عراق میں احتجاجی مظاہروں کے پانچویں روز سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید انیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں دن کے وقت کرفیو ہٹائے جانے کے بعد تشدد کے مزید واقعات پیش آئے ہیں مگر بے روزگاری اورسرکاری محکموں میں کرپشن کے خاتمے کے لیے عراقی شہریوں کے احتجاج میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔

پولیس حکام اور طبی ذرائع کے مطابق بغداد کے علاقے الشولہ میں سورج غروب ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بغداد کے مرکزی چوک التحریر کے نزدیک بھی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی ہے جس سے مزید دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔اس علاقے میں کل نو مظاہرین سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

دارالحکومت کے جنوبی علاقے ظفرانیہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا ایک شخص دم توڑ گیا ہے۔اس علاقے میں آج دوافراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

عراق کے مذہبی اور سیاسی قائدین نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز سے ضبط وتحمل کی اپیل کی تھی لیکن یہ اپیل صدا بصحرا ثابت ہوئی ہے اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلانے کاسلسلہ جاری رکھا ہے۔گذشتہ پانچ روز کے دوران میں تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو سے بڑھ گئی ہے۔

عراقی پارلیمان سے وابستہ اعلیٰ کمیشن برائے انسانی حقوق نے قبل ازیں گذشتہ پانچ روز میں چورانوے مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ قریباً چار ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔عراق میں جاری یہ بدامنی اور احتجاجی مظاہرے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں اور مظاہرین نے بغداد میں کرفیو کو تیاگ کر احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی ہے۔

عراقی حکومت نے پُرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے جمعرات کو بغداد میں کرفیو نافذ کردیا تھا لیکن اس سے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے اور جمعہ کو احتجاجی مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بائیس ہلاکتیں ہوئی تھیں۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر مقتولین کو سر اور سینے میں گولیاں لگی تھیں۔

عراقی دارالحکومت میں مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے کرفیو ہٹایا گیا تھا۔اس کے بعد معمول کا ٹریفک بحال اور دکانیں کھلنا شروع ہوگئی تھیں مگر دوپہر کے بعد مظاہرین بالخصوص نوجوان ایک مرتبہ پھر تحریر چوک کے آس پاس کی شاہراہوں پر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے تھے۔

لیکن سکیورٹی فورسز نے تحریر چوک کی جانب جانے والے راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا اور وہ بکتر بند گاڑیاں اور فوجی نظر آرہے تھے۔وہاں سے دو کلومیٹر تک علاقے خصوصی فورسز اور فوج کی گاڑیاں بھی کھڑی کر دی گئی تھیں۔

سکیورٹی اہل کاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے ایک مرتبہ پھر اشک آور گولوں کا استعمال کیا اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے سیکڑوں مظاہرین وہاں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔اس دوران میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مظاہرین وزیراعظم عادل المہدی کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔انھوں نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

ادھر جنوبی شہر ناصریہ سمیت عراق کے مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور مظاہرین نے دو سیاسی جماعتوں کے دفاتر کو نذر آتش کردیا ہے۔دو عراقی عہدے داروں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی تھی۔ تاہم اس فائرنگ سے فوری طور پر کسی کے مرنے کی کوئی اطلاع نہیں۔ایک اور جنوبی شہر دیوانیہ میں مظاہرین نے مقامی حکومت کے دفاتر کی جانب مارچ کیا ہے۔

بغداد میں کرفیو کے ہٹائے جانے کے باوجود سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور گرین زون کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ بغداد کے اس قلعہ نما علاقے میں غیرملکی سفارت خانے اور سرکاری دفاتر واقع ہیں۔

اقوام متحدہ ایلچی کی اپیل

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عراق میں خصوصی ایلچی جینین ہینس پلاسشائرٹ نے ملک میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں احتجاجی مظاہروں میں قریباً ایک سو افراد کی ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس خونریزی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’’پانچ دن میں مظاہرین کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہی ملی ہیں،اس کو روکا جانا چاہیے۔‘‘