئے انٹرویو میں ناٹو سربراہ نے کہا کہ ہمیں اس بات کو لے کر تیار رہنا ہوگا کہ روس اور یوکرین کے درمیان چل رہی جنگ سالوں تک کھینچ سکتی ہے ۔ ہمیں یوکرین کی حمایت میں پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے، ہمیں بھلے ہی اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خواہ یوکرین کو ملیٹری سپورٹ دینا پڑے یا پھر جنگ کی وجہ سے تیل، گیس اور خوردنی اشیا کی بڑھتی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑے، ہمیں ہر صورتحال کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔ مغربی ممالک کی فوجی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ اگر ہم یوکرین کو بھاری مقدار میں جدید ہتھیار دستیاب کراتے ہیں تو اس سے ڈونباس کے علاقے کو آزاد کرانے کے امکانات بڑھ جائیں گے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ڈونباس کا حصہ روس کے کنٹرول میں آگیا ہے ۔ پچھلے کچھ وقت سے روس کے فوجی ملک کے مشرقی علاقے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں روس نے اس علاقے میں اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں ۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*