بنیادی صفحہ / صوبائی / وزیر اعلیٰ کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات پر بی جے پی چراغ پا پارٹی ریاست بھر میںآج سے جیل بھرو تحریک شروع کرے گی: شوبھا کرندلاجے

وزیر اعلیٰ کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات پر بی جے پی چراغ پا پارٹی ریاست بھر میںآج سے جیل بھرو تحریک شروع کرے گی: شوبھا کرندلاجے

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور:12 ؍جنوری(سالار نیوز) رکن پارلیمان وبھارتیہ جنتاپارٹی( بی جے پی) کی جنرل سکریٹری شوبھا کرندلاجے نے بتایا کہ ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کو دہشت گرد تنظیمیں اور اس کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے خلاف ریاستی بی جے پی 12 جنوری سے ریاست بھر میں ’’ جیل بھرو تحریک‘‘ شروع کرے گی، آج یہاں اخباری کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کرندلاجے نے چیلنج کیا کہ اگر حکومت کو طاقت ہے تو بی جے پی کارکنوں کو گرفتار کرے، کیونکہ بقول وزیر اعلیٰ سدارامیا بی جے پی اور آر ایس ایس کارکن دہشت گرد ہیں،اور انہیں گرفتار کیا جائے۔کرندلاجے نے الزام لگایا کہ ریاستی کانگریس رہنما اور وزیر اعلیٰ سدارامیا کے بے جا بیانات سے ریاست میں نظم نسق کی صورتحال پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، اور اس کے لئے ذمہ دار ریاستی کانگریس کے نگران کارکے سی وینو گوپال ہیں،انہوں نے کہا کہ کئی دہوں سے ملک کی خدمت میں مصروف آر ایس ایس تنظیم محب وطن ہے، اور واجپائی جیسے عظیم رہنماؤں پر مشتمل بی جے پی کو دہشت گرد اور جہادی کہنا کانگریس کی بے وقوفی ہے، انہوں نے الزام لگایا کہ آج ملک میں دہشت گردی کے لئے کانگریس ہی ذمہ دار ہے، جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کے لئے بھی کانگریس ہی ذمہ دار ہے، قتل وغارت گری کا آغاز پنجاب سے ہوا، جہاں کانگریس نے علاحدہ خالصتان تحریک کی حمایت کی اور کانگریس نے شمالی مشرقی ریاستوں میں علاحدگی پسندوں کو بڑھاوا دیا، انہوں نے کہا کہ ایل ٹی ٹی ای کے سربراہ پربھاکرن کی مالی امداد کی، جس کی وجہ سے ملک کو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے محروم ہونا پڑا، شوبھا کرندلاجے نے کہا کہ کانگریس کی گندی سیاست کی وجہ سے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کو قیمت چکانی پڑی، اب کانگریس کو آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، کرندلاجے نے بتایا کہ وینو گوپال نے کیرلا کی خونی سیاست پی ایف آئی، ایس ڈی پی آئی کے ذریعہ کرناٹک میں لائی ہے، اور کانگریس نے پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کے ساتھ خفیہ معاہدہ کرلیا ہے، انہوں نے بتایا کہ میسور میں بم دھماکہ کرنے والے علاحدگی پسندوں نے2015 میں ہی ریاستی چیف سکریٹری کو مکتوب روانہ کیا تھا، لیکن اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا،جس کی وجہ سے میسور میں عدالت کے روبرو دھماکہ ہوا، کرندلاجے نے کہاکہ آر ایس ایس یا بی جے پی والوں نے کبھی تلوار، چاقو، چھرا نہیں تھاما، کانگریس ووٹ بینک کی خاطر تلوا اور چاقو تھامنے والوں کی حمایت کررہی ہے، وزیر اعلیٰ سدارامیا کو اقتدار کا نشہ چڑھ گیا ہے، لیکن عوام انہیں مناسب سبق سکھائیں گے، اخباری کانفرنس کے دوران بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر بھارتی شٹی انورمانپاڈے، اشوتھ نارائن موجود رہے۔

 

x

Check Also

کرناٹک اسمبلی انتخابات: ریڈی برادران کے ذریعہ بی جے پی کو ہوسکتا ہے فائدہ

بنگلور:کرناٹک میں آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی ...