بنیادی صفحہ / عالمی / خلیجی ملکوں کے ساتھ خلاف عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

خلیجی ملکوں کے ساتھ خلاف عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ

Print Friendly, PDF & Email

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ’’ امریکا کی حالیہ سرگرمیاں طاقت کے استعمال سے متعلق اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔‘‘ ان کا اشارہ خلیج عرب میں امریکی بحری بیڑے، بمبار طیاروں اور اضافی فوجیوں کی تعیناتی کی جانب تھا۔

جواد ظریف امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہمسایہ ملکوں کی وساطت سے امریکا کے ساتھ ثالثی کی کوششوں کا جائزہ لینے ہفتے کے روز عراق پہنچے، جہاں وہ عراق کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے عراقی ہم منصب کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا ملک تمام خلیجی ملکوں کے ساتھ متوازن تعلقات چاہتا ہے۔‘‘ ایران سے متعلق متعدد ایسی اطلاعات موجود ہیں جن میں حوثیوں کے لیے ایرانی امداد کے ناقابل تردید ٹھوس ثبوت پیش کئے جا چکے ہیں۔ یہی حوثی سعودی عرب پر ڈورن طیاروں اور بیلسٹک میزائلوں سے متعدد بار حملے کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’’ہم ایران کے ہمسایہ خلیجی ملکوں کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔‘‘

تاہم اسی سانس میں انھوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ ایران خود پر مسلط کی جانے والی فوجی یا معاشی جنگ کی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دے گا۔

دوسری جانب ایران نے یورپی ملکوں سے جوہری معاہدے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے تحفظ کی خاطر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’جوہری معاہدے سے متعلق صرف باتیں ہی نہیں بلکہ یورپی یونین کو عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔‘‘

امریکا۔ایران کے درمیان ثالثی

ادھر عراقی وزیر خارجہ محمد علی الحکیم نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہم اپنے ہمسائے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے میں ایران کا اقتصادی ناطقہ بند کرنا مفید نہیں ہو گا۔‘‘

یاد رہے کہ عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمھدی نے ہفتے کی شب جواد ظریف کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’جنگ کے خطرات‘‘ کی مذمت کی اور خطے میں امن واستحکام کی اہمیت پر زور دیا۔

عراقی وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ جوہری معاہدے کا احترام کرے۔ امریکا اس معاہدے سے نکلنے کی دھمکیاں دے رہا جبکہ تہران بھی معاہدے کی تحت اپنی بعض ذمہ داریوں کو موقوف کرنے کی اعلانات کر رہا ہے۔

عراقی صدر برھم صالح نے ہفتے کی شب جواد ظریف سے ملاقات کی۔ ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقی صدر نے ’’جنگ سے باز رہتے ہوئے کشیدگی روکنے‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔

x

Check Also

خبردار! ہندوستان پر ’اقتصادی مندی‘ کا اثر زیادہ واضح ہوگا: آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ ممالک ...