بنیادی صفحہ / عالمی / چین میں کوروناوائرس سے اب تک 41 افراد کی موت،1287 متاثر: جانیں کیا ہے کوروناوائرس

چین میں کوروناوائرس سے اب تک 41 افراد کی موت،1287 متاثر: جانیں کیا ہے کوروناوائرس

Print Friendly, PDF & Email

بیجنگ۔ چین کے مختلف صوبوں میں بھی تیزی سے پھیل رہے جان لیوا کوروناوائرس نے اب خطرناک شکل اختیار لی ہے اور اس کی وجہ سے ابھی تک 41 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ چین کے صحت کے حکام نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔ قومی صحت کمیٹی کے مطابق، کوروناوائرس کی روک تھام کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے اور روزانہ اس کے نئے کیس درج کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین کے صوبہ ہبوئی میں 39، صوبہ ہیبے میں ایک اور ایک دوسرے صوبہ ہیلنگ ژانگ میں کورونا وائرس کی زد میں آنے سے موت ہو گئی ہے اورتقریباً 1287 افراد اس سے متاثر ہیں جن میں سے 237 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب فرانس نے بھی اپنے ملک میں کوروناوائرس کی تصدیق کردی ہے، جس سے 3 افراد اب تک بیمار ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ امریکہ میں کوروناوائرس سے اب تک 2 افراد کو اسپتال پہنچا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کوروناوائرس سے متعلق ابھی تک 1965 معاملے سامنے آئے ہیں۔وبائی شکل اختیار کر چکے کوروناوائرس کے خطرے کو دیکھتے ہوئے چین کی حکومت نے صوبہ ہبوئی کے 10 شہروں میں ٹریفک کو ملتوی کر دیا ہے۔

فرانس نے بھی اپنے ملک میں کوروناوائرس کی تصدیق کردی ہے، جس سے 3 افراد اب تک بیمار ہوچکے ہیں۔
 قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں اس وائرس کا پہلا کیس درج کیا گیا تھا جس کے بعد چین میں کوروناوائرس خطرناک  رخ اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس وائرس کی زد میں آنے سے اب تک 41 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ یہ اعداد تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس کو ذہن میں رکھتے ہوئے کئی ممالک نے چین کے سفر کے لئے اپنے اپنے ملک کے شہریوں کو الرٹ جاری کیا ہے۔ امریکہ، جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور، نیپال میں بھی اس وائرس کے معاملے سامنے آئے ہیں۔

وہیں، ہانگ کانگ میں کوروناوائرس کے تین نئے معاملے سامنے آئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہاں انفیکشن میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔ صحت کے تحفظ کے محکمے کے مطابق چین کے ووہان سے یہاں آئے تین لوگوں کی جانچ میں کوروناوائرس کی علامات پائی گئی ہیں۔مریضوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں اسپتال میں الگ سے نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ ہانگ کانگ میں کوروناوائرس کا پہلا معاملہ 19جنوری کو ٹرین سے چین سے آئی 62سالہ خاتون میں پایا گیا تھا۔ اس خاتون نے 20جنوری کو بخار اور کھانسی کی شکایت کے بعد اسپتال میں جانچ کرائی تو کوروناوائرس کی علامات پائی گئیں۔ اس کے بعد اس خاتون کے گھر کے دیگر افراد میں بھی اس انفیکشن کی علامات پائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ووہان سے 22جنوری کو ہانگ کانگ آئے 62سالہ اور 63سالہ ایک جوڑے میں بھی اس انفکیشن کی علامات پائی گئی ہیں۔

سی ایچ پی کے مطابق 31 دسمبر سے اب تک ہانگ کانگ میں کوروناوائرس کے 239مشتبہ معاملے پائے گئے ہیں،جبکہ پانچ مریضوں میں اس انفیکشن کے پائے جانے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

کوروناوائرس ہے کیا؟

عالمی ادارہ صحت(WHO) کے مطابق، کوروناوائرس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ان میں سے چھ اور اس حالیہ وائرس کو ملا کر سات ایسی قسمیں ہیں جو انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے بخار ہوتا ہے۔ سانس کی نالی میں شدید مسئلہ ہوتا ہے۔ سنہ 2002 میں چین میں کوروناوائرس کی وجہ سے 774 افراد ہلاک ہوئے اور مجموعی طور پر اس سے 8098 افراد متاثر ہوئے تھے۔

کورونا وائرس کے جنیاتی کوڈ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ رسپائریٹری سنڈروم (سارس) سے ملتا جلتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق انسانوں کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کیے بغیر جانوروں کے نزدیک نہ جائیں اور گوشت اور انڈے پکانے میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ ٹھیک سے تیار کیے گئے ہیں اور اس کے علاوہ ان افراد سے دور رہیں جنھیں نزلہ یا اس جیسی علامات ہوں۔

یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

x

Check Also

ترکی میں زلزلے کے سبب 7 ہلاکتیں

ترک وزیر داخلہ کے مطابق ایران کے ساتھ ترکی کے سرحدی علاقے ...