بنیادی صفحہ / صوبائی / تمام صحابہ کرامؓ عادل و صادق ہیں، کسی صحابی کی شان میں گستاخی گمراہی کے مانند ہے: مولانا بلال حسنی ندوی کا عظمت صحابہ کانفرنس سے خطاب
علامتی تصویر

تمام صحابہ کرامؓ عادل و صادق ہیں، کسی صحابی کی شان میں گستاخی گمراہی کے مانند ہے: مولانا بلال حسنی ندوی کا عظمت صحابہ کانفرنس سے خطاب

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور، 13/ اگست،2022 (پریس ریلیز) مرکز تحفظ اسلام ہند کے ہفت روزہ عظیم الشان آن لائن ”عظمت صحابہؓ کانفرنس“ کی چھٹی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب مدظلہ نے فرمایا صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظمت سے کون انکار کرسکتا ہے۔ یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت تمام مخلوقات سے افضل اور اعلیٰ ہے، یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرامؓ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے اور بہت سی قرآنی آیات و احادیث مبارکہ اس پر شاہد ہیں۔

مولانا نے  مزید فرمایا کہ صحابہ کرامؓ سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جو ان کی فضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے، بصورت دیگر ایمان ناقص ہے۔ لیکن افسوس کہ اس پر فتن دور میں بعض بدبخت لوگ ان کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوکر اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کو دعوت دیتے ہیں۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ اہل سنت و الجماعت کا بنیادی عقیدہ ہیکہ ایک طرف حضرات صحابہؓ کی محبت و عظمت ہو اور دوسری طرف اہل بیتؓ کی محبت و عظمت ہو، اگر یہ دنوں پہلو اعتدال کے ساتھ چلتے رہیں گے تو ہمارے عقیدے کا توازن برقرار رہے گا اور اگر کہیں بھی اس میں بے اعتدالی پیدا ہوگئی تو گمراہی کا خدشہ ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ اگر اہل بیتؓ سے محبت غلو کے حد تک ہوئی اور اسکے نتیجے میں دیگر حضرات صحابہؓ کے تعلق سے بدگمانی پیدا ہوئی تو یہ گمراہی کا راستہ ہے اور اگر کسی کے دل میں اہل بیتؓ کے سلسلے میں بدگمانی پیدا ہوگئی تو یہ بھی گمراہی کا راستہ ہے،لہٰذا ہمیں اعتدال کا راستہ اختیار کرناچایئے۔ مولانا نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک تمام صحابہ کرامؓ کی عزت واحترام اور ان سے محبت رکھنا جزوِ ایمان ہے، ان میں سے کسی کی شان میں ادنیٰ گستاخی بھی سخت محرومی کا سبب ہے، البتہ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔ مولانا حسنی نے فرمایا کہ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور تمام سے راضی ہونے اور جتنی ہونے کی خوشخبری سنائی ہے۔ نیز قرآن مجید کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی صحابہؓ و اہل بیت ؓکے بکثرت فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ میرے بعد انھیں ’نشانہ‘ مت بنالینا، کیوں کہ جو شخص ان سے محبت کرے گا، وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، جو ان سے بغض رکھے گا، وہ درحقیقت مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا۔ جس نے انھیں تکلیف پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی، اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ جلد ہی اسے اپنی گرفت میں لے لے گا۔ مولانا نے فرمایا کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صحابہ کرام ؓاور اہل بیت ؓسے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرامؓ کی پیروی کیے بغیر آنحضورؐ کی پیروی کا تصور محال ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضرات صحابہؓ و اہل بیتؓ کے تعلق سے اعتدال کا راستہ اختیار کریں، جس سے کسی پر زیادتی نہ ہو، کیونکہ اگر اہل بیت ؓکا حق مارنے والا ناصبی ہوتا ہے اور دیگر صحابہؓ کا حق مارنے والا رافضی ہوتا ہے۔ مولانا ندوی نے فرمایا کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات اور جنگیں ہوئیں وہ درحقیقت معصومانہ اور محض اللہ کی رضا کیلئے تھیں، اس میں کسی کا ذاتی مفاد شامل نہیں تھا۔ لہٰذا مشاجرات صحابہؓ پر انگلیاں اٹھانا، جس سے کسی بھی صحابی کی توہین و تنقیص کا پہلو نکلتا ہو تو قطعاً جائز نہیں۔ جس طرح حضرت علیؓ و حضرات حسنین ؓکی توہین وتنقیص اور ان کی گستاخی و بے ادبی کے مرتکب لوگوں کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اسی طرح حضرت معاویہ ؓ اور انکے ساتھی صحابہؓ کی توہین وتنقیص اور بے ادبی وگستاخی کرنے والوں کا بھی دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ مشاجرات صحابہؓ میں دونوں فریقین کی رائے اور عمل کی موافقت میں لاتعداد صحابہ کرامؓ تھے اور امت مسلمہ کے اجماع کی رو سے سارے صحابہؓ عادل اور محفوظ تھے۔ لہٰذا تاریخی روایتوں کو بنیاد بنا کر کسی ایک کو مشاجرات کی بابت مجرم قرار دینا شرعاً ناجائز بلکہ اپنے ایمان وعمل کا ضیاع ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ نصیب فرمائے اور ایسے اعمال وکردار سے محفوظ رکھے جو ہمارے ایمان وعمل کے ضیاع کا باعث بنتے ہوں، نیز تمام صحابہ کرامؓ و اہل بیت ؓسے سچی محبت کرنے اور انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر حضرت مولانا سید بلال حسنی ندوی صاحب نے مرکز تحفظ اسلام ہند کے خدمات کو سراہتے ہوئے خوب دعاؤں سے نوازا۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*