بنیادی صفحہ / عالمی / فلسطین : امریکی سفارتخانہ کے افتتاح کے موقع پر لہولہان ہوا غزہ ، 41 افراد جاں بحق ، سینکڑوں افراد زخمی
Palestinian demonstrators run for cover from Israeli fire and tear gas during a protest against U.S. embassy move to Jerusalem and ahead of the 70th anniversary of Nakba, at the Israel-Gaza border in the southern Gaza Strip May 14, 2018. REUTERS/Ibraheem Abu Mustafa

فلسطین : امریکی سفارتخانہ کے افتتاح کے موقع پر لہولہان ہوا غزہ ، 41 افراد جاں بحق ، سینکڑوں افراد زخمی

Print Friendly, PDF & Email

غزہ : یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کے باضابطہ افتتاح کے دن آج غزہ میں اسرائیلی سرحد پر مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری میں کم سے کم 41 فلسطینی شہری جاں بحق ہوگئے۔ فلسطینی طبی عملہ نے بتایا کہ مظاہرین پر اسرائیلی فوج کی کارروائی میں سیکڑوں دیگر زخمی ہوئے ہيں۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر غزہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم از کم 41 فلسطینیوں کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔ ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب چھ ہفتوں سے مظاہرے جاری ہیں لیکن امریکہ کا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم میں منتقل کیے جانے کے بعد ان میں شدت آئی ہے۔گزشتہ 30 مارچ سے شروع ہونے پرتشدد مظاہروں میں 2014 کی غز ہ جنگ کے بعد ایک ہی دن یہ سب سے زيادہ ہلاکتیں ہیں۔ طبی عملہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی گولہ باری میں 900 مظاہرین زخمی ہوئے ہيں، جن میں سے 450 کو گولیاں لگی ہيں۔

مظاہرے کے دوران فلسطینیوں نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے جبکہ فوجی نشانے بازوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 35 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ کے پاس ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں شریک ہیں اور اس کے فوجی دستے ضابطۂ کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔

تل ابیب سے امریکی سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کے ان کے فیصلے پر فلسطینی ناراض ہیں۔امریکی سفارتخانے کا افتتاح اسرائیل کے قیام کے 70ویں سالگرہ کے موقعے پر رکھا گیا ہے۔ فی الحال، یروشلم میں واقع امریکی قونصل خانے میں ہی امریکی سفارتخانے کا رسمی افتتاح کیا گیا ہے۔ اسرائيل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ رکھتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔ فلسطینی اسے اپنی مستقل ریاست کا دارالحکومت کہتے ہیں۔

یوروپین یونین نے سفارتخانے کی منتقلی پر شدید اعتراض ظاہر کیا ہے جبکہ زیادہ تر یورپی یونین کے سفراء اس کا بائیکاٹ کریں گے۔ تاہم، ہنگری، رومانیہ، اور چیک ریپبلک جیسے ممالک کے درجنوں نمائندے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ گوئٹےمالا اور پیراگوئے کے صدور بھی اس میں شامل ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک کے صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کر نے کا منصوبہ رکھتے ہيں۔

x

Check Also

امریکا میں ہائی جیک ہونے والا طیارہ سمندر میں گر کر تباہ

واشنگٹن: امریکا میں نجی ائرلائن کا مسافر طیارہ ہائی جیکنگ کے بعد ...