بنیادی صفحہ / عالمی / پاکستان کوبڑا جھٹکا، عمران خان کی کوششیں رائیگاں، قریبی دوست چین نے بھی کھینچ لیا ہاتھ

پاکستان کوبڑا جھٹکا، عمران خان کی کوششیں رائیگاں، قریبی دوست چین نے بھی کھینچ لیا ہاتھ

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے لئے اس سال کچھ بھی اچھا نہیں ہورہا ہے۔ دہشت گردانہ واقعات کے بعد بین الاقوامی دباو جھیلنے کے بعد اقتصادی بحران کو دورکرنے کے لئےآئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ وہیں اب پاکستان کے ‘سدا بہاردوست’ چین نے بھی اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔

چین کے ذریعہ پاکستان میں سرمایہ کاری 72 فیصد تک کم ہوگیا ہے، اس کا مطلب واضح ہے کہ چین کی طرف سے اب پاکستان میں پیسہ نہیں لگایا جارہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اقتصادی مسائل کا حقیقی اثرپاکستان کے عوام پرپڑرہا ہے۔ رمضان کے مہینے میں ان پرجوگزررہا ہے، وہ شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔ گرتے روپئے کے سبب پاکستان میں مہنگائی میں بہت اضافہ ہورہا ہے۔

 توکیا اب چین بھی چھوڑ رہا ہے پاکستان کا ساتھپاکستان کے اخبارڈان کے مطابق اپریل میں چین کی طرف سے سرمایہ کاری 72 فیصدی گرکر6804 کروڑپاکستانی روپئے تھا جبکہ ملک میں آنے والی غیرملکی سرمایہ کاری میں 42.6 گراوٹ آرہی ہے۔ یہ گرکرتین سال کے سب سے نچلے سطح پرآگیا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ حال میں چین نے پاکستان واقع دہشت گردانہ تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہرکو بین الاقوامی دہشت گرد قراردینے کے کے لئے اپنا ویٹوپاورہٹا دیا تھا۔ ہندوستان میں کئی حملے کرنے والے جیش محمد سربراہ کو یکم مئی سے عالمی دہشت گرد کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ چین کے کاونسلرشاوجون یاوو نے 1267 سمیتی کو بیجنگ کے تعاون کے یقین دہانی کرائی تھی۔

ایس بی پی کی وارننگ

State-Bank-of-Pakistan

پاکستان میں آئندہ مالی سال میں مہنگائی اپنے عروج پرہوگی۔ وہان کے ٹاپ بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اسے لے کروارننگ جاری کی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعہ جاری یہ وارننگ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے پاکستان کومل رہے 6 ارب ڈالرکے پیکیج کے دوران جاری کی گئی۔ ایسے میں اس پیکیج کولے کرحالات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ اس کی شرح سود میں اضافہ ہوجائے گا۔

مہنگائی میں کیوں ہورہا ہے اضافہ؟

pakistan-stock-exchange

دن بدن ڈالرکے مقابلے کم ہوتے پاکستانی روپئے کا ہی نتیجہ ہے کہ مارچ میں پاکستان میں مہنگائی شرح گزشتہ پانچ سال کے سب سے اعلیٰ سطح 9.41 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اپریل میں یہ 8.8 فیصد درج کیا گیا۔ اس سال اپریل جولائی کے درمیان مہنگائی شرح 7 فیصد تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال اسی وقت یہ شرح 3.8 فیصد تھا۔ اقتصادی معاملات کے ماہرین کہتے ہیں کہ ڈالرکی قیمت میں اضافہ ہونے اورروپئے کی گراوٹ سے پاکستان میں کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ سبھی لوگ متاثرہورہے ہیں۔

پاکستان میں ایکسپورٹ کے مقابلے امپورٹ زیاد ہوتا ہے۔ ایسے میں امریکی ڈالرکی قیمت بڑھنےسےامپورٹ پرزیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑرہا ہے، لیکن ڈالرکی قیمت میں اضافہ طویل وقت تک برقراررہتا ہے تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ ڈالرکی قیمت میں اضافہ سے فوری طورپرمتاثرہونے والا اعلیٰ متوسط طبقہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ لوگ جو امپورٹ اشیاء کا استعمال کرتے ہیں، ان کی امپورٹ لاگت میں اضافہ ہوگا، لہٰذا ان کی قیمتیں بڑھیں گی۔

x

Check Also

چین نے امریکا کی کئی کمپنیاں بلیک لسٹ کر دیں

شنگھائی ۔ ایجنسیاں چین نے تائیوان کے ساتھ اسلحہ کے معاہدے کرنے ...