بنیادی صفحہ / صوبائی / ریاستی مخلوط حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں چار باغی اراکین اسمبلی کی واپسی اور اسمبلی اجلاس میں شرکت

ریاستی مخلوط حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں چار باغی اراکین اسمبلی کی واپسی اور اسمبلی اجلاس میں شرکت

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور،14فروری (سالار نیوز) کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی نے پارٹی وہپ جاری ہونے کے باوجود پچھلے تین دنوں سے اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کی تھی ۔ وہپ کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں کانگریس نے ان چار باغی اراکین کو اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دینے پرسوں اسمبلی اسپیکر سے شکایت کی تھی ۔ جس سے چاروں اراکین اسمبلی رمیش جارکی ہولی ، مہیش کمٹہلی ، بی ناگیندرا اور امیش جادھو چوکنا ہوگئے ہیں۔ کانگریس کے لیڈروں کی شکایت پر اگر اسپیکر رمیش کمار کارروائی کرتے تو نہ صرف ان چاروں کو اسمبلی رکنیت سے نا اہل قرار دیاجاتا بلکہ اگلے دس سال تک ان پر کسی بھی عوامی چناؤ میں حصہ لینے پر پابندی بھی عائد کردی جاتی ۔ تا دیبی کارروائی سے گھبرا کر یہ چاروں بنگلور واپس آچکے ہیں۔ ان چاروں نے آج اسمبلی اجلاس میں بھی شرکت کی ۔ ان کے علاوہ مخلوط حکومت کی تائید واپس لے لینے والے آزاد اراکین اسمبلی آر شنکر اور ناگیش جو پچھلے کئی دنوں سے غائب تھے آج ان دونوں نے بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت کی۔ پچھلے ایک مہینہ سے ممبئی میں کیمپ کئے ہوئے کانگریس کے چار اور جے ڈی ایس کے ایک باغی سمیت پانچوں اراکین اسمبلی آج اچانک بنگلور واپس آئے اور اسمبلی اجلاس میں بھی شرکت کی ۔ حالانکہ یہ اراکین اسمبلی معمول کی طرح اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے رہے ۔ ان پانچوں کے واپس آنے سے سیاست میں اب ایک نئی ہلچل پیدا ہوگئی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پانچوں اپنی اپنی پارٹیوں میں بحال رہیں گے یا اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوکر بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔ کانگریس اراکین اسمبلی کو پچھلے دنوں دی گئی ہدایت کے مطابق وہ سی ایل پی لیڈر سدارامیا سے ملاقات کرکے الجھے ہوئے معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کریں گے۔یا سدارامیا سے ملاقات کئے بغیر ہی راست اسمبلی اسپیکر سے ملاقات کرکے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیدیں گے۔یہ تصویر کھل کرابھی سامنے نہیں آئی ہے ۔ ان چاروں کے کل اور پرسوں بھی اسمبلی اجلاس میں شرکت کرکے ایوان میں ریاستی بجٹ کی منظوری تک خاموش رہ کر اسمبلی اجلاس کے بعد اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دےئے جانے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔اگر یہ چاروں اپنی اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوبھی جائیں تو کمارسوامی کی قیادت والی مخلوط حکومت کیلئے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ حکمران پارٹی کے 120میں سے 2آزاد اراکین پہلے ہی سے حکومت سے تائید واپس لے چکے ہیں۔اب اگر چار اراکین مستعفی ہوبھی جائیں تو حکومت کے پاس 114اراکین کی معمولی اکثریت رہے گی ۔آڈیو سی ڈی طوفان منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی فوری مخلوط حکومت کے خلاف آپریشن کنول کا استعمال کرنے کی ہمت نہیں کرے گی۔ سیاسی حلقوں میں یہ کہا جارہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات تک اب ریاستی مخلوط حکومت کی بقا ء کیلئے کوئی خطرہ نہیں ۔ یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ باغی یا ناراض اراکین اسمبلی کو وزارت یا سرکاری بورڈس اور کارپوریشنوں کے سربراہ بنانے کا وعدہ کرکے کانگریس نے انہیں منالیا ہے۔

 

x

Check Also

کانگریس کےسینئررہنما شیوکمارگرفتار

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چاردنوں تک چلنے والی طویل تفتیش کے بعد ...