بنیادی صفحہ / صوبائی / کرناٹک میں کانگریس کی جانب سے ’40 فیصد سرکار‘ اور ’پے سی ایم‘ کے پوسٹر کیے جارہے ہیں چسپاں: آخر کیوں؟

کرناٹک میں کانگریس کی جانب سے ’40 فیصد سرکار‘ اور ’پے سی ایم‘ کے پوسٹر کیے جارہے ہیں چسپاں: آخر کیوں؟

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو: 21 ستمبر، 2022 (ذرائع)  کرناٹک کانگریس نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی پر بدعنوانی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے۔ پارٹی کی جانب سے ریاست کی دیواروں پر ’پے ٹی ایم‘ سے ملتے جلتے ’پے سی ایم‘ کے پوسٹر چسپاں کر دیئے ہیں۔ پوسٹر پر لکھا ہے ’ہم یہاں 40 فیصد (کمیشن) قبول کرتے ہیں۔‘

کانگریس نے جو پوسٹر چسپاں کیا ہے اس پر ایک کیو آر کوڈ نظر آ رہا ہے، جس میں وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کی تصویر بنائی گئی ہے۔ اس کیو آر کوڈ کو اسکین کرنے پر موبائل میں ’40 پرسنٹ سرکار ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ کھل جاتی ہے۔ یہاں کئی طرح کے گھوٹالوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

کانگریس پارٹی کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی ہر کام میں کمیشن وصول کرتے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوامی ٹھیکہ دینے میں اور سرکاری ملازمتوں پر تقرری میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ہر ایک کام کے لئے حکومت کی جانب سے کم از کم 40 فیصد کمیشن وصول کیا جا رہا ہے۔

انتظامی افسران کو جیسے ہی ’پے سی ایم‘ پوسٹروں کی اطلاع موصول ہوئی انہیں برق رفتاری سے دیواروں سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ پوسٹر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*