بنیادی صفحہ / صوبائی / کرناٹک میں سخت ترین سیکورٹی میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش کی تقاریب ، زعفرانی جماعتوں کا احتجاج

کرناٹک میں سخت ترین سیکورٹی میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش کی تقاریب ، زعفرانی جماعتوں کا احتجاج

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور: کرناٹک میں سخت ترین حفاظتی انتظامات میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش تقاریب منائی گئی جبکہ بی جے پی اور دیگر زعفرانی جماعتوں نے اس کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا۔ ریاست میسور کے 18ویں صدی کے حکمراں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش منائے جانے پر جہاں سیاسی ماحول گرم رہا وہیں لوگوں میں بھی رائے منقسم نظر آئی۔ اپوزیشن بی جے پی اور کئی ہندو تنظیموں اور افراد نے حکومت کرناٹک کی جانب سے ٹیپو جینتی منائے جانے کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا۔

حکومت نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے پولیس‘ ریزرو پولیس‘ ریاپڈ ایکشن فورس کے 54ہزار جوانوں کو متعین کیا تھا جنہوں نے صورتحال پر سخت نظر رکھی۔ ضلع مستقروں پر تقاریب کا اہتمام کیا گیا جہاں انچارج وزراء اور دوسروں نے ٹیپوسلطان کی خدمات کو سراہا۔اطلاع ہے کہ ایک ریاستی ٹرانسپورٹ کی بس سمیت کئی گاڑیوں پر سنگباری کی گئی جس کی وجہ سے اُنہیں نقصان پہنچا۔ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے تشدد کرنے والے 200 سے زیادہ بی جے پی کارکنوں بشمول بی جے پی رکن اسمبلی اے رنجن کو کڈاگو ضلع میں گرفتار کرلیا گیا۔

 اطلاعات کے مطابق احتجاجیوں نے درخت کاٹ کر راستے روکنے کی کوشش کی۔ ضلع میں 2 سال پہلے بھی ٹیپو جینتی کے موقع پر احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات میں وشواہندو پریشد کا ایک مقامی لیڈر ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے جن میں پولیس جوان بھی شامل ہے۔ ضلع میں امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں جو کل تک برقرار رہیں گے۔

ٹیپو سلطان کو انگریزوں کے خلاف لڑنے کی وجہ سے محب وطن قرار دیا جاتا ہے۔ 1799ء میں وہ اپنے سری رنگاپٹنم قلعہ کی حفاظت کے لئے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔ کڈاگو ضلع میں ٹیپوسلطان اس وجہ سے حساس مسئلہ ہے کہ یہاں کڈاواس نامی ایک قبیلہ رہتا تھا تاریخ داں سی پی بلیاپا نے بتایا کہ ٹیپوسلطان نے اس قبیلہ کو زبردستی اسلام قبول کرانے کے لئے تشدد کا نشانہ بنایا اور اُنہیں غیرمجاز طور پر محروس رکھا۔ بلیاپا کا تعلق بھی کڈاگو سے ہے۔ وہ میسور کے سابق حکمراں کو ظالم قرار دیتے ہیں جبکہ کئی تاریخ دانوں نے ٹیپو سلطان کو ایک سیکولر اور جدید دور کا حکمراں قرار دیا۔

حکومت نے ضلع مستقروں پر منائی گئی تقاریب کے مقام پر 20ہزار ہوم گارڈس‘ کرناٹک اسٹیٹ ریزرو پولیس کے 212 پلاٹون‘ ریاپڈ ایکشن فورس کے 15 پلاٹون متعین کئے تھے۔ صدرمقام بنگلور پر سرکاری تقاریب کے مقام پر 11ہزار پولیس جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ریاستی دارالحکومت میں مسلمانوں نے بھی مختلف علاقوں میں ٹیپوسلطان کا یوم پیدائش منایا اور چند مقامات پر اشرار کی جانب سے گاڑیوں اور دکانوں پر پتھر پھینکنے کے واقعات پیش آئے۔ بنگلور میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے انتخابات کے موقع پر بی جے پی کارپوریٹرس اپوزیشن لیڈر پدمنابھا ریڈی کی قیادت میں گھس آئے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔انتخابات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر قانون ٹی بی جئے چندر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔

x

Check Also

انتخابی مہم کے لئے کانگریس دیگر پارٹیوں کی نقل نہیں کرے گی۔ پرمیشور ہم اپنی حکمت عملی خود تیارکریں گے۔ ایک ہی کنبہ کے دو افراد کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا

بنگلورو۔ یکم دسمبر (سالار نیوز) کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی ( کے پی ...