بنیادی صفحہ / عالمی / جولیان اسانج جیل میں مر سکتے ہیں، ڈاکٹرز

جولیان اسانج جیل میں مر سکتے ہیں، ڈاکٹرز

Print Friendly, PDF & Email

وکی لیکس ویب سائٹ کے بانی جولیان اسانج کی جیل میں خراب صحت پر ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کم از کم ساٹھ ڈاکٹروں نے وکی لیکس کے بانی کی جیل میں خراب صحت کے تناظر میں ایک کھلا خط تحریر کیا ہے۔ اس خط میں ڈاکٹروں نے یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ جیل میں مر سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے واضح طور خط میں تحریر کیا کہ اسانج کو جیل میں مسلسل خرابیٴ صحت کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اُن کی صحت کو لاحق خطرات شدید ہوتے جا رہے ہیں اوراس کی وجہ سے اسانج کی زندگی کو خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔

ایکواڈور کی حکومت نے وکی لیکس کے بانی کو جنوری سن 2018 میں شہریت بھی دے دی تھی۔ اس شہریت کو ایکواڈور کی نئی حکومت نے اپریل سن 2019 میں منسوخ کر دیا۔ وہ تقریباً سات برس لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں مقیم رہے۔ شہریت کی منسوخی کے بعد لندن پولیس کو طلب کر کے اسانج کو اُس کے حوالے کر دیا گیا۔

 یکم مئی سن 2019 کو لندن کی عدالت نے انہیں پچاس ہفتوں کی سزا سنائی تھی۔ اس عدالتی حکم کی بنیاد پر وہ اس وقت جیل کاٹ رہے ہیں۔ اسی سزا کے دوران ہی امریکی حکومت نے حساس راز افشا کرنے کے تناظر میں اُن کی ملک بدری کی درخواست لندن حکومت کو دی تھی۔

اُن کی امریکا کو حوالے کرنے کے مقدمے کی کارروائی اگلے سال فروری میں شروع ہو گی۔ امریکا کے حوالے کرنے کے بعد استغاثہ کے الزامات ثابت ہونے کی صورت میں امریکی عدالت انہیں 175 برس تک کی سزا سنا سکتی ہے۔

x

Check Also

اٹلی: کرونا سے ہلاکتوں کا ایک دن میں نیا ریکارڈ قائم، 800 افراد کی زندگی کا چراغ گل

اٹلی میں روزانہ اموات کی شرح میں اضافہ ریکارڈ ہو رہا ہے ...