امریکی ایوان نمائندگان نے ترکی کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی کے لیے کانگریس میں ایک نیا بل لانے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایوان نمائندگان کی طرف سے کانگریس میں ایک نیا بل لایا جا رہا ہے جس میں ترکی کی جانب سے روس کے S-400 دفاعی نظام کی خریداری کی صورت میں انقرہ کو "ایف 35” جنگی طیاروں اور دیگر اسلحہ کی فروخت پر پابندی کی سفارش کی جائے گی۔

نیٹو کا فضائی تحفظ

امریکی ایوان نمائندگان کی تین رکنی مسلح فوج کمیٹی، جس میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کے مائیک ٹیرنر، جون گرامنڈی اور پال کک شامل ہیں، نے ‘سنہ 2019ء کے دوران نیٹو کا فضائی تحفظ’ کے عنوان سے نیا بل لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بل کی حمایت کرنے والوں میں سینیٹر جیمز لانکفورڈ اور کئی دوسرے ارکان کانگریس بھی پیش پیش ہیں۔

ترکی کو اسلحہ کی فروخت میں کوئی لچک نہیں

رکن کانگریس گارامنڈی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اگر ترکی روسی ساختہS-400  فضائی دفاعی نظام خرید کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ امریکا سے’ایف 35′ جنگی طیارے بھی خرید لیتا ہے تو یہ سودا امریکی طیاروں، اس کی ترقی یافتہ ٹکنالوجی کو خطرے میں ڈالنے کا سبب بنے گا۔ اس سے امریکا اور نیٹو کے مشترکہ دفاعی مشن کو بھی شدید خطرات لاحق ہوں‌ گے۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ ایوان نمائندگان میں لایا جانے والا بل ترکی کے لیے سخت پیغام ہو گا تاکہ وہ روس سے S-400 کی خریداری کا فیصلہ واپس لے۔ یہ مسودہ قانون ترکی کے لیے پیغام ہوگا کہ واشنگٹن، انقرہ کے حوالے سے کسی قسم کی نرمی اور لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔