بنیادی صفحہ / عالمی / بحیثیت مسلمان وہی کروں گا جو ہمارا دین کہتا ہے، ترک صدر کا شرح سود میں اضافہ سے انکار

بحیثیت مسلمان وہی کروں گا جو ہمارا دین کہتا ہے، ترک صدر کا شرح سود میں اضافہ سے انکار

Print Friendly, PDF & Email

انقرہ: ترکی کے صدر طیب رجب اردوآن نے کہا ہے کہ بحیثیت مسلمان وہ وہی کام کریں گی جو ہمارا دین کہتا ہے، ملک میں شرح سود میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ ترکی کی کرنسی لیرا میں گرواٹ درج کی جا رہی ہے اور ایسے حالات میں ترک صدر سے شرح سود میں اضافہ کی اپیل کی جا رہی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے افراط زر میں اضافے کے باوجود مرکزی بینک کو شرح سود میں اضافے سے روک دیا ہے، جس کے بعد ترک کرنسی لیرا کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید 5 فیصد کی کمی واقع ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’’شکایت کی جاتی ہے کہ ہم سود کی شرحوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ اس سے الگ مجھ سے کوئی امید مت کیجئے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے میں اسلامی تعلیمات کے تحت کام کرتا رہوں گا۔‘‘

غورطلب ہے کہ پیر کے روز ابتدائی ایشیائی تجارت میں لیرا 6 فیصد سے زیادہ کمزور ہو کر 17.624 فی ڈالر پر آ گیا۔ لیرا کی قدر میں مسلسل پانچ دنوں سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ پچھلے تین مہینوں میں اس نے اپنی قدر تقریباً نصف کھو دی ہے۔ اس عرصے کے دوران دنیا کے کسی ملک نے اپنی کرنسی میں اتنی بڑی گراوٹ درج نہیں کی۔

ماہرین کا کہنا ہے شرح سود میں اضافہ نہ کرنے کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں ترکی میں افراط زر میں مزید 30 فیصد یا اس سے بھی زیادہ کا اضافہ درج کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ترک صدر نے شرح سود میں اضافے کے خلاف بیان دیا ہے، اس سے پہلے بھی انہوں نے اس حوالے سے کہا تھا کہ شرح سود مہنگائی میں کمی کے بجائے اس میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*