بنیادی صفحہ / عالمی / نیتن یاہو کا مسجد ابراہیمی پر حملہ خطرناک پیش رفت: فلسطین

نیتن یاہو کا مسجد ابراہیمی پر حملہ خطرناک پیش رفت: فلسطین

Print Friendly, PDF & Email

دبئی: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطین کی تاریخی مسجد الابراہیمی پر دھاوا بولا اور مسجد کی بے حرمتی کی۔ اس موقع پر نام نہاد سیکیورٹی کی آڑ میں الخلیل شہر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ دوسری طرف فلسطینی اتھارٹی نے مسجد ابراہیمی میں اسرائیلی وزیراعظم کے بدھ کے روز بولے گئے اس دھاوے کو مذہبی اشتعال انگیزی کی ایک نئی اور خطرناک کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق نیتن یاہو کی آمد سے قبل الخلیل شہر میں تمام کاروباری مراکز اورتعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے تھے۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں تل الرمیدہ سے حارہ السلایمہ تک اور وادی الحصین سے حارہ جابر تک تمام مقامات پر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

 اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے مسجد ابراہیمی کو گھیرےمیں لے رکھا تھا۔ قابض فوج نے حرم ابراہیمی سے متصل الیوسفیہ کے مقام کو بھی محاصرے لیے میں لیے رکھا۔ اس موقع پر صہیونی حکام نے پرانے الخلیل شہر کے امور کے فلسطینی عہدیدار مہند الجعبری کو بھی طلب کیا گیا۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کے مسجد ابراہیمی پر دھاوے کو خطرناک پیش رفت قراردیا ہے۔ فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کا مسجد ابراہیمی میں گھس کس تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنا انتہائی خطرناک پیش رفت اور ناقابل قبول اقدام ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے انتہا پسند یہودیوں کو مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

x

Check Also

خبردار! ہندوستان پر ’اقتصادی مندی‘ کا اثر زیادہ واضح ہوگا: آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ ممالک ...