بنیادی صفحہ / عالمی / آزاد اور خود مختار فلسطین کو ہندوستان کی حمایت ، قیام امن کیلئے بات چیت کا راستہ ہی واحد حل : مودی

آزاد اور خود مختار فلسطین کو ہندوستان کی حمایت ، قیام امن کیلئے بات چیت کا راستہ ہی واحد حل : مودی

Print Friendly, PDF & Email

رملہ : وزیر اعظم مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس کو وہاں کے لوگوں کے مفادات کے سلسلہ میں ہندوستان کی عہد بندی کے تئیں آج یقین دہانی کرائی اور امیدظاہر کی کہ فلسطین پرامن طریقے سے جلد ہی ایک آزا د اور خودمختار ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک آزاد اور خود مختار فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات، عمان اور فلسطین کے چار روزہ دورہ کے دوران یہاں پہنچے وزیر اعظم مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں پر دستخط کرنے کے بعد کہا کہ فلسطین کی خوشحالی اور امن کے لئے بات چیت کا راستہ ہی واحد حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے ذریعہ یہاں تشدد ختم کی جانی چاہئے اور امن کا راستہ نکالنا چاہئے۔

مسٹر مودی نے کہاکہ فلسطین کی طرح ہندوستان بھی نوجوانوں کا ملک ہے۔ انہیں یہاں کے نوجوانوں سے بھی وہی امید یں ہیں جو ہندوستان کے نوجوانوں سے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارا مستقبل اور جانشین ہیں۔ اس لئے دونوں ملکوں کے درمیان علم اور سائنس کے تبادلہ کو فروغ دینے کیلئے ہر سال اس مقصد سے ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے والے طلبہ کی تعداد پچاس سے بڑھا کر ایک سو کی جائے گی۔

 مسٹر مودی نے کہاکہ فلسطین کے ساتھ ہندوستان ہندوستان کا صدیوں پرانا تعلق ہے اور اس وقت بھی ہندوستان کے لئے فلسطین کی خصوصی اہمیت ہے۔ بہتر کل کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کیا جانا ضروری ہے اور اس کے لئے ڈھانچہ جاتی ترقی، مالیاتی مینجمنٹ ، کمیونیکیشن ڈیولپمنٹ جیسے شعبوں میں ایک دوسرے کا تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں یہاں رملہ میں ٹکنالوجی پارک پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے اور اس پر تیزی سے کام چل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان یہاں زیر تعمیر ڈپلومیٹک انسٹی ٹیوٹ کے قیام میں بھی تعاون کررہا ہے۔ یہ ادارہ عالمی معیار کا ہوگا۔ باہمی تعاون کے پروگراموں کے ذریعہ نہ صرف تعلقات مستحکم ہوں گے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کے سنہرے مستقبل کا خواب پورا ہوسکے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسکل ڈیولپمنٹ اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطین کے لوگوں نے مشکل وقت میں چیلنجز کا بخوبی سامنا کیا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے ناموافق حالات میں اپنے ترقی کے لئے اپنی توانائی اور صلاحیتوں کا جس طرح استعمال کیا ہے وہ قابل تعریف ہے۔

x

Check Also

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا

لندن: برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو بریگزٹ ڈیل پر ساتھی اور اپوزیشن اراکین ...