شام نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بشارالاسد کو قتل کرنے کے ارادے کا ترکی بہ ترکی جواب دیا ہے اور امریکا کو ایک ’’بدمعاش‘‘ ریاست یا ’’ دہشت گرد گروپ‘‘ کے ہم پلّہ قرار دیا ہے۔

شامی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے:’’ ٹرمپ کا اس طرح کے اقدام کے اعتراف اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک بدمعاش ریاست ہے۔‘‘

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکی انتظامیہ ایسے ہتھکنڈوں پر عمل پیرا ہے،جن پر دہشت گرد گروپ عمل پیرا ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کو قتل اور ہلاک کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز فاکس نیوز سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ 2017ء میں شامی صدر بشارالاسد کو قتل کرنا چاہتے تھے مگر اس وقت وزیر دفاع جیمز میٹس ان کے آڑے آگئے تھے اور انھوں نے شام میں اس آپریشن کی مخالفت کردی تھی۔

انھوں نے خود ہی انکشاف کیا کہ’’میں ان (بشارالاسد) کی جان لیتا چاہتا تھا اور اس کے لیے میں نے تمام تیاری مکمل کرلی تھی لیکن جیمز میٹس ایسا نہیں چاہتے تھے۔انھیں جنرل کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا اور میں نے انھیں جانے دیا تھا۔‘‘

ان کے اس نئے انکشاف سے 2018ء میں واشنگٹن پوسٹ کے مایہ ناز رپورٹر باب ووڈ وارڈ کی ایک رپورٹ کی تائید ہوئی ہے۔انھوں نے اپنی کتاب ’’خوف: وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ‘‘ میں امریکی صدر کے اس منصوبے کی تفصیل لکھی تھی۔

لیکن تب صدر ٹرمپ نے خود اس رپورٹ کی تردید کردی تھی۔انھوں نے 5 ستمبر 2018ء کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’اس منصوبے پر تو کبھی غور ہی نہیں کیا گیا تھا۔‘‘

انھوں نے فاکس نیوز سے اس انٹرویو میں اپنے سابق وزیردفاع اور امریکی فوج کے سابق جنرل جیمز میٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھاحالانکہ انھوں نے ان کا پینٹاگان کی قیادت کے لیے خود ہی انتخاب کیا تھا اورانھیں ایک ’’عظیم آدمی‘‘قرار دیا تھا لیکن بعد میں بہت سے امور پر ان دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور جیمز میٹس کو اپنے عہدے سے استعفا دینا پڑا تھا۔

صدر ٹرمپ نے مبیّنہ طور پر اپریل 2017ء میں شامی شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد بشارالاسد کو ہلاک کرنے پر غورکیا تھا۔باب ووڈ وارڈ نے اپنی کتاب میں صدر کے یہ الفاظ نقل کیے تھے:’’امریکی افواج آگے بڑھیں اور بشارالاسد کو قتل کردیں۔‘‘

واضح رہے کہ اپریل 2017ء میں شامی فوج نے باغیوں کے زیر قبضہ قصبے خان شیخون پر سیرین گیس سے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 80 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے کے بعد امریکی فوج نے صدر ٹرمپ کے حکم سے شامی فوج کے شعیرات ائیربیس پر میزائل حملہ کیا تھا۔خان شیخون پر گیس حملہ اسی اڈے سے کیا گیا تھا۔

شامی فوج نے دمشق کے نزدیک واقع باغیوں کے زیر قبضہ قصبے الدوما پر بھی کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔اس کے ردعمل میں اپریل 2018ء میں امریکا ، فرانس اور برطانیہ نے شامی فوج کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے۔

اس وقت شام میں گذشتہ نو سال سے جاری جنگ کے بعد صدر بشارالاسد کی حکومت کو ملک کے 70 فی صد علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل ہوچکا ہے۔شام میں 2011ء کے اوائل میں پُرامن احتجاجی مظاہرین کے خلاف شامی سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد جنگ چھڑی تھی۔اس میں اب تک تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوگئی تھی۔