بنیادی صفحہ / عالمی / جموں و کشمیر سے متعلق لیے گئے مودی حکومت کے فیصلہ کی خبر نہیں تھی: امریکہ

جموں و کشمیر سے متعلق لیے گئے مودی حکومت کے فیصلہ کی خبر نہیں تھی: امریکہ

Print Friendly, PDF & Email

اسلام آباد: امریکہ نے بدھ کے رو ز اس بات سے انکار کیا کہ ہندوستان نے جموں وکشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے اپنے منصوبے کی جانکاری پہلے ہی اسے دے دی تھی ۔ ڈان نیوز نے پاکستان کے دورے پر آئیں امریکہ کی سینئر سفارت کار اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لئے امریکہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری ایلس ویلز کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ انہوں نے بیان جاری کرکے کہاکہ ’’حکومت ہند نے جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے سے پہلے امریکہ سے مشورہ نہیں کیا تھا یا اس کی اطلاع نہیں دی تھی‘‘۔

ہندوستانی میڈیا نے اس سے قبل ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنكر نے یکم اگست کو امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپيو کو اس بارے میں مطلع کیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ملک (ہندوستان اور امریکہ) اس معاملے پر کئی بار بحث کر چکے تھے۔ میڈیا رپورٹوں میں دعوی کیا گیا تھا کہ اس سے قبل فروری میں پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے دو دن پہلے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو فون کیا تھا اور ان سے جموں و کشمیر کے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے سلسلے میں بات کی تھی۔

 اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر مليحہ لودھی نے حکومت ہند کی طرف سے جموں وکشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر ایلبو روسیلی کو معلومات فراہم کرائی ہیں۔ اسی طرح سے ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنكر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان (امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین) اور غیر ملکی میڈیا کو اس کے بارے میں معلومات دی ہے۔

امریکہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ نے ہندوستانی حکومت کی کارروائی اور بعد میں پاکستان حکومت کے جواب سے خود کو الگ رکھا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دعوی کیا کہ پاکستان نے ہندوستان کے غیر قانونی ارادے کو سمجھ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حکومت نے یکم اگست کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھ کر ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجہ کو ختم کرنے کے سلسلے میں پاکستان کی تشویشات سے آگاہ کیا تھا، جبکہ تین اگست کو اس کے بارے میں یورپی یونین کے ممالک کو اطلاع دی گئی تھی۔

 پاکستانی سفیر لودھی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر، سفارتکاروں اور اقوام متحدہ کے حکام کو حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیر کے خصوصی ریاست کے درجہ کو ختم کرنے کے بارے میں معلومات دی ہے۔

x

Check Also

پاکستان کو بڑا جھٹکا، کشمیرمسئلے پرکلوزڈورمیٹنگ میں پاکستان کو ہی نہیں ملےگا داخلہ

پاکستان نےگزشتہ دنوں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کوایک خط لکھ کرکشمیرمیں ہندوستانی ...